اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: ”اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے”

اللہ تعالیٰ قرآن مجید میں ارشاد فرماتے ہیں: ''اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے''

بی کیونیوز! ہر وہ انسان دھوکے میں ہے جو کوشش کے بغیر کسی بھی کامیابی کے لیے اللہ پر بھروسہ رکھتا ہے. کیا وہ پیارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی تریسٹھ سالہ زندگی کی طرف نہیں دیکھتے. جو ساری کی ساری مسلسل جدوجہد، مشکلات اور صبر سے بھری پڑی ہے. جس کے ہر پہلو میں ہمارے لیے سبق اور نصیحت ہے. جتنی دیر تک مسلمانوں کا عروج رہا وہ صرف علم سے نہیں عمل سے ہی رہا ہے علم تو شائد آج پہلے سے بھی زیادہ ہے لیکن عمل نہیں ہے. (ہے نہ یہ سوچنے والی بات) آج کا مسلمان کبھی

بھی اتنا بے بس، لاچار، اور مجبور نہ ہوتا. اگر وہ عمل والا ہوتا. یاد رکھیں جس کو جو بھی ملے گا عمل سے ہی ملےگا چاہے وہ دنیا ہو یا آخرت. اور دنیا کی زندگی تو دھوکے کا سامان ہے” ۔ یہ آیت 185 سورۃ آلِ عمران. اللہ تعالیٰ انسان کو بتلا رہا ہے کہ دنیا کی زندگی دھوکے کا سامان ہے، لفظ ” دھوکہ ” کی تفہیم ایک بہتر زندگی بسر کرنے کیلیے نہایت ضروری ہے۔ آیئے سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں، کوئی شخص آپ کو نوٹوں سے بھرا بریف کیس دے اور کہے کہ اس میں ایک کروڑ ڈالرز ہیں، آپ کے پاس ایک دن یا اس بھی کم وقت ہے اسے خریداری کر لیں، میڈیا کے نمائندے آپ کی اس کاروائی کو لائیو دکھا رہے ہوں، آپ نے اپنے دوست احباب بھی اکٹھے کیے ہوں۔ اور آپ ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور میں داخل ہوتے ہیں، من پسند اشیاء کا ایک ڈھیر لگواتے جاتے ہیں جب دور و نزدیک سے تمام اشیا ایک جگہ جمع ہوجائیں اور آپ بریف کیس کھولیں تو تمام کے تمام نوٹ جعلی ہوں، تو جو کییفت اس وقت ہو اسے ” دھوکہ ” اور شرمندگی کہہ سکتے ہیں، یہ دنیا بھی ایک ڈیپارٹمنٹل سٹور ہے اللہ تعالیٰ کے کیمرامین ہماری ہر اکٹیویٹی کو ایک اور دنیا میں لائیو دکھا رہے ہیں اور اسٹور کر رہے ہیں ہم تمام عمر اللہ کے دیے ہوئے رزق سے یہاں کا مال و متاع جمع کرتے ہیں اور سانسوں کی کرنسی ختم ہوتی جاتی ہے اور جاتے وقت محض کفن کا ایک ٹکڑا ہمراہ لے کر جاتے ہیں، انسان ایک کفن کمانے اس دنیا میں آتا ہے لیکن وہ بھی نہیں خرید پاتا وہ بھی اس کے عزیز رشتہ دار اسے ڈالتے ہیں، سو دوستو اس ” دھوکے ” کی اصلیت سمجھو۔ وما علینا الابلاغ ۔

Leave a Comment