امام غزالی فرماتے ہیں، جس مرد نےعورت کو د یکھےبغیر نکاح کرلیا۔ ۔ ۔!!!

امام غزالی فرماتے ہیں، جس مرد نےعورت کو د یکھےبغیر نکاح کرلیا۔ ۔ ۔!!!

بی کیونیوز! سب سے اعلیٰ درجے کی دولت زبان ِ ذاکر، دل ِشاکر اور زن فرما بردار ہے۔ تکلف بڑھ جائے تو یہ محبت میں کمی کا باعث بن جاتا ہے۔ خود کو سب سے بہتر سمجھنا جہالت ہے ۔ ہر شخص کو اپنے آپ سے بہتر سمجھو۔ نکاح سے پہلے لڑکی کو دیکھ لینا سنت ہے۔ جس نے عورت کو دیکھے بغیر اس سے نکا ح کرلیا اس کا انجام پریشانی اور غم ہے۔ جب کوئی صاحب عقل وہوش کسی کا مال ضائع کرتا ہے تو یہ بہت بڑا ظلم اور گناہ ہے۔ اگر انسان کی عمر سو سال کی ہو

اور روئے زمین کی ساری سلطنتیں یعین مشرق سے مغرب اسے دے دی جائے اور کوئی اس کا مخالف بھی نہ ہو تو آخرت کی دولت کے مقابلہ میں اس کی کچھ حیثیت نہ ہوگی۔ اعمال کی اصل اعضاءرئیسہ ہے۔ نیک عمل سے دل میں نور پیدا ہوتا ہے۔ اور عمل بد سے اس میں ظلمت اور تاریکی پیدا ہوتی ہے۔ جو شخص اپنا مال تکلف سے دیتا ہے اس کو سخی نہیں کہتے بلکہ سخی وہ ہے کہ مال کا دینا اس پر گراں نہ ہو۔ آدمی کی سعادت یہ ہے کہ ملائکہ کی صفت حاصل کرے کیونکہ وہ ان کے جو ہر سے بنا ہے اور اس عالم میں پردیسی کی طرح آیا ہے اور اس کا اصل ٹھکانہ فرشتوں کا مقام ہے۔ عورتوں کو ضعف اور ستر سے پیدا کیا گیا ہے ضعف کا علاج خاموشی اورستر علاج پردہ ہے۔ کبھی غصے میں بھی طلاق کا لفظ زبان پر نہ لاؤ اللہ کو یہ امر سخت ناپسند ہے اور عورت کی دل شکنی کا موجب ہے۔ اہل وعیال کےکسب حلال کرنا ابدالوں کا کام ہے اور ان کو صلاحیت سے رکھنا اور ادب سے سکھانا جہاد سے افضل ہے۔ سب سے بڑی جہالت اپنے آپ کو سمجھدار سمجھنا ہے۔ ناواجب احتیاط باعث ِ تکبر اور نشان غرور ہے۔ زیادہ کھائے گا تو خواہش کےلیے ہوجائے گا کیونکہ عبادت سے غافل ہوگا او ریہی نفس کی خواہش ہے۔ مسئلہ تقدیر ایک مشکل مسئلہ ہے اس پر بحث نہ کرو۔ بدخلق سے دشمنی پیدا ہوتی ہے اور دشمنی سے جفا کاری۔ حسد خباثت قلب کو ظاہر کرتا ہے۔ حاسد دشمن پر پتھر پھینکتا ہے مگر وہ واپس اسی کو لگتا ہے اور دشمن ہنستا ہے۔ بعض احمق اس غم میں گھلتے رہتے ہیں کہ اللہ نے فلاں کو دولت کیوں دی۔ اللہ پاک کا ہر فیصلہ عقل و عدل پر مبنی ہوتا ہے اس لیے کبھی بھی حرف شکایت لب پر مت لاؤ۔ بچوں کی اصلاح مکتب میں ہوتی ہے اور عورت کی اصلاح گھر میں۔۔ جس کا لباس ضعیف اور ہلکا ہوگیا اس کا ایما ن بھی ضعیف ہوگا۔ فقیر یا قرابت دار کو صدقہ دے کر نہ جتاؤ بلکہ قبول کرنے پر اس کے احسان مند رہو کیونکہ اس نے تمہارے لیے ذخیرہ آخرت جمع کیا۔ امیروں اور بادشاہوں سے

میل جول نہ رکھو جو دین سے نفور اور شریعت سے دورہو۔ بھو ک سے پہلے کھانا مکروہ ہے۔ وہ عورت سب سے بدتر ہے جس میں امیر بلائیں اور غریبوں اور مسکینوں کو نہ بلائیں۔ انسان کی دولت تمع اور حرص، علم و دانش کو بھی ضائع کردیتی ہے

Leave a Comment