حضرت زینبؓ بنت علیؓ کوحضرت محمدﷺ نے پہلی باربازؤوں میں اٹھا کر کیا کہا

بی کیو نیوز! حضرت زینبؓ بنت علیؓ کوحضرت محمدﷺ نے پہلی باربازؤوں میں اٹھا کر کیا کہا، حضرت زینبؓ بنت علی المرتضیؓ ایک مثال ہیں، رب تعالیٰ نے انہیں مثال ہی پیدا کیا تھا اور وہ قیامت تک ایک مثال ہی رہیں گی۔ نہ کسی کو وہ حسب نسب مل سکتا ہے اور نہ ہی اس قدر صبر و شکر اور حوصلہ جو حضرت زینبؓ کو عطا ہوا تھا۔ سانحہ کربلا نہ ہوتا تو شاید دنیا کو حضرت زینب ؓ کی عظمت کا راز سمجھ میں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہوتی۔ روشن مثال بھی بے مثال۔ سانحہ کربلا نے حضرت زینبؓ کی شخصیت میں مضمر اوصاف بےنقاب کرکے عالمی تاریخ میں ایک بےمثل، مثال کی شمع روشن کر دی جو تاق یا م ت انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی اور صبر و شکر، تسلیم و رضا کا درس دیتی رہے گی۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زینبؓ کو پیدائش کے بعد پہلی دفعہ دیکھا اور بازئوں میں اٹھایا تو فرمایا کہ زینبؓ اپنی نانی حضرت خدیجہؓ سے مشابہت رکھتی ہے۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ دنیا کی عظیم ترین ہستی اور محبوبؐ خدا اپنے نانا سے مشابہہ تھے۔ گویا حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ اور حضرت زینبؓ تینوں کو اپنے ننھیال سے سب سے زیادہ روحانی وراثت ملی تھی اور پھر حضرت فاطمہؓ کی گود اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کی پدرانہ شفقت اور توجہ گویا سونے پہ سہاگے والی بات تھی۔ حضور نبی کریمؐ نے اپنی پیاری نواسی کا نام بھی اپنی بیٹی زینب ؓ کے نام پر رکھا اور مشابہت اس ہستی سے قرار دی جس کے بارے میں نبی آخر الزمانؐ نے فرمایا تھا ’’خدا کی قسم اس نے مجھے کوئی ایسا مہربان عطا نہیں کیا جیسے خدیجہ ؓ تھیں‘‘کیا جلال ہے ان الفاظ میں اور ہاں یاد رکھو کہ جب اللہ کا نبی ﷺ قسم اٹھاتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دینے اور قسم اٹھانے کے لئے حاضر ہوجاتا ہے۔ اسی لئے مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ زہرہ اور حضرت زینبؓ کی موجودگی میں مسلمان خواتین، خاص طور پر مسلمان خواتین کو کسی آئیڈئل، کسی مثال اور کسی خاتون کی طرف دیکھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ان ہستیوں کو قلب و نگاہ میں رکھیں اور پھر دیکھیں کہ کس طرح رضائے الٰہی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں اور عظمت کی منزلیں طے ہوتی چلی جاتی ہیں۔ حضرت زینبؓ ہمارے پیارے رسولؐ کی پیاری نواسی، خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرہؓ کی چہیتی بیٹی اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا تھیں۔ پھر وہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سردارانِ نوجوانانِ جنت کی نہایت پیاری بہن تھیں۔ سچ یہ ہے کہ مسلمان کا ایمان عشق رسولؐ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ عشق رسولؐ کے بغیرمسلمانی کی منزل نہیں ملتی نہ ہی قلب و نگاہ روشن ہوتے اور باطن منور ہوتا ہے۔ لیکن عشق رسولؐ اہل بیت کی محبت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، جن عظیم اور مقدس ہستیوں کو رسول خدا ﷺ نے بازئوں میں اٹھا اٹھا کر کہا اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر، علیؓ، حسنؓ ، حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ کیا ان ہستیوں ،عظیم ترین ہستیوں، سے محبت کئے بغیر عشق رسولؐ کا سراغ مل سکتا ہے؟ دنیا کی عظیم شخصیات بھی اس حوالے سے حضرت زینبؓ کی خاک پا کے بھی قریب نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے محبوب رسول ﷺ نبی آخر الزمان کی نواسی، حضورﷺ کی نہایت پیاری بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی بیٹی اور مولائے کائنات خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا میدان کربلا میں اپنے پیارے بھائی حضرت امام حسینؓ اور اپنے دو جگر گوشوں حضرت محمد بن عبداللہؓ اور حضرت عون بن عبداللہؓ کے علاوہ اپنے بھتیجوں، بھانجوں، قریبی عزیزوں کی ش ہ ادت کے بعد صحرا کی وح ش ت اور رات کی تاریکی میں تنہا غموں کا پہاڑ اٹھائے بیٹھتی تھیں، لیکن نہ کوئی شکوہ و فریاد، نہ گریہ اور نہ ہی معصوم ہونٹوں پر شکایت۔ صبر کا دامن مضبوطی سے تھام رکھا تھا، اللہ کی رضا پر اس قدر راضی کہ اپنے رب سے ان قربانیوں کی قبولیت کی دعا میں مصروف تھیں۔ دوسری طرف دشمن کے خیموں میں فتح کا جشن منایا جارہا تھا۔ دشمن نے اہل بیت کی عبادت گزار اور حرم نبویؐ کی عفت مآب بیٹیوں کے سروں سے چادریں بھی اتار لی تھیں اور کانوں سے سونے کی بالیں بھی کھینچ لی تھیں۔ کئی دن سے بھوکی پیاسی حضرت زینبؓ اور بچوں کو یزیدی امیر لشکر عمر بن سعد نے جلا ہوا خیمہ بھیجا تو حضرت زینبؓ نے اسے بچوں پر لگا کر انہیں سلاد دیا اور خود عبادت میں مصروف ہوگئیں۔ ق ی ام ت کی اس رات بھی آپ ؓ نے نماز تہجد قضا کی اور نہ ذکر و اذکار میں کمی آنے دی۔ سبحان اللہ صبر و شکر اور رضائے الٰہی کی انتہا ہے کہ جب اس غم کے ل ہ و میں ڈوبے قافلے کو کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن ز یاد کے دربار میں لایا گیا، تو اس نے حضرت زینبؓ سے پوچھا۔ آپؓ نے اپنے بھائی کے سلسلے میں خدا کے امر کو کیسا پایا، حضرت زینبؓ نے نہایت اطمینان اور یقین کے ساتھ جواب دیا ’’ہم نے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ خدا کی طرف سے یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ انہیں مقتول دیکھے اور اب وہ لوگ خدا کی ابدی بارگاہ میں آرام کر رہے ہیں۔‘‘ یزید کے دربار میں حضرت زینبؓ کا خطاب جرأت و بہادری اور حق گوئی کی ایک منفرد مثال ہے۔ سرکاری فوج کے حصار میں جب یہ بھوکا پیاسا، ظلم و ستم کے زخ م وں سے چور قافلہ یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو حضرت زینبؓ نے حکمت و دانش اور جرأت و بہادری سے یزیدی خ راف ات کو مسترد کرتے ہوئے کہا’’تم اپنے زعم میں سمجھ رہے ہو کہ کامیابی مل گئی اور اہل بیت سرنگوں ہوگئے، مگر حقیقت میں اہل بیت کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ یزید اور اس کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو تباہ و برباد کر لیا ہے۔ ‘‘ تاریخ نے حضرت زینبؓ کے الفاظ پر مہر تصدیق ثبت کردی اور واضح کردیا کہ ؎ قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے۔ کسی بدو نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ ج ہ ن م کی آ۔گ کس شے سے ٹھنڈی ہوتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا ’’دنیا کی مصیبتوں پر صبر کرنے سے۔‘‘ بدو نے عرض کیا کہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا ’’اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔‘‘ حضرت زینبؓ جنہیں ہمارے پیارے رسولﷺ نے کھجور کے ساتھ اپنے لعابِ دہن سے’’گڑھتی‘‘ دی تھی صرف وہی عظیم ہستی اس قدر صبر و شکر کا مظاہرہ کرسکتی تھی اور صدمات میں ڈوب کر بھی اس قدر ذکر الٰہی کرسکتی تھی۔ ہم ان کی مثال کی شمع سے روشنی کی ایک کرن بھی حاصل کرلیں تو زندگی میں ایک انقلاب آجائے۔

