حضرت علی ؓ کو ایک بےایمان دوکاندارنےنہیں پہچانا اورایک لونڈی کی خاطران سےلڑنےمرنےکو تیار ہوگیا، توحضرت علی ؓ نےاسکوکیاکہا؟

حضرت علی ؓ کو ایک بےایمان دوکاندارنےنہیں پہچانا اورایک لونڈی کی خاطران سےلڑنےمرنےکو تیار ہوگیا، توحضرت علی ؓ نےاسکوکیاکہا؟

بی کیو نیوز! حضرت علی ؓ کو ایک بےایمان دوکاندارنےنہیں پہچانا اورایک لونڈی کی خاطران سےلڑنےمرنےکو تیار ہوگیا، توحضرت علی ؓ نےاسکوکیاکہا؟ ایک روز حضرت علی، چھوہارے بیچنے والوں کے بازار سے گزررہے تھے کہ آپ نے ایک لونڈی کو روتے ہوئے دیکھا، آپ نے رک کر اس سے پوچھا کیا بات ہے، کیوں رو رہی ہو؟ لونڈی نے روتے ہوئے جواب دیا, میرے مالک نے مجھ سے ایک درہم کے چھوہارے

منگوائے تھے. میں نے بازارکے ایک دوکاندار سے چھوہارے خریدے، اور اپنے مالک کے پاس لےگئی۔ مگر مالک نے کہا کہ یہ خراب ہیں واپس کرکے آؤ! میں یہاں آئی ہوں لیکن یہ دوکاندار واپس نہیں لیتا، حضرت علی نے دوکاندار سے کہا اے اللہ کے بندے، یہ بے چاری تو ایک ملازمہ ہے اس کا اس معاملے سے کوئی ذاتی تعلق نہیں، اس کا درہم واپس کراور چھوہارے واپس لےلے۔ مگر وہ دوکاندار حضرت علی کو پہچانتا نہیں تھا اس لیے لڑنے مرنے کو تیار ہو گیا۔ شور سن کر لوگ ادھر ادھر سے آ گئے اور کہنے لگے، بدنصیب کیا کرتا ہے، یہ امیرالمومنین ہیں، یہ سنتے ہی دوکاندار خوف سے پیلا پڑگیا۔ اور تھرتھر کانپنے لگا، اس نے چھوہارے واپس لے کر لونڈی کا درہم واپس کردیا اور ہاتھ جوڑ کر حضرت علی سے بولا  اے امیر المومنین مجھے معاف کر دیجیے۔جو کچھ ہوا میری لاعلمی کی وجہ سے ہوا۔ کیا آپ مجھ سے راضی ہیں؟ حضرت علی نے کمال شفقت سے فرمایا میں تجھ سے راضی ہوں گا۔ جب تو اپنے حال کی اصلاح کر لے گا۔ اسلام کے نقطۂ نگاہ سے ایمان ہی ہمارے تمام اعمال کی اساس ہے جس کے بغیر ہر عمل بے بنیاد ہے، وہ ہماری سیرابی کا اصلی سرچشمہ ہے، جس کے فقدان سے ہمارے کاموں کی حقیقت سراب سے زیادہ نہیں رہتی، کیونکہ وہ دیکھنے میں تو کام معلوم ہوتے ہیں مگر روحانی اثر و فائدے سے خالی اور بے نتیجہ ہوتے ہیں، خدا کے وجود کا اقرار اور اس کی رضامندی کا حصول ہمارے اعمال کی غرض و غایت ہے، یہ نہ ہو تو ہمارے تمام کام بے نظام اور بے مقصد ہوکر رہ جائیں، وہ ہمارے دل کا نور ہے، وہ نہ ہو تو پوری زندگی تیرہ و تاریک نظر آئے.

Leave a Comment