بارگاہِ الٰہی سے نکالے جانے کے بعد زمین پر شی-طان کی پہلی ناکامی

بارگاہِ الٰہی سے نکالے جانے کے بعد زمین پر شیطان کی پہلی ناکامی

بی کیونیوز! بارگاہِ الٰہی سے نکالے جانے کے بعد زمین پر شی-طان کی پہلی ناکامی۔ راندۂ درگاہ ہونے کے بعد زمین پر پہلی مرتبہ جس شخص سے مجھے خوف محسوس ہوا، وہ حضرت ابراہیمؑ تھے۔ اُن کے والد کو پتھر تراش کر بُت بنانا مَیں نے ہی سِکھایا تھا۔ مَیں نے ابراہیم ؑکو بھی اپنا ہم نوا بنانے کی جان توڑ کوششیں کیں۔ کبھی سُورج کو رَبّ کے طور پر پیش کیا، کبھی چاند کو خدا ماننے کا خیال دِل میں ڈالا، لیکن ہزار جتن کے باوجود وہ میرے قابو میں نہ آئے۔ ایک روز حضرت ابراہیمؑ اللہ کے حکم سے اپنی بیوی

اور بیٹے کو صحرا میں چھوڑ آئے۔ مَیں دُور بیٹھا منظر دیکھ رہا تھا کہ اچانک مَیں نے حضرت جبرائیلؑ کو بچّے کے پاس دیکھا اور دیکھتے ہی دیکھتے آبِ زَم زَم رواں ہوگیا۔ حضرت اسماعیلؑ ذبیح اللہ کی قربانی کا واقعہ تو سب کو یاد ہوگا۔ راستے میں تین جگہ مَیں نے کوشش کی کہ باپ، بیٹے کو ورغلا کر اس قربانی سے دُور رکھوں، لیکن ناکام رہا۔ ابراہیمؑ کے بُتوں کو توڑنے کا واقعہ یاد کرو۔ مَیں نے نم-رود کو راضی کیا کہ اس جر-م کی پاداش میں اُنھیں پوری قوم کے سامنے آ-گ کے شعلوں میں ڈال دو تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کر سکے۔ میرے شاگردوں نے دُنیا کا سب سے بڑا آ-گ کا اَلاؤ روشن کیا، جس کی تپش میلوں دُور تک محسوس ہوتی تھی۔ نیزمَیں نے ہی حضرت ابراہیمؑ کو آ-گ میں ڈالنے کے لیے منجنیق بنانے کا طریقہ بتایا، لیکن یہ وار بھی ناکام رہا اور نا-رِ نم-رود، گل وگل زار بن گئی۔ دُنیا میں آنے کے بعد پہلی مرتبہ ناکامی و نامُرادی میرے قدم چُوم رہی تھی۔ مَیں دُور بہت دُور سے دونوں باپ بیٹے کو اللہ کے گھر کی تعمیر میں مصروف دیکھ رہا تھا۔ دُوسری طرف میرا مُریدِ خاص، نم-رود اللہ کی پکڑ میں آ چُکا تھا۔ ایک مچھر اُس کی ناک میں گُھسا اور برسوں عذابِ الٰہی کا باعث بنا رہا۔ اس کے سَر پر پڑنے والے جوتے اس کے آرام کا باعث بنتے، یہاں تک کہ اسی حالت میں اُس کی مو-ت واقع ہوگئی۔

Leave a Comment