بیٹا اپنی حیثیت سے کہیں بڑی خواہش کر بیٹھا

بیٹا اپنی حیثیت سے کہیں بڑی خواہش کر بیٹھا

بی کیونیوز! ایک د فعہ کا ذکر ہے ایک عورت کسی بادشاہ کے محل میں کام کرتی تھی ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ بیمار ہو گئی اور محل میں نا جا سکی. اس کا ایک جوان بیٹا تھا۔ اس نے اپنے بیٹے سے کہا کہ میں بیمار ہوں تو کچھ دنوں کے لئے تو جا اور محل میں صفائی کر کہیں بادشا ہم سے ناراض نا ہو جائے. ماں کی بات مان کر بیٹا محل میں چلا گیا اتفاق سے وہ لڑکا وہہاں صفائی کررہا تھا کہ اچانک بادشاہ کی بیٹی ادہر سے گزری اس جوان کی نظر جب حسین و جمیل شہزادی پہ پڑی تو اس کا دل بے اختیار

تڑپ گیا اور شہزادی کے عشق میں مبتلا ہو گیا۔ شام کو گھر واپس آیا مگر دل کو قرار نا ملا رات جاگ کر صبح کے انتظار میں گزاری، دوسرے دن جب محل میں گیا تو جستجو میں تھا کہ کسی طرح محبوب کی زیارت ہو جائے مگر وہ اسے کہیں نظر نا آئی، اسی طرح چار دن گزر گئے۔ ادھر اس کی ماں کی صحت ٹھیک ھو گئی۔ تو اس نے کہا کہ بیٹا میں اب ٹھیک ہوں. آج کہ بعد تم بادشاہ ک محل میں نہ جانا، عشق کی جو چوٹ اسے لگی تھی۔ اسے ایک پل قرار نا آنے دیتی. رفتہ رفتہ اس نے کھانا پیینا بھی چھوڑ دیا اور اتنا بیمار ہوا کہ چارپائی پہ آ گیا، ماں نے اسے پوچھا کہ تجھے کیا ہو گیا ہے. جس نے تیری حالت یہ کر دی۔ اس جوان نے ہمت کر کہ ماں کو سب قصہ سنا دیا۔ ماں بیٹے کی بات سن کہ پریشان ھو گئی اور اسے سمجھانے لگی کہ بیٹا تو اپنی حثیت سے کہیں بڑی خواھش کر بیٹھا ہے اسے بھول جا کہاں بادشاہ کی بیٹی اور کہاں ہم غریب لوگ، اس نے کہا ماں میں سب جانتا ہوں مگر میرے بس میں نہیں کہ اسے بھلا سکوں۔ اس کا عشق سچا تھا اس لئیے ادھر شہزادی کے دل میں بھی کچھ جستجو پیدا ھوئی، دوسرے دن شہزادی نے لڑکے کی ماں سے پوچھ لیا کہ جب تم بیمار تھی تو اک جوان جو محل کی صفائی کے لئے آتا تھا، وہ کون تھا. ماں نے اسے بتایا کہ وہ میرا بیٹا تھا اور اب وہ بہت بیمار ہے اور بستر مرگ پہ ہے. شہزادی نے پوچھ لیا کہ کیوں؟ تو ماں نے کہا کہ اگر جان کی امان ھو تو سچ بتاوں۔ شہزادی نے کہا بتا کیا ھوا اسے یہ قصہ سنا۔ ماں شہزادی کو سب سچ بتایا وہ اک نظر تجھے دیکھ کر تیرا عاشق ہوا، اس کی خواھش تھی کہ دوبارا تجھے دیکھے مگر دیکھ نئی سکا اور اب موت کے قریب ہے. شہزادی ساری بات سنی اور کیا کہ۔ میں چاہوں بھی

تو اسے مل نہیں سکتی، ہاں اتنا کر سکتی ہوں کہ اسے جا کے کہہ اپنا بھیس بدل اور شہر کے دروازے پے جا کے بیٹھ جا، کسی سے بات نہ کر کوئی کھانے کو دے تو کھا لے ورنہ بھوکا پیاسا بیٹھا رہ. کسی سے کچھ طلب نہ کر لوگ سمجھیں گے کہ کوئی فقیر ہے. اللہ ولا ہے کچھ دنوں میں جب اس کا چرچا ہو جائے گا لوگ اس کی زیارت کو جائیں گے۔ تو میں بھی اپنے باپ سے کہوں گی کہ شہر ک باہر کوئ فقیر آیا ہے مجھے اس کی زیارت کہ لئیے جانے دیں. اس طرح وہ مجھے اک بار دیکھ لے گا اور شائد قرار مل جائے اور تیرا بیٹا ٹھیک ھو جائے۔ میں بس یہ کر سکتی ھوں اور کچھ میرے بھی بس میں نہیں. اس کی ماں نے ایسا ہی کیا۔ اس کے بیٹے نے فقیروں کا بھیس بدلا اور شہر کہ باہر جا کہ بیٹھ گیا چند دنوں میں شہر میں چرچا ہو گیا کہ کوئی اللہ کا بندہ شہر سے باہر آیا بیٹھا ہے. لوگ اس کی زیارت کو آنے لگے جب محل تک خبر پہچی تو شہزادی نے بھی باپ سے عرض کر دی کہ کوئی اللہ والا ہے مجھے اس کی زیارت کو جانے کی اجازت دیں۔ بادشاہ نے یہ سن کر خوشی سے اجازت دے دی کہ کل صبح چلی جانا ادھر شہزادی کو اجازت ملی اور ادھر اس عاشق کے دل میں یہ خیال گزرا کہ میں نے تو جھوٹا بھیس بنایا ھے اللہ والوں کا اور اتنی عزت اور اتنی نعمتیں مل رہی ہیں کہ لوگ ادب میں میرے سامنے کھڑے ھیں تو جو لوگ سچ میں اللہ کہ فقیر ہو جاتے ہیں ان کو کیا مقام ملتا ھو گا۔ بس اس نے یہ سوچا اور اس رات دل سے اللہ کی عبادت کی اللہ پاک نے اس کی انکھوں کو اپنی معرفت ک نور سے سیراب کر دیا صبح تک اس کی دنیا بدل چکی تھی۔ شھزادی جب صبح اس کی زیارت کو پہنچی اس کے سامنے آ کے بیٹھ گئی تو اس نے

نگاہ اٹھا کہ بھی نا دیکھا وہ بہت حیران ہوئی اور اس سے پوچھا کہ تو دیکھتا کیوں نہیں اس جوان نے کہا کہ تجھے کیا دیکھوں تیرا حسن نجاستوں سے بھرا ہے۔ میرے سامنے جنت کی وہ حوریں بیٹھی ہیں اس دنیا میں جن کی کوئی مثال نہیں. جونجاستوں اور کثافتوں سے پاک ہیں ان کا حسن دنیا کو روشن کر رہا ہے، جب شہزادی نے یہ باتیں سنی تو آگے بڑھ کر اس کے منہ پہ تماچہ دے مارا، میری وجہ سے تو یہاں تک پہنچا ہے. جو تجھے نظر آ رھا ہے اب مجھے بھی دکھا، جوان نے کہا اگر تجھے بھی ایسی زندگی چاھئے تو دنیا چھوڑ کر اور میرے ساتھ بیٹھ جا اس شہزادی نے بھی دنیا ترک کی. وہ عارف بن گیا وہ عارفہ بن گئی عشق حقیقی کی حقدار بس ذات خدا ہے.

Leave a Comment