حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے، سینگوں والے، سیاہ و سفید رنگت والے دو مینڈے خریدتے اُن میں سے ایک۔۔۔

حضرت عائشہ سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ جب قربانی کاارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ و سفید رنگت والےدو خصی مینڈے خریدتے اُن میں سے ایک۔۔۔

بی کیونیوز!‌ حضور اقدس ﷺ کا اپنی امت کی طرف سے قربانی کرنا سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالی عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ جب قربانی کا ارادہ فرماتے تو بڑے موٹے تازے سینگوں والے سیاہ و سفید رنگت والے دو خصی مینڈے خریدتے، اُن میں سے ایک اپنے اُن امتیوں کی طرف سے قربان کرتے جنھوں نے اللہ کی توحید اور آپ کی تبلیغ کی گواہی دی، اور دوسری اپنی اور اپنے اہل وعیال کی طرف سے قربان کرتے۔ (مسند احمد) حضرت جابر بن عبداللہ ؓ روایت کرتے ہیں کہ

رسول اللہﷺ نے (دونوں دنبے) اپنے دست مبارک سے ذبح کیے اور یوں فرمایا کہ بسم اللہ،واللہ اکبر، اے اللہ! یہ قربانی میری جانب سے ہے اور میری امت کے ہر اس فرد کیطرف سے ہے جس نے قربانی نہیں کی۔ (مسند احمد) حضرت سیدنا حسن مجتبٰیؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جس شخص نے دلی خوشی کیساتھ اجروثواب کی امید رکھتے ہوئے قربانی کی تو وہ قربانی اُس کیلئے دوزخ سے آڑ بن جائے گی (معجم کبیر للطبرانی) حضرت سیدنا ابوھریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس کے پاس وسعت ہو اور وہ اس کے باوجود بھی قربانی نہ کرے تو وہ ہماری عیدگاہ کے قریب بھی نہ آئے۔ (سنن ابن ماجہ ) جو لوگ مالی وسعت یعنی قربانی کی استطاعت رکھتے ہوئے بھی قربانی ادا نہیں کرتے وہ آنکھیں کھولیں! اور اپنے ایمان کی خیر منائیں، اوّل یہی خسارہ کیا کم تھا کہ قربانی نہ کرنے سے اتنے بڑے ثواب سے محروم ہو گئے، پھر اس سے بڑھ کر صاحب رؤف رحیم مجسم رحمت پیکر شفقت حضور نبی کریم ﷺ ناراض ہو جائیں اور عیدگاہ میں حاضری سے روک دیں تو سوچیئے! ایسے شخص کا کہاں ٹھکانہ ہو گا۔۔؟؟ عیدگاہیں اور مساجد اللہ تعالی کی محبوب جگہیں ہیں، جہاں جمع ہونے والوں پر بارگاہ الہی سے عفو و کرم کی بارش ہوتی ہے، یہاں کی حاضری سے بدنصیب سے بدنصیب ہی کو روکا جا سکتا ہے، اسلئے بخل سے کام نہ لیجیئے،جسکا یہ مال دیا ہوا ہے قربانی کا حکم بھی اسی کا ہے۔ لہذا سلامتی کے حصول کیلئے حکم ربی کی تعمیل کیجیئے.

Leave a Comment