جا-دو کا توڑ، قرآن مجید کی اس سورۃ کی صرف ایک آیت پڑھیں جا-دو سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں

جا-دو کا توڑ، قرآن مجید کی اس سورۃ کی صرف ایک آیت پڑھیں جا-دو سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں

بی کیو نیوز! جا-دو کا توڑ صرف ایک آیت پڑھیں جادو سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں. ہم آپ کو بتاتے چلیں کہ جا-دو کا توڑ کرنے سے پہلے اس چیز کی تصدیق ضرور کر لیں کہ آپ پر جا-دو کے اثرات ہیں بھی یا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ بہت سے افراد پر جب ان کے گمنام دش-من یا حاسدین جا-دو ٹ-ونہ کروا دیتے ہیں. ’صرف ایک آیت پڑھیں جا-دو سے ہمیشہ کے لئے نجات حاصل کریں. کونسی آیت پڑھنے سے کبھی جا-دو نہیں ہوتا ارشاد باری ہے:’وَمِنْ شَرِّ النَّفّٰثٰتِ فِی الْعُقَدِ‘،’’(یعنی میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں) گرہوں

میں پھونک مارنے والیوں کے شرسے۔‘‘(الفلق۱۱۳:۴)اس آیت سے یہ پتا چلتا ہے کہ جا-دو کرنا ایک شر ہے جس سے بچنے کے لیے ہمیں یہ کلمہ سکھایا گیا ہے۔ اور ارشاد باری ہے:’’ اور یہ (یہ-ودی) ان چیزوں کے پیچھے پڑ گئے جو سلیمانؑ کے عہد حکومت میں شی-اط-ین پڑھتے پڑھاتے تھے۔ یہی(شی-اط-ین) لوگوں کو جا-دو سکھاتے تھے۔‘‘(البقرہ۲: ۱۰۲ ) چنانچہ جا-دو یا کا-لا علم ایک حقیقت ہے، اس کا انکار نہیں کیا جا سکتا۔ عام مشاہدے میں جو چیز آئی ہے، وہ یہ ہے کہ جس شخص پر کا-لا جا-دو کر دیا جائے، وہ شدید توہمات میں گھر جاتا ہے، بعض صورتوں میں وہ سخت بیمار ہو جاتاہے اور اسے عام علاج معالجے سے بھی کوئی شفا نہیں ہوتی۔ جا-دو وغیرہ کے لیے روحانی علاج کرانا درست ہے۔ البتہ، تعو-یذ گ-نڈے کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے مک-روہ جانا ہے۔ ابو داؤد کی’’ کتاب الخاتم‘‘ میں ایک مفصل حدیث بیان ہوئی ہے .جس میں یہ بتایا گیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دس چیزوں کو مک-روہ جانتے تھے .ان باتوں میں سے ایک تع-ویذ باندھنا بھی ہے روحانی علاج خود دین نے اس کے توڑ کے لیے جو روحانی علاج بتایا ہے. وہ معوذتین کا پڑھنا ہے۔ یہ دونوں سورتیں دراصل، جا-دو اور بعض دوسرے ش-رور سے خدا کی پناہ حاصل کرنے کی دعا ہیں۔ یہ اگر پورے یقین کے ساتھ پڑھی جائیں تو ان سے بڑھ کر اور کوئی چیز نہیں ہے۔ اس کے علاوہ اگر آپ کسی روحانی عامل سے علاج کرانا چاہیں تو کرا سکتے ہیں .بس یہ دیکھ لیں کہ وہ کوئی شرکیہ عمل اختیار کرنے والا نہ ہو اور دھوکاباز نہ ہو۔ عملیات پر یقین رکھنے کے الفاظ درست نہیں ہیں، کیونکہ اس میں وہ سب کچھ بھی آ جاتا ہے. جو انسانوں کی ایجاد ہے۔ البتہ، اشیا اور کلمات کے خواص اور ان کی تاثیرات کا علم ایک حقیقت ہے۔

Leave a Comment