حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا

حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا

بی کیو نیوز! حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری بیٹی ہیں یہ حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے چھوٹی ہیں۔ یہ بھی حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے بطن سے پیدا ہوئیں۔ قبول اسلام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی نگرانی میں ہوش سنبھالا۔اور آغوش رسات میں پرورش پائی۔ جب حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا تو یہ تمام بہنیں اپنی والدہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہمراہ

اسلا م لائیں۔ اسدالغابہ ج۵ ص۲۱۶ ۔ طبقات ابن سعد ص۵۲ ۔ نکاح اوّل اور طلاق اعلان نبوت سے پہلے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح اپنے چچا ابو لہب کے بیٹے عتیبہ کے ساتھ کر دیا تھا۔ لیکن جب اسلام کا دور آیا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اعلان نبوت فرمایا۔ اورقرآن مجید کا نزول شروع ہوا۔ اور قرآن کریم میں سورہ لہب نازل ہوئی جس میں ابو لہب اور اس کی بیوی کی مزمت کی گئی۔ تو ابو لہب نے اپنے بیٹے عتیبہ سے کہا کہا۔ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی کو طلاق دے دو۔ تو عتیبہ نے طلاق دے دی۔ مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ مکرمہ سے مدینہ طیّبہ کی طرف ہجرت فرمائی ۔تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے خاندان کے کچھ افراد مکہ میں رہ گئے تھی۔ جن میں ام المومنین حضرت سودہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور آپ کی بیٹی حضرت ام کلثوم اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا شامل تھیں۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو رافع اور حضرت زید بن حارثہ کو روانہ کیا ۔اور خرچ کے لیے ۰۰۵درہم حضرت ابوبکر صدیق نے پیش کیے۔ چناچہ حضرت زید بن حارثہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اورحضرت ابو رافع رضی اللہ تعالیٰ عنہ مکہ مکرمہ پہنچے اورنبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر والوں یعنی ام المؤمنین حضر ت سو دہ بنت زمعہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو لے کر مدینہ طیّبہ جا پہنچے ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۸۱۱ ۔البدایہ لابن کثیر ج۳ ۲۰۲۔ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی شادی حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا۔ مااناازواجّ بناتی ولکن اللہ تعالی ٰیزوجھن ۔میں اپنی بیٹیوں کو

اپنی مرضی سی کسی کی تزویج میں نہیں دیتا۔ بلکہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ان کے نکاحوں کے فیصلے ہوتے ہیں۔ المستدرک للحاکم ج۴ ص۹۴۔ جب حضرت رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال ہوا۔ تو حضر ت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو سخت صدمہ پہنچا ۔وہ ہر وقت غم میں ڈوبے رہتے تھے ۔چناچہ ایک دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غمگین دیکھا تو فرمایا۔ مالی اراک مھموما ؟ عثمان تمیں کیوں غمزدہ دیکھ رہا ہوں ؟سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ تعالیٰ عنہ عرض کرتے ہیں ۔آقا مصیبت کا جوپہاڑ مجھ پر گرا ہے کسی اور پر نہیں گرا ۔اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بیٹی جو میرے نکاح میں تھی ۔انتقال کر فرما گئیں۔ جس سے میری کمر ٹوٹ گئی۔ اور وہ رشتہ مصاحبت بھی ختم ہو گیا جو میرے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درمیان تھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تسلی دی اورفرمایا کہ یہ جبرائیل میرے پاس آے ہیں اور مجھے خبر دی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حکم فرمایا ہے کہ میں ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو آپ کے نکاح میں دوں اور جو مہر رقیہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے لیے مقرر ہوا تھااُسی کے موافق ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا مہر ہو ۔ابن ماجہ ۔اسدالغابہ ج۵ ص۳۱۶ ۔کنزالعمال ج۶ص۵۷۳ ۔چناچہ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا نکاح حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ساتھ ربیع ا لاوّل ۲ہجری میں ہوا ۔ اور جمادی الاخریٰ میں رخصتی ہوئی ۔طبقات ابن سعد ج ۸ ص۵۲ ۔اسد الاغابہ لابن اثیر الجزری ج۵ ص۳۱۶ ۔حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا ایک منفرد اعزاز حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دو لخت جگر آئیں۔ جس کی وجہ سے ان کو ذوالنورین کہا جاتا ہے۔ اسی طرح

