اسلامی شریعت میں صرف زن-ا کی ہی سزا اتنی سخت کیوں رکھی گئی ہے؟

اسلامی شریعت میں صرف زن-ا کی ہی سزا اتنی سخت کیوں رکھی گئی ہے؟

بی کیونیوز! کئی بار ذہنوں میں سوال اٹھتا ہے کہ شریعت میں صرف زن-ا کی سزا ہی اتنی سخت کیوں رکھی گئی. یہاں جب قرآن کی طرف رجوع کیا تو معلوم ہوا کہ جہاں صرف اللہ کے حق کا معاملہ ہوتا ہے تو اللہ نرمی کا رویہ اپناتے ہیں اور جہاں بندے کا حق اللہ کے حق سے مل جائے تو اللہ پاک سختی اختیار کرتے ہیں. دو افراد کے زن-ا کے متاثرین دو فرد، دو خاندان، دو قومیں، دو گروہ یا دو قبیلے نہیں بلکہ پوری امت ہے. ق-ت-ل کے گن-اہ کی سزا بھی ق-ت-ل ہے جیسا کہ قرآن مجید میں ارشاد ہے “ جس نے ایک انسان کو

ق-ت-ل کیا، اسے نے پوری انسانیت کو ق-ت-ل کیا” مگر یہاں آپس میں صلح صفائی کی بنیاد پر دیت کی رعایت بھی دے دی. چوری کی سزا ہاتھ کا-ٹن-ا، ڈا-کے کی سزا ق-ت-ل کی سزا ق-ت-ل ہے مگر زن-ا کی سزا یوں بھی اپنی شدت میں بڑھ کر ہے کہ یہ چھپ کر نہیں بلکہ سرِعام مجمع میں دینی ہے. اور ہر پت-ھر جسم پر ایک زخ-م بنائے گا جب تک ج-ان نہ نکل جائے اس میں حکمت یہ ہے کہ جیسے اس گن-اہ کے عمل میں اس کے جسم کے ہر ٹشو نے لطف اٹھایا تو اب م-وت بھی لمحہ لمحہ اور پل پل کی اذیت کے بعد آئے گی. یعنی زا-نی جب تک اپنے خ-ون میں غسل نہ کرے، اس کی تو-بہ قبول نہ ہوگی مگر کیا اللہ پاک اتنے بے انصاف ہیں کہ ایک گن-اہ کی اتنی بڑی سزا رکھ دی مگر اس سے بچنے کی کوئی ترکیب یا طریقہ نہ سکھایا؟ ایسا نہیں ہے. اللہ تعالٰی نے اس امت کو اپنے نبی علیہ الصلوۃ والسلام کے واسطے سے قرآن و حدیث کے ذریعے اس گن-اہ سے بچنے کے لیے پورا پلان پیش کیا ہے. احکامات کی پوری لسٹ ہے.  اور کسی کے گھر یا کمرے میں بلا اجازت مت جاؤ. بھائی بہن کے، باپ بیٹی کے، ماں بیٹے کے کمرے میں جانے سے پہلے اجازت طلب کریں. شریعت اس طرح ہمیں مزاج سکھا رہی ہے. اور آج اس حکم پر عمل نہ کرنے سے محرم رشتوں میں بھی خرابی آ رہی ہے گھر میں دو حصے رکھیں پرائیویٹ رومز یعنی ذاتی کامن رومز یعنی عام پرائیویٹ کمروں میں محرم اجازت سے اور اجنبی بالکل مت جائیں. تاکہ ایک دوسرے کو نامناسب حالت میں نہ دیکھ لیں.  یعنی ڈرائنگ روم وغیرہ میں مرد ہی مردوں کو  کریں. عورتیں بالکل مت کریں چاہے کزنز ہوں یا سسرالی رشتہ دار. مگر المیہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں کزنز کھلم کھلا فیمیل کزنز کے کمروں میں جاتے ہیں، چھیڑ خانی ہو رہی ہوتی ہے، ہنسی مذاق اور

