آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر کوئی بھی آدمی یقین رکھنے والا، اگر وہ یہ آیات پہاڑ پر بھی پڑھے گا تو وہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے پھٹ سکتا ہے

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر کوئی بھی آدمی یقین رکھنے والا، اگر وہ یہ آیات پہاڑ پر بھی پڑھے گا تو وہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے پھٹ سکتا ہے

بی کیونیوز! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں آیات کے بارے میں ارشاد فرمایا کہ مجھے قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر کوئی بھی آدمی یقین رکھنے والا ہو یقین کے ساتھ اگر وہ یہ آیت پڑھ لے گا اور پہاڑ پر بھی اگر یہ آیت پڑھے گا تو وہ پہاڑ بھی اپنی جگہ سے پھٹ سکتا ہے. گھر میں کوئی نہ کوئی چھوٹی موٹی بیماریوں ہوتی ہیں۔ کوئی بھی انسان انکار نہیں کر سکتا کہ اس کے گھر میں بیماری نہیں ہے۔ ہر انسان کے گھر میں چھوٹی موٹی بیماری، سردرد اچانک ہو جاتا ہے بعض اوقات کچھ درد ہو جاتا ہے تو آپ

صبح نہار منہ اس کو سات مرتبہ پڑھ کر پانی پر دم کرکے پی لے انشاءللہ بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ وہ آیت مبارکہ یہ ہے. اَ فَحَسِبتُم اَنَّمَا خَلَقنٰکُم عَبَثاً وَّ اَنَّکُم اِلَینَا لَا تُرجَعُونَ o فَتَعٰلَی اللّٰہُ المَلِکُ الحَقُّ ۵ لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ ۵ رَبُّ العَرشِ الکَرِیمِo وَ مَن یَّدعُ مَعَ اللّٰہِ اِلٰھاً اٰخَرَ لَا بُرھَانَ لَہ بِہٰ ۱ اِنَّہ لَا یُفلِحُ الکٰفِرُونَ o وَ قُل رَّبِّ اغفِر وَ اَ ر حَم وَ اَنتَ خَیرُ الرّٰحِمِین o (سورہ المومنون : آیت 110 تا 118)۔ کوئی بھی بیمار ہو آپ اس کے دونوں کانوں میں یہ آیت مبارکہ پڑھ لیں۔ اگر کوئی نہیں پڑھ سکتا اور اس پر دم کر دیجئے اللہ کے حکم سےا سے بہت زیادہ فائدہ حاصل ہوگا۔ موجودہ حالات میں جو وائرس پھیلا ہوا ہے اس میں تو آج چلتے پھرتے اس دعا کو پڑھیں انشاءاللہ اللہ پاک آپ کو اس وائرس سے بھی حفاظت فرمائیں گے اور یہاں پر ایک اور بات میں بتانا بہت ضروری سمجھتا ہوں کہ بہت سارے لوگ جب کوئی دعا سکھاتا ہوں یا دعا بتاتا ہوں تو اس طرح کی باتیں کریں گے کہ دل دکھتا ہے، ایسے لوگوں کے ایمان بہت زیادہ کمزور ہوتے ہیں۔ یہاں ایک بات یاد رکھیں کہ ہم کرونا وائرس کی دوا کا انتظار کر رہے ہیں۔ ہمیں کوشش بھی کرنی ہے لیکن میری حیثیت تو یہی دعا کرنے کی ہے نہ کہ اللہ مجھے دوا عطا کردے میری حیثیت تو نہیں ہے کہ میں دوا کو ایجاد کر سکوں لیکن جو کرنے والے ہیں ایسے اسباب حکومتوں کو دینی چاہیے اور دعا بھی کرتے رہنا چاہیے. تاکہ اللہ پاک انسانیت کے لیے اس بیماری کو اس بیماری سے شفا عطا فرمائے. لیکن یہ اعتماد اور ساتھ یہ یقین رکھنا ہے کہ شفا کبھی بھی دوائی کے ساتھ نہیں ہوتی شفا بھی اللہ ہی دیتا ہے۔ تفسیر کبیر میں امام رازی فرماتے ہیں کہ حضرت موسی علیہ السلام کو ایک مرتبہ پیٹ میں درد ہوا کلیم اللہ رب العزت نے ارشاد فرمایا کہ فلاں جنگل میں فلاں جڑی بوٹی جا کر کھائیے آپ کو شفا مل جائے گی، وہ چلے گئے، کھائی شفا مل گئی، پھر کسی موقع پر پھر درد محسوس ہوا اب اللہ سے کلام نہیں کیا سوچا کہ وہی علاج ہوگا وہی دوا ہوگی، وہ چلے گئے اور وہاں جاکر جڑی بوٹی کھائی، بیماری بڑھ گئی تھی ختم نہیں ہوئی ۔اللہ کی بارگاہ میں ارض کیا اور اللہ نے ارشاد فرمایا کہ موسیٰ میں تمہیں یہی بتانا چاہتا ہوں کہ دوا بیماری کو دور نہیں کرتی دعا کبھی شفا نہیں دیتی، شفا تو اللہ کے حکم سے ہوتی ہے، اللہ حکم دیتے ہیں پھر شفا ہوتی ہے، پہلے اللہ کے حکم سے گئے تھے شفا نصیب ہوئی تھی، اب میرے حکم سے

نہیں گئے تو شفا نصیب نہیں ہوئی۔ ویکسین آجائے، آج یہ بھی ایک نظریہ موجود ہے کہ ویکسین تیار کرنے والے اس انداز سے تیار کریں کہ اس سے ہزاروں اور بیماریاں پیدا ہو جائیں گی۔ بل گیٹس نے یہ کہا ہے جس کا نام لیا جاتا ہےکہ شاید جہاں سے یہ وائرس کا آغاز ہوا اس کوفنڈ کرنے والی یہ شخصیت ہیں۔ اس نے کہا ہے کہ ویکسین زیادہ خطرناک ہو سکتی ہے. آج سارے لوگ ویکسین کے لیے دعا کر رہے ہیں کل ویکسین آجائے وہ اس سے زیادہ خطرناک ہو جائے پھر ہم کیا کریں گے؟ یہاں دیکھیں کہ دعا میں شفاءاللہ پیدا کرتے ہیں۔ امام غزالی ایک روایت میں بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ کی بارگاہ سے عرض کیا اے میرے مولا اگر شفاء تو دیتا ہے تو پھر یہ طبیب ڈاکٹر یہ معالج کیا کرتے ہیں؟ کہا یہ ان کے رزق کا ذریعہ ہے جو اللہ نے اپنی جناب سے رکھا ہے۔ وہ بیمار کو تسلی اور اطمینان دلاتے ہیں. باقی شفا دینے والی اللہ کی ذات ہے۔ آپ خود ہوسپیٹل میں دیکھ لیں کتنے لوگ جاتے ہیں. ہاسپیٹل میں اور وہاں سے ڈیڈبوڈی واپس آتی ہیں۔ پوری دنیا میں کوئی ایک ایسا ہوسپیٹل بتا دیں جو یہ دعویٰ کرے اور ادھر میرے پاس آنے والا کوئی مریض ایسا نہیں جو موت کی کیفیت میں باہر گیا ہو۔ بہت ساری باتیں واضع ہیں ہمیں اس میں پڑنے کی ضرورت نہیں ہے.

Leave a Comment