حضرت جبرائیل ؑ نےجب آپﷺ کوج-ہ-ن-م کے7 درجوں کےبارےمیں بتایا توآپﷺ پراپنی امت کی محبت میں کیا کیفیت طاری ہوئی تھی؟ ایک بارپڑھنےکے بعد آپ کا ایمان ضرورجوش مارے گا۔ ایک ایمان افروزتحریر

حضرت جبرائیل ؑ نےجب آپﷺ کوج-ہ-ن-م کے7 درجوں کےبارےمیں بتایا توآپﷺ پراپنی امت کی محبت میں کیا کیفیت طاری ہوئی تھی؟ ایک بارپڑھنےکے بعد آپ کا ایمان ضرورجوش مارے گا۔ ایک ایمان افروزتحریر

بی کیو نیوز! حضرت جبرائیل ؑ نےجب آپﷺ کوج-ہ-ن-م کے7 درجوں کےبارےمیں بتایا توآپﷺ پراپنی امت کی محبت میں کیا کیفیت طاری ہوئی تھی؟ ایک بارپڑھنےکے بعد آپ کا ایمان ضرورجوش مارے گا۔ ایک ایمان افروزتحریر. ایک بار جبرائیل علیہ سلام نبی کریم کے پاس آئے، تو آپﷺ نے دیکھا کہ حضرت جبرائیل کچھ پریشان ہیں. آپ نے فرمایا جبرائیل کیا معاملہ ہے کہ آج میں آپکو غمزدہ دیکھ رہا ہوں، حضرت جبرائیل نے عرض کی اے محبوب! کل میں اللہ پاک کے حکم سے ج-ہ-ن-م کا نظارہ کرکے آیا ہوں۔ اسکو دیکھنے

