اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے لوگوں کے مال کوتباہ وہلاک کردیاجاتاہے

اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے لوگوں کے مال کوتباہ وہلاک کردیاجاتاہے

بی کیونیوز! قرآن پاک سے معلوم ہوتاہے کہ اللہ تعالیٰ کی راہ میں خرچ نہ کرنے والے لوگوں کے مال کوتباہ وہلاک کردیاجاتاہے۔ چنانچہ قرآن میں باغ والوں کاقصہ نقل کیاگیاہے۔ جس کاخلاصۂ تفسیریہ ہے کہ ملک یمن میں حبشہ میں ایک شخص کاباغ تھا۔ وہ اس باغ کے پھل کا ایک بڑا حصہ غریبوں مسکینوں میں صرف کرتاتھا۔ جب وہ مرگیا اور اس کی اولاد اس کی وارث ہوئی۔ تو ان لوگوں نے کہا کہ ہمارا باپ احمق تھا کہ اس قدر آمدنی مسکینوں کو دے دیتاتھا۔ اگر یہ سب باقی رہے توکس قدر

فراغت ہوگی۔ چناںچہ ایک مرتبہ قسم کھاکریہ کہنے لگے کہ کل صبح چل کر باغ کاپھل ضرور توڑ لیں گے۔ ’’ انشاءاللہ ‘‘ بھی نہ کہا اورسوگئے۔ صبح اٹھ کر ایک دوسرے کو چلنے کے لیے پکارنے لگے کہ اپنے کھیت پرسویرے چلو، اگرتم کو پھل توڑناہے۔ پھر آپس میں چپکے چپکے باتیں کرتے چلے آئے کہ تم تک کوئی مسکین نہ آنے پائے، جب باغ کے پاس پہنچے اوریہ دیکھا کہ باغ توپورا صاف ہوگیا ہے اورکوئی چیزموجود ہی نہیں ہے اور ایسا لگ رہاہے۔ جیسے کھیت کوکاٹ لینے کے بعد جلاکر صاف کردیاجاتاہے۔ توکہنے لگے ہم راستہ بھول کر کسی اورجگہ آگئے ہیں۔ پھر جب غورکرنے کے بعد یقین ہواکہ یہی ہمارے باغ کی جگہ ہے۔ ہم بھولے نہیں ہیں۔ توکہنے لگے کہ { بَلْ نَحْنُ مَحْرُوْمُوْنَ } کہ ہماری قسمت ہی پھوٹ گئی ہے، پھرآپس میں ایک دوسرے پرملامت کرنے لگے۔ (معارف القرآن : ۸ ؍ ۶ ۲ ۵: روح المعانی : ۲۹ ؍ ۲۳ – ۲۴ :تفسیرالقرطبي : ۲۰ ؍ ۲۴۰ ) علما نے تصریح کی ہے کہ ان پر یہ عذاب اسی لیے آیا کہ انھوں نے مساکین کاحق، جواللہ نے فرض کیاہے، وہ ادا نہیں کیا۔ علامہ قرطبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں: یہ سزا اس سبب سے ہوئی ہے کہ انھوں نے مساکین ( کاحق دینے سے ) انکار کا ارادہ کیا تھا۔ ( تفسیرالقرطبي : ۲۰ ؍ ۲۴۰ ) حاصل یہ ہے کہ ہمارے اموال کی تباہی اوردوسروں کاان پرقبضہ کرلینا، یہ سب اس لیے ہوتاہے کہ زکوۃ جیسا اہم فریضہ ہماری کوتاہی وغفلت کی نذر ہو جاتا ہے۔

Leave a Comment