جب مشرکین نے آپﷺ کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو آپﷺ نے سورۃ یٰسین کی کونسی آیات پڑھ کر کچھ خاک اور کنکریاں پھینکی تھی کہ مشرکین اندھے ہو گئے تھے؟؟؟

جب مشرکین نے آپﷺ کا محاصرہ کیا ہوا تھا تو آپﷺ نے سورۃ یٰسین کی کونسی آیات پڑھ کر کچھ خاک اور کنکریاں پھینکی تھی کہ مشرکین اندھے ہو گئے تھے؟؟؟

بی کیو نیوز! جب پیارے مصطفیٰ کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کو ہجرت کی اجازت عطا فرمائی ہے۔ تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے خیال کیا کہ مجھے خاص طور پر فرمانے کا مقصد یہی ہے کہ سرکار نبی صلی اللہ علیہ وسلم سفر ہجرت میں مجھے ساتھ رکھیں گے۔ تقریباً ایک ماہ بعد جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شب ہجرت اپنے کاشانہ اقدس سے باہر تشریف لائے تو مشرکین محاصرہ کیے ہوئے تھے اور نعوذ باللہ ان کا مقصد

یہ تھا کہ آپ کو آج شب ق ت ل کردیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورۂ یٰسین کی آیت نمبر ۹ کی تلاوت فرماکر مشرکین طرف کچھ خاک یا کنکریاں پھینک دیں جس سے وہ محاصرہ کیے ہوئے مشرکین اندھے ہوگئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہی کے سامنے سے گزر گئے مگرا نہیں پتہ نہیں چلا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کاشانۂ اقدس میں اپنے مبارک بستر پرحضرت سیّدنا علی المرتضیٰ کرم اللہ تعالیٰ وجہہ کو آرام فرمانے اور آئندہ دو یا تین روز میں ساکنان مکہ کی امانتیں وغیرہ ان کے مالکان کو لوٹانے کے بعد ہجرت کرنے کی ہدایت فرمائی۔ یہاں حضرت علی کی فضیلت بھی ظاہر ہوتی ہے کہ سیّدنا علی رضی اللہ عنہ جانتے تھے کہ بستر رسول پر آرام کرنے کا مطلب مو-ت کے سوا کچھ نہیں کیونکہ مشرکین محاصرہ کے بعد گھر میں داخل ہوکر نقصان پہنچائیں گے۔ حضرت علی کرم اللہ تعالیٰ وجہہ نے بعد میں خود بیان فرمایا تھا، ’’میں سب سے زیادہ مطمئن اور بے خوف اسی شب بستر رسول پر تھا اور سب سے اچھی نیند اسی شب آقا کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر مبارک پر آئی تھی۔ جب حضور سیّد المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر کی جانب جارہے تھے تو کوہِ صفا کے آگے حضرت سیّدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے ملاقات ہوگئی۔ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے دریافت فرمانے پر یہ جواب عرض کیا ! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: جب آپ نے ایک ماہ قبل ہجرت سے متعلق فرمایا تھا، اُسی وقت سے ہر شب آپ کا انتظارکرتا ہوں تاکہ آپ کو مجھ غلام کے دروازے تک آنے اور دستک دینے کی بھی زحمت نہ ہو۔ دوسری روایت میں ہے کہ رسول رحمت قاسم نعمت صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے گھر

کے دروازے پر تشریف لائے اور آہستہ دستک دی تو پہلی ہی دستک پرفوراً دروازہ کھل گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سے دریافت فرمایا کہ :’’کیا تم دروازے سے متصل کھڑے تھے ؟ ‘‘تو حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ! یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم: ’’جب آپ نے ایک ماہ قبل ہجرت سے متعلق فرمایا تھا، اُسی دن سے ہر شب ابوبکر آپ کا انتظار اپنے دروازے پر کھڑے ہوکر کرتا ہے ایک ماہ سے ابوبکر کے جسم نے بستر سے اپنے رشتہ کو کاٹ رکھا ہے۔ تاکہ آپ کو دروازہ پر انتظار کی زحمت نہ ہو۔ یارسول اللہ ! میں نے سواری کے جانور اور زادراہ اپنے غلام عامر بن فہیرہ کے ذریعے سے مدینہ منورہ کے راستے میں پہلے ہی سے تیار رکھے ہیں۔ پھر آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ساتھ ہی ہجرت کی۔ ناظرین کرام جس شخص کو ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل معلوم نہیں ہیں وہ شخص سنت سے جاہل ہے۔سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں۔ اگر ابوبکر (صدیق) کا ایمان اور زمین والوں کے ایمان کو باہم تولا جائے تو ابوبکر (رضی اللہ عنہ) کا ایمان بھاری ہوگا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اے اللہ! ہمارے دلوں کو سیدنا ابوبکر الصدیق رضی اللہ عنہ اور تمام صحابۂ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی محبت سے بھر دے اور اس محبت کو اور زیادہ کر دے۔ آمین یا رب العالمین

Leave a Comment