بی کیو نیوز! حضرت زینبؓ بنت علیؓ کوحضرت محمدﷺ نے پہلی باربازؤوں میں اٹھا کر کیا کہا، حضرت زینبؓ بنت علی المرتضیؓ ایک مثال ہیں، رب تعالیٰ نے انہیں مثال ہی پیدا کیا تھا اور وہ قیامت تک ایک مثال ہی رہیں گی۔ نہ کسی کو وہ حسب نسب مل سکتا ہے اور نہ ہی اس قدر صبر و شکر اور حوصلہ جو حضرت زینبؓ کو عطا ہوا تھا۔ سانحہ کربلا نہ ہوتا تو شاید دنیا کو حضرت زینب ؓ کی عظمت

کا راز سمجھ میں نہ آتا اور نہ ہی ہمارے سامنے ایک روشن مثال ہوتی۔ روشن مثال بھی بے مثال۔ سانحہ کربلا نے حضرت زینبؓ کی شخصیت میں مضمر اوصاف بےنقاب کرکے عالمی تاریخ میں ایک بےمثل، مثال کی شمع روشن کر دی جو تاق یا م ت انسانیت کی رہنمائی کرتی رہے گی اور صبر و شکر، تسلیم و رضا کا درس دیتی رہے گی۔ ایسا کیوں نہ ہو کہ نبی کریم ﷺ نے حضرت زینبؓ کو پیدائش کے بعد پہلی دفعہ دیکھا اور بازئوں میں اٹھایا تو فرمایا کہ زینبؓ اپنی نانی حضرت خدیجہؓ سے مشابہت رکھتی ہے۔ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ دنیا کی عظیم ترین ہستی اور محبوبؐ خدا اپنے نانا سے مشابہہ تھے۔ گویا حضرت امام حسنؓ، حضرت امام حسینؓ اور حضرت زینبؓ تینوں کو اپنے ننھیال سے سب سے زیادہ روحانی وراثت ملی تھی اور پھر حضرت فاطمہؓ کی گود اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کی پدرانہ شفقت اور توجہ گویا سونے پہ سہاگے والی بات تھی۔ حضور نبی کریمؐ نے اپنی پیاری نواسی کا نام بھی اپنی بیٹی زینب ؓ کے نام پر رکھا اور مشابہت اس ہستی سے قرار دی جس کے بارے میں نبی آخر الزمانؐ نے فرمایا تھا ’’خدا کی قسم اس نے مجھے کوئی ایسا مہربان عطا نہیں کیا جیسے خدیجہ ؓ تھیں‘‘کیا جلال ہے ان الفاظ میں اور ہاں یاد رکھو کہ جب اللہ کا نبی ﷺ قسم اٹھاتا ہے تو کائنات کا ذرہ ذرہ گواہی دینے اور قسم اٹھانے کے لئے حاضر ہوجاتا ہے۔ اسی لئے مجھے اکثر یہ خیال آتا ہے کہ حضرت خدیجہؓ، حضرت فاطمہؓ زہرہ اور حضرت زینبؓ کی موجودگی میں مسلمان خواتین، خاص طور پر مسلمان خواتین کو کسی آئیڈئل، کسی مثال اور کسی خاتون کی طرف دیکھنے اور سیکھنے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ان ہستیوں کو قلب و نگاہ میں رکھیں اور پھر دیکھیں کہ کس طرح رضائے الٰہی کے دروازے کھلتے چلے جاتے ہیں اور عظمت کی منزلیں طے ہوتی چلی جاتی ہیں۔ حضرت زینبؓ ہمارے پیارے رسولؐ کی پیاری نواسی، خاتون جنت حضرت فاطمہ الزہرہؓ کی چہیتی بیٹی اور مولائے کائنات حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا تھیں۔ پھر وہ حضرت امام حسنؓ اور حضرت امام حسینؓ سردارانِ نوجوانانِ جنت کی نہایت پیاری بہن تھیں۔ سچ یہ ہے کہ مسلمان کا ایمان عشق رسولؐ کے بغیر مکمل نہیں ہوتا۔ عشق رسولؐ کے بغیرمسلمانی کی منزل نہیں ملتی نہ ہی قلب و نگاہ روشن ہوتے اور باطن منور ہوتا ہے۔ لیکن عشق رسولؐ اہل بیت کی محبت کے بغیر مکمل نہیں ہوتا، جن عظیم اور مقدس ہستیوں کو رسول خدا ﷺ نے بازئوں میں اٹھا اٹھا کر کہا اے اللہ میں ان سے محبت کرتا ہوں تو بھی ان سے محبت کر، علیؓ، حسنؓ ، حسینؓ مجھ سے ہیں اور میں ان سے ہوں۔ کیا ان ہستیوں ،عظیم ترین ہستیوں، سے محبت کئے بغیر عشق رسولؐ کا سراغ مل سکتا ہے؟ دنیا کی عظیم شخصیات بھی اس حوالے سے حضرت زینبؓ کی خاک پا کے بھی قریب نہیں۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ کے محبوب رسول ﷺ نبی آخر الزمان کی نواسی، حضورﷺ کی نہایت پیاری بیٹی خاتون جنت حضرت فاطمہؓ کی بیٹی اور مولائے کائنات خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کے جگر کا ٹکڑا میدان کربلا میں اپنے پیارے بھائی حضرت امام حسینؓ اور اپنے دو جگر گوشوں حضرت محمد بن عبداللہؓ اور حضرت عون بن عبداللہؓ کے علاوہ اپنے بھتیجوں، بھانجوں، قریبی عزیزوں کی ش ہ ادت کے بعد صحرا کی وح ش ت اور رات کی تاریکی میں تنہا غموں کا پہاڑ اٹھائے بیٹھتی تھیں، لیکن نہ کوئی شکوہ و فریاد، نہ گریہ اور نہ ہی معصوم ہونٹوں پر شکایت۔ صبر کا دامن مضبوطی سے تھام رکھا تھا، اللہ کی رضا پر اس قدر راضی کہ اپنے رب سے ان قربانیوں کی قبولیت کی دعا میں مصروف تھیں۔ دوسری طرف دشمن کے خیموں میں فتح کا جشن منایا جارہا تھا۔ دشمن نے اہل بیت کی عبادت گزار اور حرم نبویؐ کی عفت مآب بیٹیوں کے سروں سے چادریں بھی اتار لی تھیں اور کانوں سے سونے کی بالیں بھی کھینچ لی تھیں۔ کئی دن سے بھوکی پیاسی حضرت زینبؓ اور بچوں کو یزیدی امیر لشکر عمر بن سعد نے جلا ہوا خیمہ بھیجا تو حضرت زینبؓ نے اسے بچوں پر لگا کر انہیں سلاد دیا اور خود عبادت میں مصروف ہوگئیں۔ ق ی ام ت کی اس رات بھی آپ ؓ نے نماز تہجد قضا کی اور نہ ذکر و اذکار میں کمی آنے دی۔ سبحان اللہ صبر و شکر اور رضائے الٰہی کی انتہا ہے کہ جب اس غم کے ل ہ و میں ڈوبے قافلے کو کوفہ کے گورنر عبید اللہ بن ز یاد کے دربار میں لایا گیا، تو اس نے حضرت زینبؓ سے پوچھا۔ آپؓ نے اپنے بھائی کے سلسلے میں خدا کے امر کو کیسا پایا، حضرت زینبؓ نے نہایت اطمینان اور یقین کے ساتھ جواب دیا ’’ہم نے اچھائی کے علاوہ کچھ نہیں دیکھا۔ خدا کی طرف سے یہ فیصلہ ہوچکا تھا کہ انہیں مقتول دیکھے اور اب وہ لوگ خدا کی ابدی بارگاہ میں آرام کر رہے ہیں۔‘‘ یزید کے دربار میں حضرت زینبؓ کا خطاب جرأت و بہادری اور حق گوئی کی ایک منفرد مثال ہے۔ سرکاری فوج کے حصار میں جب یہ بھوکا پیاسا، ظلم و ستم کے زخ م وں سے چور قافلہ یزید کے دربار میں پیش کیا گیا تو حضرت زینبؓ نے حکمت و دانش اور جرأت و بہادری سے یزیدی خ راف ات کو مسترد کرتے ہوئے کہا’’تم اپنے زعم میں سمجھ رہے ہو کہ کامیابی مل گئی اور اہل بیت سرنگوں ہوگئے، مگر حقیقت میں اہل بیت کا کوئی نقصان نہیں ہوا بلکہ یزید اور اس کے ساتھیوں نے اپنے آپ کو تباہ و برباد کر لیا ہے۔ ‘‘ تاریخ نے حضرت زینبؓ کے الفاظ پر مہر تصدیق ثبت کردی اور واضح کردیا کہ ؎ قتل حسینؓ اصل میں مرگ یزید ہے۔ کسی بدو نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ ج ہ ن م کی آ۔گ کس شے سے ٹھنڈی ہوتی ہے؟ آپؐ نے فرمایا ’’دنیا کی مصیبتوں پر صبر کرنے سے۔‘‘ بدو نے عرض کیا کہ اللہ کا قرب حاصل کرنا چاہتا ہوں۔ آپؐ نے فرمایا ’’اللہ کا ذکر کثرت سے کیا کرو۔‘‘ حضرت زینبؓ جنہیں ہمارے پیارے رسولﷺ نے کھجور کے ساتھ اپنے لعابِ دہن سے’’گڑھتی‘‘ دی تھی صرف وہی عظیم ہستی اس قدر صبر و شکر کا مظاہرہ کرسکتی تھی اور صدمات میں ڈوب کر بھی اس قدر ذکر الٰہی کرسکتی تھی۔ ہم ان کی مثال کی شمع سے روشنی کی ایک کرن بھی حاصل کرلیں تو زندگی میں ایک انقلاب آجائے۔

Leave a Comment