بیوی،شوہرکےلئےکن وجوہات کی بناپرحرام ہوجاتی ہے؟جس سےہم لوگوں کی اکثریت لاعلم ہے. جانئےنبی کریم ﷺ کافرمان

بیوی،شوہرکےلئےکن وجوہات کی بناپرحرام ہوجاتی ہے؟جس سےہم لوگوں کی اکثریت لاعلم ہے. جانئےنبی کریم ﷺ کافرمان

بی کیونیوز! بیوی،شوہرکےلئےکن وجوہات کی بناپرحرام ہوجاتی ہے؟جس سےہم لوگوں کی اکثریت لاعلم ہے. جانئےنبی کریم ﷺ کافرمان۔ ہمارے آقائے کریم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلم کا ارشاد ہے تم میں سے کسی کے سرمیں لوہے کی کیل ٹھونک دیا جانا اس سے بہتر ہے کہ وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے جو اس کے لئے حلال نہیں ہے. یعنی اس حدیث میں کس کیطرف اشارہ ہے. اگر وہ کسی ایسی عورت کو چھوئے گناہ کی رغبت سے جو اس کے لئے حلال نہیں، تو اس سے

بہتر ہے کہ اس کے سر میں لوہے کی کیل ٹھونک دی جائے۔ اس تحریر میں ان گناہوں کے بارے میں بتایاجائے گا کہ جن گناہوں کے ارتکاب کرنے سے نکاح کا بندھن ازخود ٹوٹاجاتا ہے. اور آپ کی بیوی آپ کے لئے حرام ہوجاتی ہے. اس لئے ان گناہوں کے بارے میں ہر کسی کو علم بھی ہونا چاہئے اور ان گناہوں سے اپنے آپ کو دور بھی رکھنا چاہئے۔ کلمہ پڑھنے کے ساتھ ہی ہر مسلمان اسلامی احکام کا اور اسلامی شریعت کا پابند ہوجاتا ہے اور اس کے لئے لازم ہوجاتا ہے کہ وہ اپنی زندگی کو اسلامی شریعت کے تابع کرے، شریعت میں جن احکام کو کرنے کا حکم ہے، ان کی پابندی کرے اور شریعت میں جن کاموں کی ممانعت ہے. منع کیا گیا ہے ان کاموں سے اپنے آپ کو دور رکھے، کیونکہ اللہ نے اپنے بندوں کے لئے حدود قائم کر رکھی ہیں. اور ان کی پابندی کا حکم دیا ہوا ہے۔ قرآنی تعلیمات مسلمان کو یہ بتاتی ہیں. کہ اس نے کیسے زندگی بسر کرنی ہے. کس رشتے کے ساتھ کیا سلوک کر ناہے. اور کیاسلوک نہیں کرنا. قرآن نے ہر رشتے کے اپنے اپنے حقوق مختص کر دیئے ہیں. اور ان کی حدود بھی بتادی ہیں۔ اگر ان رشتوں میں ذرا برابر بھی بے احتیاطی کی جائے گی، تو بیوی ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی. یعنی ایسا ہونے سے میں بیوی کا نکاح ٹوٹ جاتا ہے. اس میں سب سے پہلی بات مذہب کے حوالے سے ہے، کہ اگر میاں بیوی میں سے کوئی ایک فریق نعوذ باللہ دین اسلام کو چھوڑ کر کوئی دوسرا اختیار کر لے تو نکاح ٹوٹ جاتا ہے، اور میاں بیوی کا رشتہ ختم ہوجاتا ہے. اگر اس کے بعد وہ ایک دوسرے کے ساتھ رہیں گے، تو یہ حرام ہوگا. اسی طرح سے رشتوں کے حوالے سے جب بیٹا سات سال سے اوپر کا ہوجائے، تو اس کو چاہئے کہ وہ ماں کے ساتھ نہ سوئے اور اسی طرح بیٹی جب سات سال سے اوپر کی ہوجائے تو وہ اپنے باپ کے ساتھ ہر گز نہ سوئے. یہ شرعی حکم ہے اس لئے اس کی پابندیبہت ضروری ہے. شریعت نے یہ احکام اس لئے نافذ کئے ہیں کہ اگر ان ا حکامات کی پاس داری نہ کی گئی تو ان کا نتیجہ بڑا خطر ناک ہے. اسی طرح سے جب بیٹی نو سال کی ہو جائے تو باپ کو چاہئے کہ اسے پیار کرنے میں احتیاط کرے. باپ کو

