اللہ تعالٰی جن لوگوں کی “قسم” کو نہیں ٹالتا

اللہ تعالٰی جن لوگوں کی "قسم" کو نہیں ٹالتا

بی کیو نیوز!  آپ کو یہ پڑھ کر حیرت ہوگی کہ دنیا میں یہ عظیم مرتبہ و مقام پانے والا عاشق امیر کبیر نہیں بلکہ ایک غریب شتر بان ہے لوگ اس کی غریبی کا مذاق اڑاتے اور اسے دیوانہ کہتے تھے غربت کی وجہ سے ان سے کوئی رشتہ داری اور تعلق نہ رکھتا تھا۔ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی پاکﷺنے فرمایا: کتنے بکھرے بالوں والے، غبار آلودہ، پھٹے پرانے کپڑوں والے، جنہیں لو گ نظر حقارت دیکھتے ہیں اگر اللہ تعالیٰ پر قسم کھالیں تو اللہ تعالیٰ

انہیں اس میں سچا کردے۔ ان فقیروں کی حالت ظاہری دنیا میں جاننے کی بجائے عاشق ِ رسول ﷺ کی روحانی اور باطنی زندگی کا مطالعی اور ان سے محبت کرنے سے ہی آپ عاشق رسول ﷺ کےمقام کو جان سکتے ہیں۔ حضور پاکﷺ نے جب اپنے صحابہ کرام سے خواجہ اویس قرنی رحمتہ اللہ علیہ سے ملاقات کا حکم دیا تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ اور جب بالآخر حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی خلافت میں حج کے موقعہ پر اس عاشق رسول کی تلاش شروع کی حضرت اسیر بن جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی حج کےلیے آیا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اس سے اویس سے متعلق پوچھا تو اس آدمی نے جواب دیا میں حضرت اویس کو ایسی حالت میں چھوڑ کر آیا کہ ان کا گھر ٹوٹا پھوٹا اور ان کے پاس نہایت کم سامان تھا۔ انہوں نے حج کے موقعہ پر آنے والے تمام مسلمانوں کو خطاب کیا اور فرما یا ! تم میں سے جو یمن سے آئے ہیں وہ کھڑے ہوجائیں پھر فرمایا جو قرن سے آئے ہیں وہ کھڑے ہو جائیں اور دوسرے بیٹھ جائیں تمام بیٹھ گئے لیکن ایک انیس نامی ضعیف آدمی کھڑا رہا جو اویس کے چچا تھے۔ حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم اویس کو جانتے ہو اس بوڑھے نے کہا میں جانتا ہوں یہ شخص میرا عزیز ہے۔ غریب اور دیوانہ سا آدمی ہےلیکن اس سے کم کوئی حقیر نہیں ہوسکتا وہ آبادی سے باہر رہتا ہے کسی کے پاس نہیں جاتا جب لوگ روتے ہیں تو وہ ہنستا ہےجب لوگ ہنستے ہیں تو وہ روتا ہے غم اور خوشی کچھ نہیں جانتا وہ ہمارے اونٹوں کا چرواہا ہے نہایت ہی ادنی آدمی ہے اس کی کم حیثیت ہے جو امیرالمومنین کی شان کے خلاف ہے۔ کہ آپ اس کو یاد فرمائیں اور شرف ملاقات بخشیں ۔ بوڑھے شخص کا جواب سن کر فاروق اعظم کی آنکھوں میں آنسو جاری ہوگئے آپ نے ا پنے آنسوؤں کو جذب کرتے ہوئے بڑے عاجزانہ لہجے میں فرمایا ہاں میں ایسے شخص سے ملنا باعث فخر اور برکت سمجھتا ہوں کیونکہ نبی کریم ﷺ نے ایسے مستور بندوں کو اپنا دوست سمجھا ہے ۔ جن کے چہرے مرجھائے ہوئے،

بال بکھرے ہوئے اور گرد آلود ، شکم سوکھ کر پیٹھ سے لگ گئے ہوں جب وہ کسی بادشاہ کے پاس جاتا ہے تو درباری ان کو اندر نہیں جانے دیتے، جب وہ نکاح کرنا چاہیے تو ان کے ساتھ کوئی نکاح نہ کر ے ‘ دنیا والے ان کو حقارت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اگر اللہ کے بر گزید ہ بندے بیمار پڑھ جائیں ان کی تیمار داری کے لیے نہیں جاتے ۔ اگر گم ہوجائیں تو تلاش کے لیے نہیں نکلتے اگر اللہ کے پیارے مستور بندے مرجائیں تو ان کے جنازے کو پڑھنے کےلیے تیار نہیں۔

Leave a Comment