ایک گمنام ہیرو کی کہانی

بی کیونیوز! یوزاگست 2009 کے ایک انتہاء گرم ترین دن میں اسے پہلی بار دیکھا وہ تپتی سڑک پہ رینگتا ہوا دکانوں کے سامنے بھیک مانگتے ہوئے ایک پلازہ کے سامنے آکے ڈیرہ ڈال لیتا. پسینے سے شرابور، کبھی پاؤں لنگڑاتا، کبھی گر جاتا، کبھی بیٹھ جاتا، کبھی رینگنے لگتا اور کبھی گرم سڑک پہ ہی لیٹا رہتا. اس کے چہرے سے بلا کی مظلومیت ٹپکتی بکھرے بال اور داڑھی گھنےاور گرد آلود، میلے کچیلے پھٹے ہوئے کپڑے، پرانے کٹے پٹے جوتے۔ میں روز اسی مخصوص ٹائم پہ اسی جگہ گزرتا اور اسے

دیکھ کر تکلیف سے کُڑھ سا جاتا کہ یہ کون لجپال ہے، کس قدر مجبور ہوگا جانے کون کون ہے اس کے گھر میں، کس کی پہنچائی چوٹ اسے اس حال میں لے آئی یا غربت و افلاس کا مارا ہے. ایسے سوالات روز میرے ذہن میں جنم لیتے تھے. جس دوپہر کی شدید گرمی میں مجھے گھر سے نکلنا گوارہ نہیں اس گرمی میں وہ تپتی سڑکوں پہ رینگتے ناجانے کہاں سے آتا اور کہاں کو چلا جاتا. میں حیران تھا کہ اس گرمی میں ہم ٹھنڈے کمروں میں بستر پہ لیٹتے بھی گرمی محسوس کرتے ہیں اور وہ آرام سے اس آگ جیسی جلتی سڑک کنارے پہ لیٹا رہتا تو کبھی بیٹھ جاتا. ایک بات جو میں نے نوٹ کی کہ اس کے لیٹنے کی جگہ مخصوص تھی بدقسمتی سے اس جگہ کے اوپر کوئی سایہ دار چیز موجود نہیں تھی ہاں بس روڈ کے دوسری طرف ایک پلازہ تھا جہاں رش اتنا ذیادہ نہیں تھا اور ایک طویل تنگ سی گلی جس میں کچھ مکان تھے۔ سب لوگ اپنے کام میں مگن اور وہ مارکیٹ سے ہوتا ہوا اسی پلازہ کے سامنے آکے سڑک کنارے لیٹ جاتا. اسکی نظریں ہمشیہ پلازہ پر ہی رہیں. ایسے کئی مہینہ گزر گئے مگر میں اس شخص کا ناغہ نہیں دیکھا. ہفتے کے ساتوں دن وہ اپنے ڈیوٹی سمجھ کے وہاں موجود رہتا یہاں تک کے ماہ رمضان، عید پر بھی اسی جگہ ہی دیکھا گیا۔ بارشوں کے موسم میں اسے اسی جگہ بارش میں بھیگتے دیکھا میرا کلیجہ حلق کو آنے لگا کہ یہ کون ہے کیا ماجرہ ہے؟ یہ جاننے کی جستجو بڑھتی گئی شاید میں روز ہی اسے دیکھنے لگا تو میرے ذہن پہ اسکی ایک چھوی بن گئی گھر آتا تو بھی اسے سوچتا. بارشیں گزریں، پھر سخت دھند میں سرد ترین دن دیکھے ان میں بھی وہ پاگل اسی حالات میں ویسے ہی وہاں موجود رہا. رفتہ رفتہ مجھے یقین ہوچلا کے دنیا میں اس کا کوئی نہیں یا شاید

