ج-ن-گ ِجمل کیا ہے؟ ایک ایسی ج-ن-گ جس کے فریقین میں سےایک کی سربراہی حضرت عائشہ کررہی تھیں اوردوسرے فریق حضرت علی تھے

ج-ن-گ ِجمل کیا ہے؟ ایک ایسی ج-ن-گ جس کے فریقین میں سےایک کی سربراہی حضرت عائشہ کررہی تھیں اوردوسرے فریق حضرت علی تھے

بی کیو نیوز ! ج-ن-گ ِجمل کیا ہے؟ ایک ایسی ج-ن-گ جس کے فریقین میں سےایک کی سربراہی حضرت عائشہ کررہی تھیں اوردوسرے فریق حضرت علی تھے۔ فریقین ِج-ن-گ میں سے ایک کی سربراہی وہ معزز و محترم خاتون کر رہی تھیں جن کو اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کا بے پناہ اعتماد حاصل تھا۔ جن کو ام المومنین ہونے کا شرف حاصل تھا۔ جن کے حجرہ میں ہادی برحق صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے

آخری ایام گزارے۔ جن کا حجرہ ق-ی-ا-م-ت تک سرور عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آرام گاہ قرار پایا۔ وہ خاتون اُم المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا تھیں۔ دوسرے فریق کی سربراہی اس مردذی و قار کے ہاتھ میں تھی، جنہوں نے زیر سایۂ رسولِ مقبول پرورش پائی۔ جنہیں سیّد عالم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے اپنی لخت ِ جگر فاطمہ ؓبتول خاتونِ جنت کا رشتہ عطا فرمایا تھا۔ وہ مرد و فاسر شت حیدر ِکرارحضرت علی ابن ِ ابی طالب تھےانہیں آپس میں لڑنا زیبا نہیں تھا۔ انہیں ج-ن-گ نہیں کرنا چاہئیے تھی۔ انہوں نے کب آپس میں ج-ن-گ کی۔ چشم ِزمانہ گواہ ہے، ان فیض یافتگان بزمِ رسالت نے اپنی مرضی سے ج-ن-گ نہیں کی۔ انہیں جدال وقتال کی بھ-ٹی میں دغابازی اور فریب کاری سے جھونک دیا گیا۔ مصالحانہ کوششیں بار آور ہو چکی تھیں دونوں فریق پہلے اتفاق و اتحاد اور اصلاحِ احوال اور پھر قصاص کے فارمولہ پر متفق ہو چکے تھے، لیکن اتحاد بین المسلمین ش-رپسندوں اور اسلام دشمنوں کو بھلا کب راس آتا تھا۔ نہ ہی ہمیں زیب دیتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہم پر انگلی اٹھائیں، جن کا مرتبہ امت میں سب سے بلند ہے۔ شرپسندوں اور فتنہ پردازوں نے حالات سے فائدہ اٹھایا۔ جو بات بلاخوف و تردید کہی جاسکتی ہے وہ یہ ہے کہ ق-ات-لین ِعثمان ذوالنورین نے ہی آتش ِج-ن-گ کو بھڑکایا۔ انہوں نے اپنی جانیں بچانے کے لیے ایسا کیا۔ انہیں یقین تھا کہ مصالحت کی صورت میں ان کی گردنیں مار دی جائیں گی۔ دونوں متحارب گروہ دل سے ایک دوسرے سے مخلص تھے اور ہرگز ایک دوسرے کا یا امت کا نقصان نہ چاہتے تھے جیسا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں: ’’میں امید کرتا ہوں کہ ہمارا اور ان کا کوئی شخص ق-ت-ل نہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے ہم لوگوں کے دلوں کو صاف کر دیا ہے اور اگر کوئی م-قتول ہو گیا تو اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل فرمائے گا۔‘‘ (تاریخ ابن ِ خلدون) حضرت علی ابن ابی طالب نے یہ جواب ابو سلامہ دولانی کے سوال پر اس وقت دیا تھا، جب مصالحت کی گفتگو ہو رہی تھی اور اس کی کامیابی کے امکانات بے حد روشن تھے۔ حضرت امام جعفر صادق روایت کرتے ہیں کہ حضرت علی المرتضیٰ اپنے ساتھ ل-ڑنے والوں کے بارے میں یوں فرمایا کرتے تھے: ’’ہماری لڑائی اس وجہ سے نہیں ہوئی کہ وہ ہمیں کافر کہتے تھے۔ وہ خود کو حق پر سمجھتے تھے اور ہم نے اپنے آپ کو حق پر سمجھا۔‘‘(قرب الاسناد)

Leave a Comment