اہلِ جنت کا کھانا پینا کیسا ہو گا؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں

اہلِ جنت کا کھانا پینا کیسا ہو گا؟ قرآن وحدیث کی روشنی میں

بی کیونیوز! اہلِ جنت کا کھانا پینا کیسا ہو گا۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:(ِنَّ أَھلَ الجَنَّةِ یَأکُلُونَ فِیہَا وَیَشرَبُونَ، وَلاَ یَتفَلُونَ، وَلاَ یَبُولُونَ وَلاَ یَتَغَوَّطُونَ وَلاَ یَمتَخِطُونَ) قَالُوا: فَمَا بَالُ الطَّعَامِ؟ قَالَ: (جُشَاءٌ وَرَشحٌ کَرَشحِ المِسک، یُلہَمُونَ التَّسبِیحَ وَالتَّحمِیدَ کَمَا تُلہَمُونَ النَّفَسَ) (رواہ مسلم: 2835) “بےشک اہل جنت جنت میں کھائیں پییں گے۔ اور نہ تھوکیں گے اور نہ بول وبراز کریں گے۔ اور بلغم سے پاک ہوں گے۔” صحابہ کرام نے کہا: ان کا کھانا کہاں جائےگا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ان کا

کھانا محض ایک ڈکار ہوگا اور پسینہ ہوگا جس سے کستوری کی خوشبو آئےگی۔ انہیں تسبیح وتحمید کا الہام کیا جائےگا جیسا کہ تمھیں سانس کا الہام کیا جاتا ہے۔” حضرت ابو امامہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: “بے شک اہل جنت میں سے ایک شخص جنت کے مشروبات میں سے کچھ پینا چاہےگا تو ایک جگ خود بخود اس کے ہاتھ میں آ جائےگا۔ جب وہ پی لےگا تو پھر وہ خود اپنی جگہ پر واپس لوٹ جائےگا۔” (رواہ ابن أبی الدنیا وحسّنہ الألبانی) اسی طرح وہ کہتے ہیں: “بےشک اہل جنت میں سے ایک آدمی جنت کے پرندوں میں سے کسی پرندے کی خواہش کرےگا تو وہ خود ٹک-ڑے ٹک-ڑے ہو کر بھ-ونا ہوا اس کے سامنے آ جائےگا۔” (رواہ ابن أبی الدنیا موقوفاً وذکرہ الألبانی فی صحیح الترغیب) ارشاد باری تعالیٰ ہے: )ُاوْلَئِكَ لَهُمْ جَنَّاتُ عَدْنٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهِمُ الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَيَلْبَسُونَ ثِيَابًا خُضْرًا مِّن سُندُسٍ وَإِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِئِينَ فِيهَا عَلَى الْأَرَائِكِ نِعْمَ الثَّوَابُ وَحَسُنَتْ مُرْتَفَقًا) (الکھف:31) “ان کو ہمیشہ رہنے والے باغات ملیں گے جن کے نیچے نہریں جاری ہوں گی۔ وہاں انھیں سونے کے زیورات پہنائے جائیں گے اور وہ باریک اور دبیز ریشم کے ہرے کپڑے پہنیں گے۔ وہ ان میں آرام دہ کرسیوں پر ٹیک لگائے ہوئے ہوں گے۔ کتنا اچھا بدلہ ہوگا۔ اور جنت اچھی آرام گاہ ہوگی۔” اسی طرح اس کا فرمان ہے: (عَالِيَهُمْ ثِيَابُ سُندُسٍ خُضْرٌ وَإِسْتَبْرَقٌ وَحُلُّوا أَسَاوِرَ مِن فِضَّةٍ وَسَقَاهُمْ رَبُّهُمْ شَرَابًا طَهُورًا) (الدھر:21) “ان کے جسموں پر سبز باریک اور موٹے ریشمی کپڑے ہوں گے اور انھیں چاندی کے کنگن کا زیور پہنایا جائےگا۔ اور انھیں ان کا رب پاک صاف ش-را-ب پلائےگا۔” نیز اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: (إِنَّ اللہَ يُدْخِلُ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِن تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ يُحَلَّوْنَ فِيهَا مِنْ أَسَاوِرَ مِن ذَهَبٍ وَلُؤْلُؤًا وَلِبَاسُهُمْ فِيهَا حَرِيرٌ) (الحج:23) “ایمان والوں اور

نیک عمل کرنے والوں کو اللہ تعالیٰ ان جنتوں میں لے جائےگا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں انھیں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے اور سچے موتی بھی۔ وہاں ان کا لباس خالص ریشم ہوگا۔” اسی طرح حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: (مَن یَّدخُلُ الجَنَّةَ یَنعَمُ وَلاَ یَبأسُ، لاَ تَبلٰی ثِیَابُہُ، وَلاَ یَفنیٰ شَبَابُہُ) (رواہ مسلم:2836) “جو شخص جنت میں داخل ہوگا وہ خوشحال رہےگا اور کبھی کوئی دکھ نہیں دیکھےگا۔ اس کا لباس کبھی پرانا نہیں ہوگا اور اس کی جوانی کبھی ختم نہیں ہوگی۔” رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے: “جنت میں جو پہلا گروہ داخل ہوگا ان کے چہرے ایسے چمک رہے ہوں گے جیسے چودھویں رات کا چاند چمکتا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے لیے موٹی موٹی آنکھوں والی حوروں میں سے دو بیویاں ہوں گی۔ ہر بیوی پر ستر زیورات ہوں گے۔ اوراس کی پنڈلیوں کا گودا اس کے گوشت اور زیورات کے پیچھے سے نظر آرہا ہوگا۔” (رواہ الطبرانی والبیھقی وقال الألبانی فی صحیح الترغیب: صحیح لغیرہ)

Leave a Comment