جب دلوں میں فرق آ جائے تو پھر تعلقات نبھائے نہیں جاتے بلکہ گھسیٹے جاتے ہیں

جب دلوں میں فرق آ جائے تو پھر تعلقات نبھائے نہیں جاتے بلکہ گھسیٹے جاتے ہیں

بی کیونیوز! جب زندگی اللہ کی امانت ہے تو کرنا بھی وہی چاہیے۔ جو اللہ کی مرضی ہو۔ انسان کا اختیار نہ سانس پر ہے نہ تقدیر پر لیکن اگر اللہ کی مرضی میں اپنی مرضی شامل کرلی جائے تو راحت مل جاتی ہے۔ دعا یہ ہونی چاہیے کہ ﷲ اپنی رضا کو ہماری رضا بنا دے اور ہم سے وہ کام نہ کروائے جسے وہ نا پسند کرتا ہے۔ زندگی سے موت تک عمل کی کئی راہوں سے سابقہ پیش آتا ہے۔ جس راستے پر بھی جاؤ، اس کی کچھ راحتیں ہوتی ہیں یا کچھ تکلیفیں ہوتی ہیں یا اس راہ پر چلنے

کی کچھ قیمتیں ادا کرنی پڑتی ہیں۔ تعلقات کو نبھانے کے لیے عہد وپیماں کی ضرورت نہیں ہوتی۔ ایک دوسرے کے تئیں مخلص ہونا کافی ہوتا ہے۔ وہ تعلق چاہے دوستی کا ہو، محبت کا ہو یا احساس کا۔ اکثر جہاں عہد وپیماں زیادہ ہوتے ہیں وہیں رشتے جلدی زوال پذیر ہوتے ہیں۔ جن کو نبھانا ہوتا ہے وہ نہ تو بڑی بڑی قسمیں کھاتے ہیں اور نہ ہی ہر بات کو جتاتے ہیں بلکہ خاموشی سے رشتے نبھاتے ہیں اور محسوس بھی نہیں ہونے دیتے کہ وہ خود کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ آپ جب ان کو پکاروگے وہ آپ کے ساتھ آپ کا سایہ بن کر موجود رہیں گے۔ عورت کا فطری حق یہ ہے کہ اسے اپنے شوہر کے گھر میں تحفظ حاصل ہو۔ عزت، جان، مال اور ایمان ہر چیز کا تحفظ۔ وہ اس کے گھر میں رہ کر مطمئن ہو کہ اب یہ میرا گھر ہے۔ میرا سب کچھ یہی ہے اس لیے کہ میرے شوہر نے مجھے قبول کیا ہے۔ عورت بھی انسان ہے۔ یقیناً اس کے اندر کمزوریاں بھی ہوں گی۔ اگر ان کمزوریوں کی وجہ سے مرد اسے خشک پھول کی طرح توڑ کر پھینک دے گا تو عورت کا احساس تحفظ ختم ہو جائے گا۔ پھر وہ اس گھر کو کبھی بھی اپنا گھر نہیں سمجھے گی۔ اپنے دل کے راز نہیں بتائے گی۔ اپنے دل کی بات کا اظہار نہیں کرے گی۔ یہ اس کا حق ہے کہ اسے تحفظ ملے اسے اس بات کا احساس دلایا جائے کہ یہاں اس کی اچھائیوں کی حوصلہ افزائی ہوگی اور اس کی کمزوریوں سے درگزر کیا جائے گا۔ وہ صحت مند ہو یا بیمار دونوں صورتوں میں اسے قبول کیا جائے گا۔ یہ نہیں کہ وہ بیمار ہو تو کہا جائے کہ ماں کے گھر چلی جاؤ۔ بچے کی ولادت کا وقت قریب آئے تو اسے ماں کے گھر بھیج دیا جائے۔ اخراجات آن پڑیں تو ماں کے گھر جانے کا حکم سنا دیا جائے۔ اگر ایسے حالات پیدا کر دیے جاتے ہیں۔

Leave a Comment