جنت کا انمول موتی: حجرِ اسود کےفضائل اور اوصاف میں حضورنبی کریمﷺ کے بہت سے ارشادات

جنت کا انمول موتی: حجرِ اسود کےفضائل اور اوصاف میں حضورنبی کریمﷺ کے بہت سے ارشادات

بی کیونیوز! جنت کا انمول موتی: حجرِ اسود کےفضائل اور اوصاف میں حضورنبی کریمﷺ کے بہت سے ارشادات حدیث اور تاریخ کی کتابوں کی زینت بنے ہوئے ہیں، لیکن جنت کا یہ انمول موتی، عالی مرتبت، مقدس ومتبرک یاقوت، گردشِ ایام کی ستم رانیوں سے محفوظ نہ رہ سکا، متعدد بار اُسے فساق وفجار ظالموں کے ہاتھوں تختۂ مشق بننا پڑا، بارہا حوادثات کا شکار ہوا اور اس کے نازنین بدن پر کتنی ہی مرتبہ زخم آئے۔ ;۳۱۷ھ میں جب مکہ مکرمہ قرامطہ کے دستِ تصرف میں آیا، تو ابوطاہر سلیمان بن الحسن نے

جو قرامطہ کا سردار تھا، حرم محترم میں خون کی ہولی کھیلی۔ /ذو الحجہ ۳۱۷ھ کو اس قدر قتل عام کیا کہ حجاج کی لاشوں سے چاہِ زمزم بھر گیا، شہر اور مضافات کے تیس ہزار بے قصور افراد کو موت کی نیند سلادیا، جن میں سترہ سو حاجی اور سات سو طواف کرنے والے بھی شہید ہوگئے، اس نے یہ سارا کھیل میزابِ رحمت یعنی کعبہ شریف کا پرنالہ جو سونے کا تھا، اُکھاڑنے، مقامِ ابراہیم اور حجرِ اسود چوری کرنے کی نامشکور جسارت کے لیے کھیلا تھا۔ ;دو آدمی اس مذموم حرکت کے لیے کعبہ شریف پر چڑھے، مگر آن واحد میں سر کے بل زمین پر گرکر واصلِ جہنم ہوگئے، مقامِ ابراہیم تو اس کے دست تصرف سے مامون رہا، کیوںکہ خدام حرم نے اُسے پہاڑ کی گھاٹی میں کہیں چھپا دیاتھا، مگر ۱۴/ ذو الحجہ ۳۱۷ھ بروزِ اتوار عصر کے وقت جعفر بن حلاج نے ابوطاہر کے حکم سے حجرِ اسود کو کدال سے اُکھاڑلیا، اس پر کئی ضربیں لگائیں جس سے کچھ ریزے ٹوٹ گئے اور اپنے ساتھ بحرین لے گئے، اور اس کی جگہ خالی رہ گئی۔ تقریباً بائیس سال کا طویل زمانہ گزرجانے کے بعد بحرین کے شہر ’’ہجر‘‘ سے بروز بدھ ۱۰/ ذو الحجہ ۳۳۹ھ کو یہ مبارک پتھر واپس ہوا، واپسی بھی معجزنما تھی، قرامطیوں سے باربار واپسی کا مطالبہ جب زور پکڑ گیا تو انہوں نے یہ عذرِ لنگ پیش کیا کہ وہ پتھر تو دوسرے پتھروں میں مل جل گیاہے، ان میں سے اسے الگ کرنا ہمارے بس کا روگ نہیں، اگر تمہارے پاس اس کی کوئی علامت ہے تو تلاش کرلو، چنانچہ علماءِ کرام سے استفسار کیاگیا تو انہوں نے ارشاد فرمایا : ان سب پتھروں کو آگ میں ڈالا جائے، جو پتھر آگ میں پگھل یا پھٹ جائیں وہ حجرِ اسود نہیں، حجرِ اسود کو آگ متاثر نہیں کر سکتی؛ کیوْںکہ یہ جنت کا پتھر ہے۔ اس طرح اس مقدس پتھر کی برتری اور مقبولیت کا لوہا منواکر اُسے واپس لوٹایا گیا اور پھر سے کعبہ شریف کی زینت بنادیا گیا۔علامہ جلال الدین سیوطی رحمہ اللہ نے لکھا ہے کہ:’’ یہ ظالم ابوطاہر چیچک کے عارضہ میں مبتلا ہوا، اس کا جسم پھٹ گیا اور نہایت ذلت کے ساتھ مرا۔ ‘‘ (اعلام الاعلام، ص:۱۶۵، مرقات،ج:۵،ص:۳۲۰)

Leave a Comment