ایک صحابی رسولؐ شادی کی رات بیوی کوچھوڑ کرعبادت میں مشغول ہوگئے تو آپﷺ نے کیا حکم دیا؟ وہ بات جو تمام مسلمان مردوں کو ضرور معلوم ہونی چاہئے

ایک صحابی رسولؐ شادی کی رات بیوی کو چھوڑ کر عبادت میں مشغول ہوگئے تو آپﷺ نے کیا حکم دیا؟وہ بات جو تمام مسلمان مردوں کو ضرور معلوم ہونی چاہئے

بی کیونیوز! حضوراکرم ؐ مسجدمیں تشریف فرماتھے توآپ ؐ نے کہا کہ اس درواز ے سے ایک جنتی آنے والاہے تو تھوڑی دیربعدایک انصاری صحابی داڑھی میں وضو کا تازہ پانی لگا ہو اور الٹےہاتھ میں جوتا پکڑا ہوا داخل ہوئے، اگلے دن پھرآپ ؐ نے فرمایا کہ اس دروازے سے ایک جنتی داخل ہونے والاہے، دوسرے دن بھی وہی صحابی اور اسی حالت میں تیسرے دن پھرآپ ؐ نےفرمایا کہ اس درواز ے سے ایک جنتی داخل ہوگا۔ پھروہی صحابی تینوں دن ایک آدمی. اس مجلس میں ایک صحابی بیٹھے تھے۔ عبداللہ بن امریہ صحابی

سب سے زیادہ عبادت کرنے والے تھے۔ ساری رات تہجد پڑھتےاورساراسال روزہ رکھتے تھے اورچوبیس گھنٹے میں ایک دفعہ قرآن ختم کرلیتے تھے، ان کی شادی ہوئی اورشادی والی رات دلہن بیٹھی ہوئی ہے اوراسے چھوڑ کرعبادت شروع کردی۔ بیوی بھی انتظارکرتی رہی آخرکارتھک کربیوی نے بھی مصلیٰ اٹھایا اورحضرت عبداللہ بن امرکے ساتھ عبادت شروع کردی، یہاں تک کہ صبح ہوگئی. صبح جب حضرت عبداللہ کے والد نے ان سے پوچھا کہ رات کیسی گزری توانہوں نے کہا کہ سبحان اللہ ساری رات عبادت کرکے گزاری توانہوں نے کہا کہ تیرا ستیاناس ہو، شادی والے دن بھی تونے عبادت کی. بیوی کے حقوق کاخیال نہیں رکھا۔ حضرت عبداللہ کے والدحضوراکرم ؐ کے پاس چلے گئے اور ان سے جا کر اپنے بیٹے کی شکایت کی. حضوراکرم ؐ نے پھران کو پابند کیا کہ توتین دن سے پہلے قرآن ختم نہیں کریگا، ایک دن روزہ رکھے گا، اورایک دن چھوڑے گا. ان کوخیال آیا کیا یہ مجھ سے بھی زیادہ عبادت کرتاہے، میں نے جا کردیکھنا ہے تووہ ان جنتی صحابی کے گھرچلے گئے اوران کے والدسے ان کے گھررہنے کی اجازت مانگی کہ دیکھوں یہ کیا کرتا ہے توجنتی صحابی جب سوئے توصبح ہوکرجاگے تویہ دیکھ کرحضرت عبداللہ حیرت زدہ ہوگئے اورسوچا کہ منافق آدمی بھی تہجد نہیں چھوڑ تے. تین دن تک یہی کام ہوتا رہا انہوں نے سوچا کہ یہ توکچھ کام نہیں کرتے توان کوجنت کیسے ملے گی۔ لیکن پھریہ بھی سوچاکہ نبی کریم ؐ کی بات بھی غلط نہیں ہوسکتی، انہوں نے تین دن بعد تنگ آکران صحابی سےپوچھا کہ آپ کیا کرتے ہو، تین دن آپ کی بشارت سنی کہ جنتی صحابی آرہاہے، آپ فرض نمازوں کے علاوہ کوئی عبادت بھی نہیں کرتے تواس صحابی نے کہا کہ بیٹاجوتم نے دیکھا، یہی ہے میرے پاس کے علاوہ کچھ بھی نہیں. حضوراکر م ؐ کی بات بھی غلط نہیں اوران صحابی کا کوئی عمل بھی نظرنہیں آیا اب ان کوسمجھ نہیں آرہا کہ نبی کریم ؐ نے یہ کیوں فرمایا، اب جب یہ صحابی اپنے گھر واپس جانے لگے تواس جنتی صحابی نے کہا کہ بھتیجا ادھرآؤ میں تم کواندرکی بات بتاتاہوں، جب وہ قریب آئے تواس جنتی صحابی نے کہا کہ بیٹا میرے اس دل میں کسی کے لیے کوئی حسد نہیں، میں دوسروں کی کامیابی پرخوش ہوتاہوں، تواس کے بعدحضرت عبداللہ بن امرنے فرمایا یہی وجہ ہے… یہی وجہ ہے کہ حضورؐ نے آپ کانام لیا.