آپﷺ سے روایت ہے کہ دو وقت ایسے ہیں جب آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں یعنی دعا کی قبولیت ہوتی ہے، جانیئے وہ وقت کونسے ہیں؟

آپﷺ سے روایت ہے کہ دو وقت ایسے ہیں جب آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں یعنی دعا کی قبولیت ہوتی ہے، جانیئے وہ وقت کونسے ہیں؟

بی کیونیوز‌!آج ہم آپ کو اللہ کی ایک رحمتِ خاص کے بارے میں بتائیں گے اور وہ رحمتِ خاص ہے آسمان کے دروازے ہمارے لیے کھلنا اور ہماری دعاؤں کی قبولیت کا ہونا یعنی اللہ کے حضور ہماری دعا ہماری التجا کس حالت کس وقت اور کس طرح سے قبول ہوگی اور اصل میں دعا کی حقیقت کیا ہے کہ جس کی وجہ سے ہم دنیا کے رنج سے چھٹکا را حاصل کرسکتے ہیں. بلکہ ہماری آخرت کو سنوارنے کا وسیلہ بھی ہے ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارا خالق مالک رازق ہے وہ رب العالمین مالک الملک ہے. تمام عزتیں عظمتیں قدرتیں خزانے ملکیتیں بادشاہتیں اس کے پاس ہیں سب کا داتا اور

داتاؤں کا داتا وہی ہے۔ ساری مخلوق اسی کی بارگاہ کی محتاج اور اسی کے دربار میں سوالی ہے جب کہ وہ عظمتوں والا خدا بے پرواہ اور تمام حاجتوں سے پاک ہے ہاں وہ جواد و کریم ہے بخشش فرماتا ہے اور کرم کے دریا بہاتا ہے ایک ایک فردِ مخلوق کو اربوں خزانہ عطا کر دے تب بھی اس کے خزانوں میں سوئی کی نوک کے برابر بھی کمی نہ ہو گی اور کسی کو کچھ عطا نہ کرے تو کوئی اس سے چھین نہیں سکتا۔ وہ کسی کو دینا چاہے تو کوئی اسے روک نہیں سکتا۔ اور وہ کسی سے روک لے تو کوئی اسے دے نہیں سکتا لیکن اس پروردگار نے کچھ اصول رکھے ہیں۔ جن اصولوں کے پیشِ نظر رکھتے ہوئے بندہ اگر دعا کرتا ہے. تو اللہ ان کی دعاؤں کو قبول فرماتا ہے اور ایک اصول جو علماء نے بتایا ہے وہ دعا کی قبولیت کا اثر رکھنے والا ہے او ر دورانِ اذان ایک ایسا کلمہ جس کا جواب دیتے ہوئے اللہ تعالیٰ تمام بندوں کی دعائیں قبول فرماتا ہے اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کو اس وظیفہ کا پورا فائدہ ہو تو میری باتوں کو ضرور سنیے گا تا کہ آپ کو وظیفے کرنے کی پوری سمجھ آ جا ئے اور آپ کی بہتر رہنمائی ہو سکے کیونکہ اگر چھوٹا سا کام رہ جائے تو وظیفہ پوری طرح اثر نہیں کرتا. ہم تمام وظیفے انسانیت کی بھلائی کے لیے لاتے ہیں ایک روایت میں آتا ہے۔ کہ آپ ﷺ سے روایت ہے کہ دو وقت ایسے ہیں کہ جب آسمان کے دروازے کھول دئیے جاتے ہیں یعنی دعا کی قبولیت ہوتی ہے ان میں سے پہلا وقت وہ ہے جب اذان ہو رہی ہو یعنی جو اذان کے وقت جو شخص بھی اپنے رب کی طرف متوجہ ہو کر جو بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اسے رد نہیں کرتا۔ اور دوسرا وقت وہ ہے جب جہاد فی سبیل اللہ یعنی وہ جہاد جو ایک شخص اپنے رب کی خوشنودی کی خاطر حق کے راستے پر چلتے ہوئے کرنے کا ارادہ کرے اور اس کے لیے صف بندی ہو تو اس وقت چاہیے کہ ہم اللہ کے حضور نہایت خوشی کے ساتھ دعا مانگی جائے.

Leave a Comment