تاریخ صرف فتوحات کو یاد رکھتی ہے دسترخوان پر پڑے انڈے اور جیم کو نہیں

تاریخ صرف فتوحات کو یاد رکھتی ہے دسترخوان پر پڑے انڈے اور جیم کو نہیں

بی کیونیوز! تاریخ صرف فتوحات کو یاد رکھتی ہے دسترخوان پر پڑے انڈے اور جیم کو نہیں یہ 1973 کی بات ہے جب عربوں اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑنے کو تھی ایسے میں ایک امریکی سینیٹر اہم کام سے اسرائیل آیا۔ وہ اسلحہ کمیٹی کا سربراہ تھا۔ اسے فوراً اسرائیلی وزیراعظم “گولڈہ مائیرہ” سے ملاقات کےلئے لے جایا گیا۔ گولڈہ مائیرہ نے سینیٹر کو گھریلو عورت کی طرح خوشامدید کہا اور سیدھا کچن میں لے گئی اور چائے کے دو کپ بنائے، اتنی دیر میں اسلحہ کی ڈیل سینیٹر سے ہو گئی اور گولڈہ مائیرہ نے سینیٹر کو کہا کہ

میرے سکریٹری کے پاس اپنے سکریٹری کو بھیج کر آپ اس معاہدے کو تحریری شکل دلوائیں۔ اس وقت اس اسلحہ میں دنیا کے بہترین میزائل، ٹیکنالوجی بھی شامل تھی۔ اور خود اسرائیل اس وقت معیشت کی بدترین حالت میں تھا۔ اور حد یہ تھی کہ اس مہنگی ترین ڈیل پر خود اسرائیلی کابینہ گولڈہ مائیرہ کے خلاف تھی۔ کابینہ نے وزیراعظم گولڈہ مائیرہ کو یہ بھی بتایا کہ اس ڈیل کے بعد اسرائیل کو پتہ نہیں کب تک صرف ایک ٹائم کا کھانا کھانے کو ملے گا۔ جب کابینہ اپنا موقف دے چکی تو مائیزہ نے کہا: آپکی بات درست ہے لیکن اگر ہم عربوں کے خلاف جنگ کو فتح کر لیتے ہیں تو لوگ ہمیں فاتح کے نام سے یاد رکھیں گے اور جب لوگ کسی کو فاتح قرار دے دیتے ہیں تو وہ یہ نہیں پوچھتے کہ اس قوم کو کھانا دو وقت کا ملا یا ایک کا اور انکے ناشتے میں انڈے مکھن اور جیم تھا یا نہیں۔ اور انکےجوتوں میں کتنے سوراخ تھے۔ یا انکی تلواروں کے نیام پھٹے ہوئے تھے۔ فاتح صرف فاتح ہوا کرتے ہیں۔ گولڈہ مائیر کی دلیل میں وزن تھا۔ اسلیئے اس ڈیل کو کابینہ کو پاس کرنا پڑا۔ آنے والے وقت نے ثابت کردیا کہ گولڈہ مائیر کا یہ قدم کتنا درست تھا۔ پھر دنیا نے دیکھا اسی جہازوں، میزائلوں کے ساتھ چند یہودی کیسے عربوں کے دروازوں پر دستک دینے لگے جنگ کے ایک عرصہ بعد ایک واشنگٹن پوسٹ کا نمائندہ گولڈہ مائیر کا انٹرویو کرنے پہنچا تو اسنے سوال کیا آپنے امریکی اسلحہ خریدنے کیلئے پہلے سےکوئی پلان بنا رکھا تھا یا اچانک خیال آیا اسنے جواب دیا میں نے یہ استدلال اپنے دشمن[مسلمانوں] کے نبی سے لیا تھا جب میں طالبہ تھی تو مذاہب کا موازنہ میرا بہترین مشغلہ تھا۔تب میں ایک کتاب محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی سوانح حیات پڑھی اس میں مصنف نے لکھا تھا کہ جب محمد الرسول اللہ کی وصال کا وقت قریب آیا تو