انہیں دوہجرتیں کرنے کا اعزاز حاصل ہوا۔ ایک حبشہ ایک مدینہ کی طرف تو ذوالہجرتین کا لقب حاصل ہوا۔ ابن عساکرمیں ہے ہےحضرت آدم علیہ وسلم سے لیکر حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تک کوئی ا نسان ایسا نہیں گزرا جس کے نکاح میںکسی نبی کی دو بیٹیا ںآئی ہوں سوائے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے۔ عدم اولاد روایات کے مطابق حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی کوئی اولاد نہیں ہوئی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ بے مثال شوہر ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے پاس گئے اور فرمایا: بیٹی: عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہاں ہیں۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا کہ کسی کام سے گئے ہیں پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا تم نے اپنے شوہر کو کیسا پایا ؟ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے عرض کیا۔ اباجان وہ بہت اچھے اور بلند مرتبہ شوہر ثابت ہوے ہیں۔ آ پ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا .ْبیٹی کیوں نہ ہوں۔ وہ دنیا میں تمہارے دادا حضرت ابراہیم علیہ اسلام اور تمہارے باپ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بہت مشابہ ہیں ۔ایک حدیث میں یہ الفاظ بھی ملتے ہیں کہ حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ میرے صحابہ میں سب سے زیادہ میرے اخلاق اور عادات سے مشابہ ہیں ۔ سیرت حلبیہ ج۴ ص۴۴۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا انتقال حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ تیسری بیٹی حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہابھی شعبان ۹ہجری کو انتقال فرما گئیں۔ حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا چھ سال تک حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے نکاح میں رہیں۔ طبقات ابن سعد ج۸ ص۵۲ ۔ سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا

کے انتقال پر حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ ایک د فعہ پھر غموں کے سمندر کے میں ڈوب گئے۔ ان حالات میں بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عثمان رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو تسلی دیتے ہوے ارشاد فرمایا :لو کن عشرا لزوجّتھن عثمان ِ،، یعنی میرے پاس دس بیٹیاں بھی ہوتی تو میں یکے بعد دیگری عثمان کے نکاح میں دے دیتا ،، طبقات ابن سعدج۸ص۵۲ ،مجمع الزوائدللھیثمی ج۹ ص۷۱۲ ۔ بعض روایات میں اس سے زیادہ تعداد بھی منقول ہے۔ حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا غسل اور نماز جنازہ حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے انتقال کے بعد اُن کے غُسل وکفن کے انتظامات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خود فرمائے ۔سیدہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاکو غسل حضرت اسما بنت عمیس رضی اللہ تعالیٰ عنہا ،سیدہ صفیہ بنت عبدالمطلبرضی اللہ تعالیٰ عنہا،لیلیُ بنت قانف رضی اللہ تعالیٰ عنہا،اور ام عطیہ انصاریہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے دیا ۔طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲،اسد الغابہ ج۵ ص۲۱۶۔جب حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کا غسل اور کفن ہو چکا تو ان کے جنازہ کے لیے حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنہم بھی تھے۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز جنازہ پڑھائی اور ان کے لیے دعائے مغفرت فرمائی: طبقات ابن سعد ج۸ ص۶۲ ،شرح مواھب اللدنیہ للزرقانی ج۳ص۰۰۲۔ حضرت سیدہ ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکا دفن نماز جنازہ کے بعد آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو دفن کرنے کے لیے جنت البقیع میں لایا گیا ۔اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لائے۔ حضرت

ابو طلحہ انصاری رضی اللہ تعالیٰ عنہ ق-بر میں اترے، اور بعض روایات میں ہے کہ حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ، حضر ت فضل بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ، اور حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ تعالیٰ عنہ بھی ان کے ساتھ ق-بر میں اترے اور دفن میں معاونت کی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آنسو حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں۔ کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حضرت ام کلثوم رضی اللہ تعالیٰ عنہاکے دفن کے موقع پرق-بر کے پاس تشریف فرما تھے۔ میں نے دیکھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے فرط غم کی وجہ سی آنسو جاری تھے

Leave a Comment