آؤٹنگ چل رہی ہوتی ہے اور اسی دوران شی-ط-ان اپنا وار کر دیتا ہے. عورتیں یاد رکھیں مرد زبردست اور عورت زیردست ہوتی ہے کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی عورت پاک رہنا چاہے مگر مرد اس کو پاک نہ رہنے دے؟ دوسرا حکم نظر کی حفاظت نظروں کو نیچا رکھیں اور اپنی حیا کی حفاظت کریں. یہ حکم مرد عورت دونوں کے لئے ہے. عورتوں کی شادی بیاہ اور مردوں کی بازاروں میں اکثر نظر بہکتی ہے. کوئی مہمان آئے تو عورتیں جھانکتی تاکتی ہیں. باپ، بھائیوں کے دوستوں سے ہنس ہنس کر ملنا اور  ہو رہی ہوتی ہے. جبکہ شریعت تو دیکھنے سے بھی منع کر رہی ہے. مردوں، عورتوں کی یہ عادت شادی بیاہ میں کھل کر سامنے آتی ہے جب بے حیائی اپنے عروج پر ہوتی ہے. دو اندھے اگر آمنے سامنے بیٹھے ہیں تو انکو نہیں معلوم کہ سامنے والا کیسا، کتنی عمر کا ہے. مگر شریعت ایک بینا اور اندھے کو بھی آمنے سامنے بیٹھنےسے منع کرتی ہے جیسا کہ عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ والی حدیث سے ثابت ہے. عورتوں اور مردوں کو کئی بار مجبوری میں بات بھی کرنی پڑتی ہے جیسے بازار وغیرہ. تب شریعت چہرے پر نظر ڈالنے سے منع کرتی ہے. صرف پردہ کرنا مسلے کا حل نہیں بلکہ نظر بھی جھکانی ہے. امام غزالی فرماتے ہیں، “نظر سوچ کے اندر تصویر لے جاتی ہے، یہ تصویر خواہش میں بدل جاتی ہے اور پھر یہی خواہش بے حیائی کا راستہ دکھاتی ہے. “ پردہ اور چیز ہے اور زینت اورچیز.عورت کے اعضائے زینت نماز میں چھپانے والے اعضاء ہیں. کوشش کریں کہ اس فت-نہ کے دور میں محارم سے بھی زینت والے اعضاء چھپائے جائیں. اپنے سینے اور گریبان کو خصوصاً ڈھانپیے. مر-نے کے بعد اللہ تعالٰی چار کپڑوں میں عورت کو

ڈھانک کر ق-ب-ر میں بھیجنے کا کہتا ہے. ہم عورتوں نے زندگی میں دو کپڑوں کا لباس معمول بنا لیا ہے کہ اب تو بوتیکس بھی دوپٹے آرڈر پہ تیار کرتی ہیں. کیونکہ عورتیں تین کپڑے بھی پہننے پر راضی نہیں. مسلمان عورت کا غیر مسلم عورت سے بھی نماز والا پردہ ہے. یعنی سوائے چہرے، دونوں ہاتھ اور پاؤں کے باقی جسم چھپانا ہے. مگر یہاں تو ویکس بھی کروائی جاتی ہے اور فیشلز بھی. مرد حضرات پبلک یا گھر میں شارٹس نہیں پہن سکتے. آپ حیا دار ہوں گے تو گھر کی عورتیں بھی اپنی حیا کو متقدم رکھیں گی. ورنہ سب سے پہلے بگاڑ گھروں کے ماحول سے شروع ہوتا ہے. ماؤں اور بہنوں کے نامناسب لباس گھر کے لڑکوں میں حیا کی کمی کی وجہ بنتے ہیں. یاد رکھیں “جب عورت نے اپنے ستر کا خیال نہ رکھا تو محرم محرم کا دش-من بن گیا. جب اللہ کی مقرر کردہ حدود و قیود کا خیال نہیں رکھا جائے گا تو باپ بیٹیوں کو خود پہ حلال کر لیں گے ” خدارا اپنے گھروں سے فسق کا ماحول ختم کریں.

Leave a Comment