چاہئے کہ اگر وہ پیارکرنا بھی چاہے تو صرف بیٹی کے سر پر ہاتھ پھیرے بوسہ لینا ہوتو بھی سر پر بوسہ لے. اسی طرح سے باپ کو چاہئے کہ اپنے جسم کو بیٹی کے جسم سے دور رکھے. کیونکہ اگر خدانخواسہ یہ احتیاط نہ برتی گئی اور کہیں باپ نے بیٹی کو ایسے پیا ر کر لیا کہ باپ کی شہوت یا بیٹی کی شہوت ابھر گئی، تو ایسی صورت میں اس شخص کے لئے اپنی بیوی یعنی اس کی بیٹی کی ماں ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی. اس کا نکاح ٹوٹ جائے گا اور یہی حکم ماں اور بیٹے کا بھی ہے. اس لئے ہماری اپنی بہنوں سے گزارش ہے کہ وہ اپنے بیٹوں سے پیار کرنے میں احتیاط برتیں احکام شریعت کے مطابق ان کو اپنے بستر سے اور اسی طرح سے بہنوں کے بستر سے دور کریں. آج کل دین سے دوری اور اسلامی تعلیمات کو نہ سیکھنے کی وجہسے پہلے لاڈ پیار میں بچوں کو بگاڑا جاتا ہے ان کو ان کی حدود نہیں بتائی جاتی, اور پھر بعد میں رونا رویا جاتا ہے۔ جو بے سود ہوتا ہے. اسی لئے ضروری ہے کہ بیٹے کو سات سال سے اوپر ہونے پر باپ کے ساتھ تو سلایا جاسکتا ہے, لیکن ماں اپنے پاس نہ سلائے اور بیٹی ماں کے ساتھ تو سو سکتی ہے, لیکن باپ کے ساتھ نہ سوئے. آج کل رشتوں میں پہلے تو بے تکلفیاں اختیار کی جاتی ہیں, اور ان بے تکلفیوں کو برانہیں جاناجاتا. جو بعد میں اس حد تک چلے جاتے ہیں کہ پھر مولوی اور مفتی حضرات کے پیچھے گھومتے پھرتے ہیں, کہ ایسی صورت ہوگئی ہے, اب کیا کریں کوئی راستہ نکالیں. خدارا احکام شریعت کو سیکھیں. ان کو وقعت دیں ان کے مطابق زندگی بسر کریں. تا کہ ہمارے گھروں میں کوئی ایسی نوبت نہ آنے پائے. شریعت نے اس لئے یہ احکام صادر کئے ہیں کہ دو مخالف جنس ایک جگہ اکٹھے نہ رہیں. کیونکہ جب دو مخالف جنس ایک جگہ اکٹھے ہوتےہیں، تو تیسرا شیطان ہوتا ہے. شیطان پھر ان کے درمیان وسوسہ ڈال دیتاہے. کیونکہ اس کا کام ہی گمراہی کی طرف لے کر جانا ہے. لہٰذا شیطان کے چنگل سے بچنے کے لئے ضروری ہے، کہ ہم اپنے آپ کو ایسے حالات و واقعات سے بچائیں. جس میں شیطان ہم پر حاوی ہوسکتا ہے۔ ایک اور رشتہ جس میں احتیاط کی ضرورت ہے. وہ ہے ساس اور داماد کا نکاح کے بعد بیوی کی ماں کو بھی ویسے ہی سمجھا جائے، جیسے اپنی ماں کو سمجھاجاتا ہے. اور مردوں کو چاہئے کہ وہ اپنی بیوی کے رشتہ داروں کو اچھا سلوک رکھے. جیسا اس کی بیوی اپنے والدین کا احترام کرتی ہے. ویسا ہی برتاؤ وہ بھی اپنی بیوی کے والدین کے ساتھ رہے. داماد کو چاہئے کہ جو حد شریعت نے طے کی ہے ان حدود کی پاسداری کرے، کیونکہ نکاح صرف بیوی کے ساتھ ہوتا ہے اور اس کی زوجیت

کے لئے صرف اس کی بیوی حلال ہوتی ہے. لہٰذا باقی رشتوں کے ساتھ برتاؤ میں ایک مرد کو بڑے احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر خدانخواستہ داماد اور ساس میں کوئی ایسا معاملہ چل پڑے، جس کی وجہ سے ان کے تعلقات میں بدنیتی شامل ہوگئے اور ایک دوسرے سے اس طرح سے قریب ہوگئے، جس میں شہوت کا عمل دخل ہوا، تو اس مرد کے لئے اس کی بیوی اس کے لئے ہمیشہ کے لئے حرام ہوجائے گی۔ اسی طرح سسر اور بہو کا رشتہ بھی ہے. جس میں احتیاط برتنا ضروری ہے۔ یہ سب رشتے ایسے ہیں جو کہ ہیں تو محرم لیکن ان کی حدود ہیں. اب سسر کے لئے حکم ہے کہ بہو کو اپنی بیٹی جیسا سمجھے، اس کو بیٹی کا درجہ دے، اب جس کو دین کی سمجھ ہو گی اور شریعت کی سمجھ ہو گی، تو وہ ان رشتوں میں جو فاصلے طے ہیں، ان کی پاسداری کرے گا. لیکن جو شرعی حدود سے ناواقف ہوگا، وہ ان کی پاسداری نہیں کر پائے گا. اس لئے بعض گھروں میں سسر بہو باامر مجبوری اکثر اوقات اکیلے ہوتے ہیں. ان میں اگر خدانخواستہ کوئی ایسی صورت پیدا ہوجائے جو کہ ان کو شہوت کی نیت سے قریب کر دے. چاہے کوئی ایک دوسرے کے قریب شہوت کی نیت سے جائے. تو اس صورت میں بھی بیوی اپنے شوہر کے لئے حرام ہوجائے گی. اللہ سے دعا ہے کہ اللہ رب العزت سب کی حفاظت فرمائے، اور ہم سب کو دین کی سمجھ عطا فرمائے. اگر کوئی ایسی صورت پیش آجائے، تو چاہئے کہ مفتی حضرات سے اس صورت کے بارے پوچھ لیاجائے. کیونکہ وہی بہتر طریقے سے بتا سکیں گے. معاملے کی سنگینی کیا ہے اور نکاح ساقط ہو چکا یا نہیں۔ یہ باتیں آپ کو اسلام کی تعلیمات کے پیش نظر بتائی گئی ہیں. اگر کوئی ان کو تنگ نظری کہے، تو یہ اس کا قصور ہے. کیونکہ ہم دنیاداری میں اس قدر ڈوب چکے ہیں کہ ایسی باتیں ہمیں تنگ نظری محسوس ہوتی ہیں۔ اللہ ہم سب کا حامی وناصرہو۔ آمین

Leave a Comment