بارگاہِ الٰہی سے نکالنےکےبعد شی-طان نے حضرت آدمؑ کو کیسے گمراہ کیا؟

بارگاہِ الٰہی سے نکالنےکےبعد شیطان نے حضرت آدمؑ کو کیسے گمراہ کیا؟

بی کیونیوز! بارگاہِ الٰہی سے نکالنےکےبعد شی-طان نے حضرت آدمؑ کو کیسے گمراہ کیا؟ اُن ہی دنوں میرے علم میں یہ بات آئی کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت آدمؑ کی تنہائی دُور کرنے کے لیے اُن کی بائیں پسلی سے حضرت حوّاؑ کو پیدا کیا ہے اور اللہ نے آدمؑ سے کہا کہ’’ تم اور تمہاری بیوی دونوں جنّت میں رہو اور یہاں جو چاہو کھائو، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا، ورنہ ظا-لموں میں شمار ہوںگے‘‘(سورۃ البقرہ۔35)۔ اس کے باوجود کہ اللہ تعالیٰ نے اُنہیں آگاہ فرما دیا تھا کہ ابلیس

اُن کا دُشمن ہے اور ایسا نہ ہو کہ وہ اُنھیں جنّت سے نکلوا دے(سورۂ طہٰ، آیت۔117) مَیں اُن کے دِلوں میں وسوسہ ڈالنے میں کام یاب ہو ہی گیا۔ مَیں نے اُن سے کہا کہ’’اے آدمؑ! کیا مَیں تمہیں دائمی زندگی کا درخت اور بادشاہت بتلائوں کہ جو کبھی پُرانی نہ ہو۔‘‘ پھر اُن دونوں نے اس درخت سے کھایا، تب اُن کے سَتر کُھل گئے اور اپنے اُوپر جنّت کے پتّے چِپکانے لگے۔‘‘ (سورہ طہٰ۔ 120,121)۔ اب یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ وہ درخت کون سا تھا؟ کسی نے گندم کا درخت کہا ہے۔ کوئی انگور کا بتلاتا ہے، تو کسی نے زیتون اور کھجور کی طرف اشارہ کیا ہے، لیکن اللہ عزّو جل نے اس درخت کا نام مبہم رکھا کہ اگر اُس کے ذکر میں کوئی مصلحت یا فائدہ ہوتا، تو نام ضرور بتا دیا جاتا۔ مجھے اس بات کی تو خوشی تھی کہ مَیں بی بی حوّاؑ کے ذریعے حضرت آدمؑ کو بہکانے میں کام یاب ہوگیا تھا، لیکن اس کام یابی کے بعد مجھ پر شدید گھبراہٹ طاری تھی، کیوں کہ اللہ تعالیٰ کا ایک نام’’ قہار‘‘ بھی ہے۔ چناںچہ مَیں فوری طور پر زمین کی طرف بھاگا۔ عموماً فرشتوں کے دو پَر ہوتے ہیں، لیکن اللہ کا مجھ پر بڑا احسان و کرم تھا کہ مجھے چار پَروں والا بنایا، جس سے مجھے ہر جگہ جانے میں بہت آسانی ہو جاتی ہے۔ (علّامہ ابنِ کثیر نے چار پَروں والی انفرادیت کا’’ قصص الانبیاءؑ ‘‘میں ذکر کیا ہے)۔ بعدازاں، اللہ تعالیٰ نے حوّاؑ اور حضرت آدمؑ کو معاف فرما کر ایک خاص مدّت تک کے لیے دُنیا کی طرف روانہ کر دیا۔ اللہ تعالیٰ نے میرے جنّت سے نکالے جانے اور آدمؑ کے اس قصّے کو قرآنِ کریم کی سات سورتوں سورۃ البقرہ، سورۃ الاعراف، سورۂ حجر، سورۂ بنی اسرائیل، سورۂ کہف، سورۂ طہٰ اور سورۂ ص میں تفصیل سے بیان فرمایا ہے۔ میری اِس پہلی کام یابی نے مجھے ابلیس سے شی-طان بنا دیا اور مَیں’’ لعنت اللہ علیٰ شیاطینھم‘‘ قرار دے دیا گیا۔

Leave a Comment