سے مجھ پہ غم کے آثار نمودار ہوئے ہیں۔ نبی کریم نے فرمایا حضرت جبرائیل مجھے بھی ج-ہ-ن-م کے حالات بتائو حضرت جبرائیل نے عرض کی ج-ہ-ن-م کے کل سات درجے ہیں، ان میں جو سب سے نیچے والا درجہ ہے، اللہ اس میں منافقوں کو رکھے گا۔ اس سے اوپر والے چھٹے درجے میں اللہ تعالی مشرک لوگوں کو ڈالیں گے۔ اس سے اوپر پانچویں درجے میں اللہ سورج اور چاند کی پرستش کرنے والوں کو ڈالیں گے۔ چوتھے درجے میں اللہ پاک آت-ش پرست لوگوں کو ڈالیں گے۔ تیسرے درجے میں اللہ پاک یہود کو ڈالیں گے۔ دوسرے درجے میں اللہ تعالی عیسائیوں کو ڈالیں گے۔ یہ کہہ کر حضرت جبریل علیہ السلام خاموش ہوگئے، تو نبی کریم نے پوچھا جبریل آپ خاموش کیوں ہوگئے، مجھے بتاو کہ پہلے درجے میں کون ہوگا؟ حضرت جبریل علیہ السلام نے عرض کیا اے اللہ کے رسول پہلے درجے میں اللہ پاک آپکے امت کے گنہگاروں کو ڈالیں گے۔ جب نبی کریم نے یہ سنا کہ میری امت کو بھی ج-ہ-ن-م میں ڈالا جائے گا، تو آپ بے حد غمگین ہوئے اور آپ نے اللہ کے حضور دعائیں کرنا شروع کیں۔ تین دن ایسے گزرے کہ اللہ کے محبوب مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے تشریف لاتے نماز پڑھ کر حجرے میں تشریف لے جاتے اور دروازہ بند کرکے اللہ کے حضور رو رو کر فریاد کرتے، صحابہ حیران تھے کہ نبی کریم پہ یہ کیسی کیفیت طاری ہوئی ہے؟ مسجد سے حجرے جاتے ہیں۔ گھر بھی تشریف لیکر نہیں جا رہے۔ جب تیسرا دن ہوا تو سیدنا ابو بکر سے رہا نہیں گیا وہ دروازے پہ آے دستک دی اور سلام کیا، لیکن سلام کا جواب نہیں آیا۔ آپ روتے ہوئے سیدنا عمر کے پاس آئے اور فرمایا کہ میں نے سلام کیا، لیکن سلام کا جواب نہ پایا۔ لہذا آپ جائیں آپ کو ہوسکتا ہے سلام کا جواب مل جائے آپ گئے تو آپ نے تین بار سلام کیا لیکن جواب نہ آیا۔ حضرت عمر نے سلمان فارسی کو بھیجا۔ لیکن پھر بھی سلام کا جواب نہ آیا حضرت سلمان فارسی نے واقعے کا تذکرہ علی رضی اللہ تعالی سے کیا انہوں نے سوچا کہ جب اتنے اعظیم شحصیات کو سلام کا جواب نہ ملا، تو مجھے بھی خودنہیں جانا چاہیئے۔ بلکہ مجھے انکی نور نظر بیٹی فاطمہ اندر بھیجنی چاہیئے۔ لہذا آپ نے فاطمہ رضی اللہ تعالی کو سب احوال بتا دیا آپ حجرے کے دروازے پہ آئی ” ابا جان اسلام وعلیکم” بیٹی کی آواز سن کر محبوب کائنات اٹھے، دروازہ کھولا اور سلام کا جواب دیا، ابا جان آپ پر کیا کیفیت ہے کہ تین دن سے آپ یہاں تشریف فرما ہیں۔ نبی کریم نے فرمایا کہ جبریل نے مجھے آگاہ کیا ہے کہ میری امت بھی ج-ہ-ن-م میں جائے گی۔ فاطمہ بیٹی! مجھے اپنے امت کے گنہگاروں کا غم کھائے جا رہا ہے اور میں اپنے مالک سے دعائیں کررہا ہوں کہ اللہ انکو معا ف کر اور ج-ہ-ن-م سے بری کرے یہ کہہ کر آپ پھر سجدے میں چلے گئے اور رونا شروع کیا یا اللہ! میری امت، یا اللہ! میری امت کے گناہگاروں پہ رحم کر، انکو ج-ہ-ن-م سے آزاد کر، کہ اتنے میں حکم آگیا “وَلَسَوْفَ يُعْطِيكَ رَبُّكَ فَتَرْضَى اے میرے محبوب غم نہ کر میں تم کو اتنا عطا کردوں گا کہ آپ راضی ہو جائیں گے۔ آپ ﷺخوشی سے کھل اٹھے اور فرمایا لوگوں اللہ نے مجھ سے وعدہ کرلیا ہے کہ وہ روز قیامت مجھے میری امت کے معاملے میں خوب راضی کرے گا اور میں نے اس وقت تک راضی نہیں ہوتا، جب تک میرا آخری امتی بھی جنت میں نہ چلا جائے۔ طبیعت اداس سی ہو گئی کہ ہمارے نبی ہم سے کتنی محبت رکھتے تھے۔ ہمارے نبی اتنا شفیق اورغم محسوس کرنے والے ہیں اور بدلے میں ہم نے انکو کیا دیا؟ آپکا ایک سیکنڈ اس تحریر کو دوسرے لوگوں تک پہنچانے کا زریعہ ہے۔ میری آپ سے عاجزانہ اپیل ہے کہ بلا حاصل حصول کے اور بے مقصد پوسٹس ہم سب شیئر کرتے ہیں۔ آج اپنے نبی کی رحمت کا یہ پہلو کیوں نہ شیئر کریں. آئیں ایک ایک شیئر ۔کرکہ اپنا حصہ ڈالیں . کیا پتہ کون گنہگار پڑھ کر راہ راست پہ آجائے.

Leave a Comment