جب میں دنیا کے آخری کنارے پر پہنچا تو وہاں میں نے اللہ کی ایسی مخلوق دیکھی کہ مجھ پر ہیب-ت طاری ہو گئی!! مولانا طارق جمیل کے حیران کن آپ بیتی

بی کیونیوز! معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ جنوری کا مہینہ بھی اللہ کا ہے اور محرم بھی اللہ کا ہے، یہ تعصب کی بات ہے کہ جنوری کا-فر-وں کا اور محرم ہمارا مسلمانوں کا، جنوری کا تعلق سورج کے ساتھ ہے اور محرم کا تعلق چاند کے ساتھ ہے، دونوں اللہ تعالیٰ کے ہیں، ایک کلینڈر کو اللہ تعالیٰ نے سورج کے ساتھ جوڑ دیا اور ایک کلینڈر کو اللہ تعالیٰ نے چاند کے ساتھ جوڑ دیا۔ ہمیں چاند والا کلینڈر دیا اور باقی دنیا کو سورج والا کلینڈر دیا، اس کی حکمت مجھے اس وقت سمجھ

بی کیونیوز! معروف مذہبی سکالر مولانا طارق جمیل نے اپنے ایک خصوصی بیان میں کہا ہے کہ جنوری کا مہینہ بھی اللہ کا ہے اور محرم بھی اللہ کا ہے، یہ تعصب کی بات ہے کہ جنوری کا-فر-وں کا اور محرم ہمارا مسلمانوں کا، جنوری کا تعلق سورج کے ساتھ ہے اور محرم کا تعلق چاند کے ساتھ ہے، دونوں اللہ تعالیٰ کے ہیں، ایک کلینڈر کو اللہ تعالیٰ نے سورج کے ساتھ جوڑ دیا اور ایک کلینڈر کو اللہ تعالیٰ نے چاند کے ساتھ جوڑ دیا۔ ہمیں چاند والا کلینڈر دیا اور باقی دنیا کو سورج والا کلینڈر دیا، اس کی حکمت مجھے اس وقت سمجھ

میں آئی جب میں آج سے پانچ سال پہلے ناروے ، دنیا کے آخری کنارے پر پہنچا، جسے کہتے ہیں، شمال میں زمین پر وہ دنیا کا آخری کنارا ہے، اس کے اوپر جا کر پھر نارتھ کیپ بن جاتا ہے، جب میں وہاں پہنچا تو اس علاقے میں سورج کا کلینڈر نکل جاتا ہے اور دو مہینے سورج نہیں نکلتا، اور دو مہینے تک سورج ڈوبتا بھی نہیں، مولانا طارق جمیل نے کہا کہ ناروے سے دو گھنٹے کی فلائیٹ پر جا کر سورج کا کلینڈر فیل ہوجاتا ہے، اوٹوا اس کا آخری شہر ہے اور وہاں سے چھ گھنٹے کا سفر ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے مجھے پہنچایا، پھر میں نے دنیا کا آخری کنارا دیکھا، اللہ کی بہت مخلوق دیکھی ، لیکن جو مخلوقات میں نے دیکھی اسے دیکھ کر مجھ پر اللہ کے خالق ہونے کی ایسی ہیب-ت طاری ہوئی جو میں کبھی بھلا نہیں سکتا، ایسی مخلوق میں پہلے کبھی نہیں دیکھی، شاید اللہ کی ہیب-ت کا اندازہ میں لاکھوں کتابیں پڑھ کر بھی نہ کر سکتا، مولانا طارق جمیل نے کہا کہ میں نے ایک ہمالیہ پہاڑ کو دیکھا جس کی چوٹی ننگی تھی، وہ سال میں پندرہ سے 20 دن کیلئے کھلا ہوتا ہے وگرنہ وہ سارا سال بادل میں ڈھکا ہوا ہوتا ہے.

Leave a Comment