اس اسمِ اعظم کو یاد کر لو، انشاءاللہ ہر دعا فوراً قبول ہوگی، ہرکوئی اس کی تلاش میں رہتا ہے

اس اسمِ اعظم کو یاد کر لو، انشاءاللہ ہر دعا فوراً قبول ہوگی، ہرکوئی اس کی تلاش میں رہتا ہے

بی کیو نیوز! باوضو ہو کر قبلہ رخ ہو کر چارلفظوں میں سے کوئی لفظوں میں سے کوئی لفظ ضرور استعمال کرو” والھکم الہ واحد لا الہ الا ھوالرحمن الرحیم “ یہ اسم اعظم ہے. دوسرا لفظ “الم اللہ لا الہ الا ھوالحی القیوم “ تیسرا لفظ “اللھم انی اسئلک بانی اُشھِدُک انک ات اللہ لا الہ الا انت الاحدُ الصمدُ التی لم یلد ولم یولد ولم یکن لہ کفوا احد” چوتھا لفظ” اللھم لا الہ الا انت المنان بدیع السماوات والارض ذ الجلال والاکرم “ کوئی ایک اسم اعظم کی ایک تسبیح کریں اور اللہ تعالیٰ سے گڑ گڑا کر دعا مانگیں. فرمان ہے “اذادُعِیَ فَاَجَاب واذا سئلَ فاَعطی “اللہ کبھی

تمہاری دعا کو ردنہیں کریں گے۔ جو دعا کرو گے قبول ہوگی پھر اس کے بعد درود پاک پڑھیئے درود پاک پڑھنے کے بعد یقین کر کے دعا کیجئے۔ اگر کوئی بندہ مومن اللہ کی وحدانیت کے اعلان کے ساتھ ساتھ اللہ کی پاکی بیان کرتے ہوئے اللہ سے اپنی مغفرت کا طلب گار ہو تو اْسے دعائے یونسؑ کا سہارا لینا چاہئے۔ کیونکہ اس دعا میں کلمہ توحید بھی ہے، تسبیح بھی اور استغفار بھی ہے۔ موجودہ دور میں ہر کوئی گھر کاروبار اور روحانی و جسمانی تکالیف میں گرفتار ہے۔ تو اس دعاکے وسیلہ سے ہرکوئی اپنی خطاؤں کی معافی مانگ کر اللہ سے اپنے حق میں بہتر دعا کرسکتا ہے۔ مصائب اور رنج والم میں حضرت یونس ؑ کی یہ دعا پڑھنا اہل اسلام میں معمول رہا ہے ۔ اس دعا کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت یونس علیہ السلام کو عراق موصل کے علاقے نینویٰ والوں کی طرف مبعوث فرمایا تھا۔ آپؑ اپنی قوم کو ایمان و توحید کی دعوت دیتے رہے لیکن آپؑ کی قوم آپؑ کی تکذیب کرتی رہی اور کف-ر وعن-اد پر اڑی رہی۔ ایک مدت کی تبلیغ کے بعد جب آپؑ بالکل مایوس ہوگئے کہ قوم ایمان لانے والی نہیں اور عذ-ابِ الٰہی کا وقت قریب آگیا تو آپؑ اپنی قوم کو تین دن کے بعد عذ-ابِ الٰہی کی وعید سنا کر اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وہاں سے نکل گئے۔ اور مشکل سے دوچار ہوئے۔ اللہ تعالیٰ نے آپؑ کو مچھلی کے پیٹ میں قید کر دیا۔ اس پر سورہ القلم میں ارشاد باری تعالٰی ہے پس اپنے رب کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو اور مچھلی والے (یونس علیہ اسلام) کی طرح نہ ہو جاؤ، جب اْس نے پکارا تھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔

Leave a Comment