اے علیؓ کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اوراختتام بھی نمک سےکرو، حضرت محمد ﷺ نے حضرت علی کو یہ نصیحت کیوں کی تھی؟

اے علی کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اوراختتام بھی نمک سےکرو، حضرت محمد ﷺ نے حضرت علی کو یہ نصیحت کیوں کی تھی؟

بی کیونیوز! اے علیؓ کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اوراختتام بھی نمک سےکرو، حضرت محمد ﷺ نے حضرت علیؓ کو یہ نصیحت کیوں کی تھی؟ آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم حضرت علی علیہ السلام کو وصیت کرتے ھوئے فرماتے ہیں: اے علیؓ! کھانے کی ابتدا بھی نمک سے کرو اور اختتام بھی نمک، چونکہ نمک میں ستر بیماریوں کا علاج ہے ان میں سے کچھ یہ ہیں: 1- پاگل پن، 2-جزام(کوڑھ)، 3-برص، یعنی جلد پر سفیدداغ بن جانا، بلکہ بعض کے تو بال اور پوری جلد بھی سفید ھوجاتی ہے. 4 -گلے میں

درد، 5 -دانتوں میں درد6- اور پیٹ میں درد، امام جعفرصادق رحمتہ اللہ فرماتے ہیں: جو چاھتا ہےکہ اس کے منہ پر سے کیل اور دانے ختم ھوجائیں اسے چاہیئے کہ کھانا کھاتے وقت پہلے لقمہ پر تھوڑا سا نمک چھڑک لے. حضرت علیؓ نے اپنے ساتھیوں سے پوچھا: بتاؤ بھترین ہانڈی (سالن) کیا ہے؟ تو ایک نے کہا: گوشت، دوسرے نے کہا: گھی، تیسرے نے کہا زیتون کاتیل، یہاں تک آپ نے خود فرمایا: نہیں، بہترین غذا نمک ہے. ایک دفعہ ہم حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ سیر کے لئے باہر نکلے، چنانچہ آپ کا خادم نمک لے جانا بھول گیا، تو ھم سب بغیر کچھ کھائے واپس آگئے. یعنی حضرت اس قدر پابند تھے کے نمک سے ابتدا اور اختتام فرماتے تھے. چونکہ اس سفر میں نمک ہمراہ نہیں تھا، لہذا آپ نے واپس آکر کھانا تناول فرمایا. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں: جو کوئی بھی کچھ کھانے سے پہلے اور آخر میں تھوڑا سا نمک کھا لیتا ہے تو خداوند عالم اس سے 330 بلاؤں کو دور فرما دیتا ہے. جن میں سے کم ترین جذام ہے. چونکہ اس سفر میں نمک ہمراہ نہیں تھا، لہذا آپ نے واپس آکر کھانا تناول فرمایا. آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک حدیث میں فرماتے ہیں: جو کوئی بھی کچھ کھانے سے پہلے اور آخر میں تھوڑا سا نمک کھا لیتا ہے تو خداوند عالم اس سے 330 بلاؤں کو دور فرما دیتا ہے. واللہ اعلم باالصواب

Leave a Comment