ایک گستاخ نےنبی کریمﷺ کی شان کےخلاف گستاخانہ اشعار پڑھےتوسرکاردوعالم ﷺ نےحکم دیا کہ اے علی! اس کی زبان کاٹ دو

ایک گستاخ نےنبی کریمﷺ کی شان کےخلاف گستاخانہ اشعار پڑھےتوسرکاردوعالم ﷺ نےحکم دیا کہ اے علی! اس کی ۔۔۔

بی کیو نیوز! ایک گستاخ نےنبی کریمﷺ کی شان کےخلاف گستاخانہ اشعار پڑھےتوسرکاردوعالم ﷺ نےحکم دیا کہ اے علی! اس کی زبان کاٹ دو رسولِ خداﷺ کے مدنی دور میں جب وہ مدینہ ہجرت کرچکے تھے، تب کی بات ہے، کسی گستاخ شاعر نے نبی کریم ﷺ کی شان کے خلاف گستاخانہ اشعار لکھے۔ اصحاب نے اس گستاخ شاعر کو پکڑ کر بوری میں بند کر کے حضورﷺ کے سامنے پھینک دیا. سرکار دوعالم ﷺ نے حکم دیا اس

کی زبان کاٹ دو۔ تاریخ لرز گئی، مکہ میں جو پتھر مارنے والوں کو معاف کرتا تھا. کوڑا کرکٹ پھینکنے والی کی تیمار داری کرتا تھا. اسے مدینے میں آکے آخر ہو کیا گیا۔ بعض صحابہ کرام نے عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں اس کی زبان کاٹنے کی سعادت حاصل کروں؟ حضورﷺ نے فرمایا نہیں، تم نہیں تب رسولِ خداﷺ نے حضرت علی کو حکم دیا اس کی زبان کاٹ دو. حضرت علی  بوری اٹھا کر شہر سے باہر نکلے. اور حضرت قنبر کو حکم دیا جا میرا اونٹ لے کر آئو،  اونٹ آیا، حضرت علی نے اونٹ کے پیروں سے رسی کھول دی اور شاعر کو بھی کھولا اور 2000 درہم اس کے ہاتھ میں دیے اور اس کو اونٹ پہ بیٹھایا، پھر فرمایا تم بھاگ جاؤ ان کو میں دیکھ لونگا۔ اب جو لوگ تماشا دیکھنے آئے تھے حیران رہ گئے کہ یا اللہ، حضرت علی نے تو رسول کی نافرمانی کی رسول خدا ﷺ کے پاس شکایت لے کر پہنچ گئے۔ یا رسول اللہ ﷺ آپ نے کہا تھا زبان کاٹ دو، حضرت علی نے اس گستاخ شاعر کو 2000 درہم دیے اور آزاد کر دیا۔ حضور مسکرائے اور فرمایا حضرت علی میری بات سمجھ گئے۔ افسوس ہے کہ تمہاری سمجھ میں نہیں آئی وہ لوگ پریشان ہوکر یہ کہتے چل دیے کہ یہی تو کہا تھا کہ زبان کاٹ دو۔ علی نے تو کاٹی ہی نہیں۔ اگلے دن صبح، فجر کی نماز کو جب گئے تو کیا دیکھتا ہے وہ شاعر وضو کررہا ہے۔ پھر وہ مسجد میں جا کر حضرت محمد ﷺ کے پاؤں چومنے لگتا ہے. جیب سے ایک پرچہ نکال کر کہتا ہے: حضورﷺ آپ کی شان میں نعت لکھ کر لایا ہوں، اور یوں ہوا کہ حضرت علی نے گستاخ رسول کی گستاخ زبان کو کاٹ کر اسے مدحتِ رسالت والی زبان میں تبدیل کردیا۔ حوالہ: دعائم الاسلام، جلد 2، صفحہ 323

Leave a Comment