حضرت آدمؑ کی وفات

حضرت آدمؑ کی وفات

بی کیونیوز! حضرت آدمؑ کی وفات کا وقت آیا اور فرشتے گھر میں داخل ہوئے، تو آپ سمجھ گئے۔ اپنی اہلیہ، حضرت حوّاؑ اور اپنے بچّوں سے فرمایا کہ تم سب مجھے تنہا چھوڑ دو۔ اس کے بعد آپ اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں مصروف ہو گئے۔ فرشتوں نے رُوح قبض کی، پھر غسل دے کر ک-ف-ن دیا، خُوش بُو لگائی، گڑھا کھود کر ق-ب-ر بنائی۔ حضرت جبرائیلؑ نے اُن کے بیٹے، حضرت شیثؑ کو نمازِ ج-ن-ا-زہ پڑھنے کا طریقہ بتایا۔ آپؑ نے نماز ج-ن-ازہ پڑھائی۔ عام طور پر تاریخی کتب میں حضرت آدمؑ کی عُمر مبارکہ

960سال بیان کی گئی ہے۔ جنّتی اولاد اور ج-ہ-ن-م-ی اولاد۔ معراج کے سفر میں نبی کریمﷺ جب پہلے آسمان پر پہنچے، تو وہاں آپﷺ نے حضرت آدمؑ کو دیکھا، جن کے دائیں جانب بھی لوگوں کی جماعتیں تھیں اور بائیں جانب بھی۔ آپﷺ نے دیکھا کہ حضرت آدمؑ جب دائیں جانب دیکھتے ہیں، تو ہنستے ہیں اور بائیں جانب دیکھتے ہیں، تو روتے ہیں۔ آنحضرتﷺ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت جبرائیلؑ سے پوچھا’’ اے جبرائیلؑ! یہ کیا ہے؟‘‘ اُنہوں نے کہا’’ یہ حضرت آدمؑ ہیں اور یہ اُن کی اولاد کی روحیں ہیں۔ جب دائیں جانب دیکھتے ہیں، جو جنّتی ہیں، تو ہنستے ہیں اور جب بائیں جانب دیکھتے ہیں، جو ج-ہ-نّ-م-ی ہیں، تو روتے ہیں‘‘(صحیح بخاری،صحیح مسلم)۔ اسمِ محمدﷺ عرشِ معلّیٰ پر حضرت عُمرؓ سے مروی ہے کہ نبی کریمﷺ نے فرمایا کہ’’ جب حضرت آدمؑ سے لغ-زش ہو گئی، تو اُنہوں نے بارگاہِ خداوندی میں عرض کیا’’ اے میرے پروردگار! میں آپ سے محمدﷺ کے وسیلے سے سوال کرتا ہوں کہ آپ میری مغفرت فرما دیں۔‘‘ اللہ ربّ العزّت نے فرمایا’’ تُو نے محمدﷺ کو کیسے جان لیا؟ جب کہ میں نے اُن کو اب تک پیدا نہیں فرمایا۔‘‘حضرت آدمؑ نے عرض کیا’’اے پروردگار! جب آپ نے مجھے اپنے ہاتھوں سے پیدا فرمایا اور مجھ میں جان ڈالی، پھر میں نے اپنا سر اٹھایا تو عرش پر لکھا دیکھا ، لا الٰہ الا اللہ محمّد رسول اللہ، تو میں نے جان لیا کہ جس ذات کا نام، آپ نے اپنے نام کے ساتھ ملایا ہے، اس سے بڑھ کر آپ کے نزدیک اور کوئی محبوب نہیں ہو سکتا۔‘‘تو اللہ نے فرمایا’’ اے آدمؑ! تو نے سچ کہا، وہ میرے نزدیک سب سے محبوب ہیں اور جب تُو نے اُن کے وسیلے سے مجھ سے مانگ لیا، تو پس میں نے تیری بخشش کر دی اور اگر محمّدﷺ نہ ہوتے، تو میں آپ کو بھی پیدا نہ کرتا‘‘(ابنِ کثیر)

Leave a Comment