استغفاردلوں کی صفائی اورگناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے، استغفار کے بے پناہ فوائد، قرآن وحدیث کی روشنی میں

استغفاردلوں کی صفائی اورگناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے، استغفار کے بے پناہ فوائد، قرآن وحدیث کی روشنی میں

بی کیونیوز! قرآن وسنت کی روشنی میں استغفار کے بہت سے فوائد ہیں جن میں سے چندیہاں درج ذیل ہیں. 1۔استغفار گناہوں کی بخشش کا ذریعہ ہے. ارشاد باری تعالی ہے وَمَن یَعْمَلْ سُوء اً أَوْ یَظْلِمْ نَفْسَہُ ثُمَّ یَسْتَغْفِرِ اللّہَ یَجِدِ اللّہَ غَفُوراً رَّحِیْما”جو شخص کوئی برائی کرے یا اپنی جان پر ظلم کرے پھر اللہ سے استغفار کرے تو وہ اللہ کو بخشنے والا’مہربانی کرنے والا پائے گا” (سورئہ نساء:١١٠)*2۔استغفار گناہوں کے مٹانے اور درجات کی بلندی کا ذریعہ ہے. رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”اللہ تعالی جب جنت میں

نیک بندے کے درجہ کو بلند فرمائے گا تو بندہ عرض کرے گا، پروردگار یہ مرتبہ مجھے کیسے ملا؟ اللہ تعالی فرمائے گا تیرے لئے تمہارے بچوں کے استغفار کے سبب.”(مسند احمد’شعیب ارنؤوط نے اس کی سند کو حسن قراردیا ہے) 3۔استغفار بارش کے نزول ‘مال واولاد کی ترقی اور دخول جنت کا سبب ہے. ارشاد باری تعالی ہے فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ اِنَّہُ کَانَ غَفَّاراً ‘ یُرْسِلِ السَّمَاء عَلَیْْکُمْ مِّدْرَاراً ‘ وَیُمْدِدْکُمْ بِأَمْوَالٍ وَّبَنِیْنَ وَیَجْعَل لَّکُمْ جَنَّاتٍ وَّیَجْعَل لَّکُمْ أَنْہَاراً”اور میں (نوح علیہ السلام) نے کہا (اپنی قوم سے) اپنے رب سے اپنے گناہ بخشواؤ (اور معافی مانگو)، وہ یقینا بڑا بخشنے والا ہے. وہ تم پر آسمان کو خوب برستا ہوا چھوڑدے گا۔ اور تمہیں خوب پے درپے مال اور اولاد میں ترقی دے گا اور تمہیں باغات دے گا اور تمہارے لئے نہریں نکال دے گا. (سورئہ نوح:١٠۔١٢) 4۔استغفار ہر طرح کی طاقت وقوت کی زیادتی کا ذریعہ ہے. ارشاد باری تعالی ہے وَیَا قَوْمِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوْا ِلَیْْہِ یُرْسِلِ السَّمَاء َ عَلَیْْکُم مِّدْرَاراً وَیَزِدْکُمْ قُوَّةًالَی قُوَّتِکُمْ وَلاَ تَتَوَلَّوْا مُجْرِمِیْن”اے میری قوم کے لوگو! تم اپنے پالنے والے سے اپنی تقصیروں کی معافی طلب کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو تاکہ وہ برسنے والے بادل تم پر بھیج دے اور تمہاری طاقت پراور طاقت وقوت بڑھادے اور تم جرم کرتے ہوئے روگردانی نہ کرو. 5۔استغفار سامانِ زندگی کا سبب ہے. ارشاد باری تعالی ہے وَأَنِ اسْتَغْفِرُوْا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُواْ ِلَیْْہِ یُمَتِّعْکُم مَّتَاعاً حَسَناً ِالَی أَجَلٍ مُّسَمًّی وَّیُؤْتِ کُلَّ ذِیْ فَضْلٍ فَضْلَہُاور یہ کہ تم لوگ اپنے گناہ اپنے رب سے معاف کراؤپھر اسی کی طرف متوجہ رہو. وہ تم کو وقت مقرر تک اچھا سامان (زندگی) دے گا اور ہر زیادہ عمل کرنے والے کو زیادہ ثواب دے گا. (سورئہ ہود:٣) 6۔استغفار بندے کے دنیاوی وآخروی عذاب سے بچاؤ کا ذریعہ ہے. ارشاد باری تعالی ہے وَمَا کَانَ اللّہُ لِیُعَذِّبَہُمْ وَأَنتَ فِیْہِمْ وَمَا کَانَ اللّہُ مُعَذِّبَہُمْ وَہُمْ یَسْتَغْفِرُون”اور اللہ تعالی ایسا نہ کرے گاکہ ان میں آپ کے ہوتے ہوئے ان کو عذاب دے اور اللہ ان کو عذاب نہ دے گا. اس حالت میں کہ وہ استغفار بھی کرتے ہوں. (سورئہ انفال:٣٣) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”بندہ

عذاب الہی سے محفوظ رہتا ہے جب تک وہ استغفار کرتارہتا ہے ”(مسند احمد’شعیب ارنؤوط نے اس حدیث کو حسن قراردیا ہے ) 7۔استغفار نزولِ رحمت کا سبب ہے. ارشاد باری تعالی ہے قَالَ یَا قَوْمِ لِمَ تَسْتَعْجِلُوْنَ بِالسَّیِّئَةِ قَبْلَ الْحَسَنَةِ لَوْلَا تَسْتَغْفِرُونَ اللَّہَ لَعَلَّکُمْ تُرْحَمُون”آپ نے فرمایا اے میری قوم کے لوگو!تم نیکی سے پہلے برائی کی جلدی کیوں مچارہے ہو؟ تم اللہ تعالی سے استغفار کیوں نہیں کرتے تاکہ تم پر رحم کیا جائے”(سورئہ نمل:٤٦) 8۔ استغفاردلوں کی صفائی کا ذریعہ ہے. نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ”مومن بندہ جب گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ پڑجاتا ہے اگروہ گناہ چھوڑکر توبہ واستغفار کر لیتا ہے تو اس کا دل صاف ہو جاتا ہے اور اگرگناہ پرگناہ کئے جاتا ہے. تو وہ سیاہی بڑھتی جاتی ہے. یہاں تک کہ اس کے پورے دل پر چھاجاتی ہے. یہی وہ ”رین ”ہے جس کا ذکر قرآن مجید میں ہے. (کَلَّا بَلْ رَانَ عَلَی قُلُوْبِہِمْ مَّا کَانُوا یَکْسِبُونَ) یوں نہیں بلکہ ان کے دلوں پر ان کے اعمال کی وجہ سے زنگ چڑھ گیا. (مسند احمد)

Leave a Comment