کوئی مجنون ہے. پھر میرا معمول بن گیا کہ جب وہاں سے گزرتا اسے کچھ نہ کچھ دے دیتا لیکن کبھی وہ ٹس سے مس نہ ہوا. اسکی نظریں ایک ہی جگہ جیسے گڑھ سی گئی ہوں. غضب کا رعب تھا اسکی آنکھوں میں جنہیں پلک جھپکنا بھی گوارا نہ تھا. میرا اس راستے سے گزر دن میں ہوتا تھا تو اسے دیکھ لیتا۔ غالباً 12 جنوری کی یخ رات تھی، بازار بند ہوچکے تھے روڈ ویران تھا، مجھے اچانک کہیں جانا پڑا تو اسی راستے سے گزرتے ہوئے میری نظر اس پاگل پہ پڑی وہ وہیں لیٹا ہوا تھا نہ اوپر کوئی چارد، نہ پاؤں میں جرابیں، نہ جسم پہ کوئی سوئیٹر چند لمحے اس کے پاس جاکے ٹھہرا وہ ویسے ہی خاموش اسی جگہ نظریں ٹکائے لیٹا رہا میں سردی سے کانپ رہا تھا. اسکی سردی کا خیال کرتے ہوئے اپنی شال اتار کر اس پہ ڈال دی تو اس نے کچھ بھی کہے بغیر وہ شال پاؤں سے گھیسٹ کے اتار پھینک دی اور کروٹ بدل لی اور میں چپ چاپ واپس آگیا. وقت گزرتا گیا میرا بھی تجسس بڑھتا گیا لیکن اسے نہ سردی توڑ پائی نہ گرمی نہ بارش نہ طوفان ہر چیز سے بےنیاز تھا وہ موسم کی مار اس کا جسم جھلسا چکی تھی اس کا رنگ سیاہ پڑ چکا تھا. فروری کا مہینہ تھا تاریخ یاد نہیں اتوار کا دن تھا ناشتہ کیا اخبار اٹھایا تو شہ سرخی میں خبر لگی تھی کہ رات ایک گھر پہ حساس اداروں کا چھاپہ، پانچ انتہائی مطلوب غیر ملکی دہشتگرد گرفتار، دہشتگردی کا بڑا منصوبہ ناکام، بہت بڑی مقدار میں اسلحہ و بارود اور بڑی تعداد میں تیار خودکش جیکٹس اور انکی تیاری میں استعمال ہونے والا سامان، وائرلیس اور دوسرا سامان برآمد، یہ وہی گھر تھا یہ وہی گھر تھا یہ وہی گھر تھا جس کے سامنے وہ پاگل کئی ماہ سے موجود تھا. مجھے حیرت کا شدید جھٹکا سا لگا. اخبار، کالم نگار اسے

بہت بڑی کامیابی قرار دے رہا تھے کہ فلاں فلاں یہ خودکش جیکٹس استعمال ہونی تھیں، دکھایا جانے والا اسلحہ اور دوسرا سامان رونگٹے کھڑے کردینے کو کافی تھا. میرے دھیان میں وہی شخص تھا. تقریباً آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہاں پہنچا تو وہ شخص وہاں موجود نہیں تھا. ایک کونے میں اس کی کا پھٹا پرانا تھیلا نظر آیا ادھر اُدھر دیکھا اسکا نام ونشان تک نہ ملا. پھر اس کے بعد رات کو دوسرے دن بلکہ کئی دن اسے دیکھتا رہا لیکن وہ دوبارہ کبھی مجھے نظر نہیں آیا. نہ جانے کون تھا کس ماں کا لال، کس باپ کا لاڈلہ، کس بہن کس بھائی کی آنکھ کا تارا تھا، کس سہاگن کا سہاگ تھا، کس کے سر کا سایہ تھا، جس نے اس پاک وطن کی حفاظت کی خاطر اپنی ہستی مستی مٹا ڈالی. نہ جتایا نہ اسے ایوارڈ ملا، نہ اسکے نعرے لگے نہ اسکا فوٹو سیشن ہوا۔

Leave a Comment