انکے گھر اسوقت دیا جلانے کیلئے تیل بھی نہیں تھا تب انکی بیوی عائشہ رضی اللہ عنہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زرہ بکتر گروی رکھ کر تیل خریدا جبکہ اسوقت وقت انکے حجرے کی دیوار سے 7 یا 9 تلواریں لٹک رہی تھیں۔ تب میں نے سوچا کہ کتنے لوگ دنیا میں مسلمانوں کی اقتصادی کمزوری کو جانتے ہیں حالانکہ کہ وہ آدھی دنیا کے فاتح ہیں اور یہ بات پوری دنیا جانتی ہے۔ تب میں نے فیصلہ کیا کہ بھوکا رہنا اور خیمے میں رہنا قبول لیکن اصلحہ ضرور خریدیں گے۔ خود کو مظبوط اور فاتح بنائیں گے۔ گولڈہ مائیر نے نمائندے سے التماس کی کے اسے پردے میں رہنے دے چنانچہ یہ بات راز میں رکھی گئی۔ لیکن گولڈہ مائیر کی وفات کی بعد اسی نمائندے نے ایک اپنے انٹرویو میں یہ سارا واقعہ بیان کر دیا۔ اس نمائندے نے مزید کہا کہ گولڈہ مائیر کے اس انٹرویو کے بعد میں نے تاریخ ِ اسلام کا مطالعہ کیا تو عرب بدوؤں کی جنگی حکمت عملی دیکھ کر حیران رہ گیا۔ وہ طارق بن زیاد جس نے جبرالٹر[ جبل الطارق) کے راستے اسپین فتح کیا اسکی آدھی فوج کے پاس کپڑے پہننے کو نہیں تھے۔ وہ بہتر گھنٹے ایک پانی کی چھاگل اور سوکھی روٹی پر گزارہ کرتے تھے۔ یہی موقع تھا کہ جب مصنف اس بات پہ قائل ہوا کہ تاریخ فتوحات گنتی ہے۔ انڈے اور جیم کے کھانے نہیں اور پھر جب رائیٹر نے اسے ایک کتاب کی شکل میں لکھا تو دنیا اس حقیقت سے آگاہ ہوئی۔ یہ حیرت انگیز واقعہ تاریخ کے دریچوں سے جھانک جھانک کر مسلمنانِ عالم کو جھنجوڑ رہا ہے۔ بیداری کا درس دے رہا ہے اگر پرشکوہ محلات، عالی شان باغات ریشمی لباس اور ہیرے جواہرات سے بھری تجوریاں ہمیں بچا سکتی تو تاتاریوں کے ٹڈی دل افواج بغداد کو روندتی ہوئی معتصم باللہ کے دربار تک نا پہنچ پاتیں تاریخ کا وہ باب

کس قدر تکلیف دہ تھا جب معتصم باللہ ہلاکو خان کے سامنے زنجیروں میں جکڑا کھڑا تھا ۔ پھر کھانے کے وقت ہلاکو خان نے اپنے لیے سادہ سے برتن میں اور معتصم باللہ کو سونے کی طشتریوں میں کھانے کیلئے سونے اور جواہرات رکھ کے پیش کیئے۔ پھر اس سے کہا کہ اسے کھاؤ اب جسے تم اپنے لیے جمع کرتے رہے ہو بغداد کا تاجدار بے بسی کی تصویر بنا کھڑا بس اتنا بولا میں سونا کیسے کھاؤں ہلاکو خان فوراً بولا پھر اسے جمع کیوں کرتے تھے اسکے ساتھ ہی ہلاکو خان نے پورے محل میں نظر دھرائی اور کہا تم نے یہ جالیاں پگھلا کر انکے آہنی تیر کیوں نہ بنائے کہ جو تمہاری فوج کے کام آتے اور تم نا ہارتے بغداد کا تاجدار بولا اللہ کی یہ ہی مرضی تھی ہلاکو نے کڑکدار لہجے میں جواب دیا تو جو اب تمہارے ساتھ ہوگا اسے بھی خدا کی مرضی سمجھنا پھر ہلاکو خان نے معتصم باللہ کو گھوڑوں کے ٹاپوں تلے روند ڈالا اور بغداد میں خون کی ندیاں بہا دیں اور کچھ ایسا حال مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ اور شہزادوں کا بھی دیکھا ہے۔ افسوس صد افسوس۔۔۔ ایک یہودی عورت نے سیرتِ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے اتنا کچھ سیکھا لیکن ہم نا آشنا رہے۔ کیونکہ ہم سائنس و جدید علم و فن سیکھنے کی بجائے آج بھی فضول بحثوں میں اپنا وقت ضائع کر رہے ہیں۔ چنانچہ زوال ہمارا مقدر ٹھہرا جبکہ تاریخ بہت بے رحم رہی ہے۔

Leave a Comment