جائے نماز پر بہائے گئے آنسوؤں کو وہ کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گا

جائے نماز پر بہائے گئے آنسوؤں کو وہ کبھی رائیگاں نہیں جانے دے گا

بی کیونیوز! جائے نماز پر بہائے گئے ان آنسوؤں کو وہ رائیگاں نہیں جانے دے گا. وہ ان زار و زار بہتی ہوئی آنکھوں کو معجزوں سے خالی نہیں رکھے گا. وہ تمہاری ان تڑپتی اور سسکتی ہوئی آہوں کو رد نہیں کرے گا. وہ ان ہتھیلیوں کو کبھی خالی نہیں لوٹائے گا جو اس کے سامنے روتے ہوئے پھیلائ جاتیں ہیں. یہ کبھی نہیں ہو سکتا کہ تم اپنے ریزہ ریزہ بکھرے وجود کو اس کے در پر لے کر جاؤ اور وہ اسے نہ سمیٹے..! کیا ایسا ہو سکتا ہے کہ تم اس سے رحمت کا سوال کرو اور وہ تمہیں دھتکار دے..؟ کیا کبھی دیکھا ہے کہ

جب تم اس کو اپنے لئے کافی کر لو اور تب بھی تمہیں دنیاوی سہاروں کی ضرورت محسوس ہوتی ہو..؟ نہیں ناں! اس لئے کہ وہ اس قدر مہربان ہے کہ ان کو بھی نوازنا کم نہیں کرتا جو اسے یاد نہیں کرتے. وہ تو ان کی بھی سنتا ہے جو منہ سے اقرار نہیں کر سکتے. وہ تو کافر کے سوال کو بھی رد نہیں کرتا تو پھر وہ تمہیں کیسے خالی ہاتھ واپس لوٹا سکتا ہے..؟ جب کہ تم تو اس کی بہترین امت ہو..! بس وہ تم سے ایک چیز چاہتا ہے خود کی ذات پر “کامل یقین” خلوص نیت سے “دعا” کہ وہ ہر شے پر قادر ہے اس بات پر پختہ “ایمان” کے دیری کسی سبب کے تحت ہے نہیں تو اس کا ایک اشارہ ہی سب ایسے بدلتا ہے جیسے گہری تاریک رات کے بعد روشن سویرا نمودار ہوتا ہے. جیسے بارش کے بعد قوس و قزح کے رنگ بکھرتے ہیں ناں! بلکل وہ ایسے ہی تمہاری اس بےرنگ زندگی کو خوشیوں کے رنگوں ایسے سجا دے گا کہ پھر کوئی پرانی یاد تمہیں افسردہ نہیں کرے گی. وہ تمہاری ان دعاؤں کو قبولیت کے مقام تک لازمی پہنچائے گا..! اور سنو! کہ اگر اس نے تمہیں خالی ہاتھ ہی لوٹانا ہوتا تو تمہیں دعا کی توفیق ہی کیوں دیتا..؟؟ اگر اس نے ان آنسوؤں کی لاج نہ رکھنی ہوتی تو وہ تمہیں اپنے در کا پتا ہی کیوں دیتا..؟؟ اور اگر اس نے تمہیں تڑپتا ہوا ہی چھوڑنا ہوتا تو پھر ہر پل تمہارے ساتھ ہونے کا دعویٰ کیوں کرتا..؟؟ اگر اس نے تمہیں ٹھکرانا ہی ہوتا تو کیوں بار بار یقین دلاتا کہ مجھ سے دعا کرو مجھے پکارو میں تمہاری پکار کا جواب دوں گا..؟ اور اگر اس نے تمہیں تنگی و آزمائش میں ہی مبتلا رکھنا ہوتا تو وہ بار بار یہ وعدہ کیوں کرتا کہ “ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے، پس ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے”..؟؟ کیونکہ میرا رب اندھیروں سے ہی اجالے بتاتا ہے. وہ تمہاری ہمت سے

زیادہ تمہیں تکلیف نہیں دیتا. اگر وہ تمہیں آزمائش میں ڈالتا ہے تو اس سے پہلے اس آزمائش سے نکلنے کے اسباب پیدا کرتا ہے. وہ تمہیں کبھی بھی تنہا نہیں چھوڑتا، وہی تو تمہیں تکلیف میں خود کا پتا دیتا ہے تاکہ جب تم تھک جاؤ، جب مایوسی تمہیں اپنے گھیرے میں لینے لگے، ہر طرف سے ٹھکرائے جاؤ , محبتوں اور چاہتوں کے صلے کہ طور پر ذہنی اضطراب اور بےسکونی ملے تو میرے در پر چلے آنا. دعا کے لئے ہاتھ اٹھانا اور مجھ سے میری رحمت کا سوال کرنا. اپنا درد میرے حوالے کر کے بےفکری کی نیند سو جانا اس لئے کے تیرا رب تجھے بھولنے والا نہیں. اسکی رحمت تو تم پر برسنے کے لئے بےقرار ہے. تم ایک قدم اسکی طرف اٹھاؤ وہ دس قدم کی تیزی سے تمہاری طرف دوڑا چلا آتا ہے. بےشک میرا اللّٰہ بےحد مہربان اور ستر ماؤں سے زیادہ محبت کرنے والا ہے…!

Leave a Comment