انسانی روح کی حقیقت وماہیت، قرآن کی روشنی میں

انسانی ر-وح کی حقیقت وماہیت، قرآن کی روشنی میں

بی کیونیوز! ر-وح انسانی کیا چیز ہے؟ اس کی ماہیت و حقیقت کیا ہے؟ یہ سوال صحیحین کی روایت کے موافق یہ-ود مدینہ نے آنحضرت ﷺ کے آزمانے میں کیا تھا۔ اور “سیر” کی روایات سے معلوم ہوتا ہےکہ مکہ میں قریش نے یہ-ود کے مشورہ سے یہ سوال کیا۔ اسلئے آیت کے مکی اور مدنی ہونے میں اختلاف ہے ، ممکن ہے نزول مک-رر ہوا ہو ، واللہ اعلم۔ یہاں اس سوال کے درج کرنے سے غالبًا یہ مقصود ہوگا کہ جن چیزوں کے سمجھنے کی ان لوگوں کو ضرورت ہے ادھر سے تو اعراض کرتے ہیں اور غیر ضروری مسائل میں

ازراہ تعنت و عن-اد جھ-گڑ-تے رہتے ہیں ۔ ضرورت اس کی تھی کہ و-حی قرآنی کی ر-وح سے باطنی زندگی حاصل کرتے اور اس نسخہ شفا سے فائدہ اٹھاتے ” اور اس طرح ہم ے تمہارے پاس اپنے حکم سے ایک ر-وح بطور و-حی نازل کی ہے”(شوریٰ ۔۵۲)”وہ اپنے حکم سے فرشتوں کو اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اس زندگی بخشنے والی ر-وح (و-حی) کیساتھ اتارتا” (نحل۔۲) مگر انہیں دو-رازکار اور معاندانہ بحثوں سے فرصت کہاں موضح القرآن میں ہے کہ “حضرت کو آزمانے کو یہ-ود نے پوچھا ، سو اللہ نے (کھول کر) نہ بتایا کیونکہ ان کو سمجھنے کا حوصلہ نہ تھا۔ آگے پیغمبروں نے بھی مخلوق سے ایسی باریک باتیں نہیں کیں۔ اتنا جاننا کافی ہے کہ اللہ کے حکم سے ایک چیز ب-دن میں آ پڑی ، وہ جی اٹھا ، جب نکل گئ م-ر گیا” اھ (تنبیہ) حق تعالیٰ کا کلام اپنے اندر عجیب و غریب اعجاز رکھتا ہے ۔ ر-وح کے متعلق یہاں جو کچھ فرمایا اس کا سطحی مضمون عوام اور قاصر الفہم یا کجرو معاندین کے لئے کافی ہے۔ لیکن اسی سطح کے نیچے ان ہی مختصرًا الفاظ کی تہ میں ر-وح کے متعلق وہ بصیرت افروز حقائق مستور ہیں جو بڑے سے بڑے عالی دماغ نکتہ رس فلسفی اور ایک عارف کامل کی راہ طلب و تحقیق میں چراغ ہدایت کا کام دیتی ہیں۔ ر-وح کے متعلق عہد قدیم سے جو سلسلہ تحقیقات کا جاری ہے وہ آج تک ختم نہیں ہوا، اور نہ شاید ہو سکے۔ ر-وح کی اصلی کنہ و حقیقت تک پہنچنے کا دعویٰ تو بہت ہی مشکل ہے۔ کیونکہ ابھی تک کتنی ہی محسوسات ہیں جن کی کنہ و حقیقت معلوم کرنے سے ہم عاجز رہے ہیں۔ تاہم میرے نزدیک آیات قرآنیہ سے ر-وح کے متعلق ان چند نظریات پر صاف روشنی پڑتی ہے۔ (۱) انسان میں اس مادی جس-م کےعلاہ کوئی اور چیز

موجود ہے جسے “ر-وح” کہتے ہیں وہ “عالم امر” کی چیز ہے اور خدا کے حکم و ارادہ سے فائز ہوتی ہے (نحل۔۴۰) (۲) ر-وح کی صفات علم و شعور وغیرہ بتدریج کمال کو پہنچتی ہیں اور ار-واح میں حصول کمال کے اعتبار سے بےحد تفاوت و فرق مراتب ہے۔ حتٰی کہ خدا تعالیٰ کی تربیت سے ایک ر-وح ایسے بلند اور اعلیٰ مقام پر پہنچ جاتی ہے جہاں دوسری ار-واح کی قطعًا رسائی نہ ہو سکے۔ جیسے ر-وح محمدی ﷺ پہنچی۔ (سورۃ الاسرا۔88) (۳) مگر اس کے یہ کمالات ذاتی نہیں۔ وہاب حقیقی کے عطا کئے ہوئے ہیں اور محدود ہیں۔ ر-وح انسانی خواہ علم و قدرت وغیرہ صفات میں کتنی ہی ترقی کر جائے حتٰی کہ اپنے تمام ہم جن-سو-ں سے گوئے سبقت لے جائے پھر بھی اس کی صفات محدود رہتی ہیں صفات باری کی طرح لا محدود نہیں ہو جاتیں۔ اور یہ ہی بڑی دلیل اس کی ہے کہ آریوں کے عقیدہ کے موافق ر-وح خدا سے علیحدہ کوئی قدیم و غیر مخلوق ہستی نہیں ہو سکتی۔ ورنہ تحدید کہاں سے آئی ۔ (۴) کتنی ہی بڑی کامل ر-وح ہو ، حق تعالیٰ کو یہ قدرت حاصل ہے کہ جس وقت چاہے اس سے کمالات سلب کر لے ۔ گو اس کے فضل و رحمت سےکبھی ایسا کرنے کی نوبت نہ آئے۔87 (سورۃ الاسراء)

Leave a Comment