حضرت علی رضی اللہ عنہ نےفرمایا: میں دو چیزوں سے بہت زیادہ خوف زدہ رہتا ہوں؟؟ جانیئے وہ دو چیزیں کونسی ہیں؟؟

حضرت علی رضی اللہ عنہ نےفرمایا: میں دو چیزوں سے بہت زیادہ خوف زدہ رہتا ہوں؟؟ جانیئے وہ دو چیزیں کونسی ہیں؟؟

بی کیونیوز! جب تم دنیا کی مفلسی سے تنگ آجاؤ اور رزق کا کوئی رستہ نہ نکلے، تو صدقہ دے کر اللہ سے تجارت کرو۔ جس انسان کو غصہ زیادہ آتا ہے وہ انسان پیا ر بھی اتنا ہی زیادہ کرتا ہے اور اتنا ہی صاف دل رکھتاہے۔ کسی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: اگر کسی کو کمرے میں بند کردیا جائے تواس کی روزی کہاں سے آئے گی. حضرت علی رضی اللہ نے فرمایا: جہاں سے اس کو موت آئے گی۔ جب تمہارے دل میں کسی کے لیے نفرت پید ا ہونے لگے تو فوراً اس کی اچھائی کو یاد کرو۔ میں دو چیزوں سے بہت زیادہ خوف زدہ رہتا

ہوں۔ اول: خواہش کی پیروی اور دوم: لمبی امیدیں۔ تین چیزیں انسان کو اللہ سے دور کرتی ہیں۔ پہلی اپنے اعمال کو زیادہ سمجھنا اور دوسری اپنے گ ن اہ وں کو بھول جانا اور تیسری اپنے آپ کو بہترسمجھنا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جب خدا کسی بندے کو نیک بنانا چاہتا ہے تو اسے کم بولنے، کم کھانے اور کم سونے کا الہام کردیتاہے۔ حضرت علی رضی اللہ کافرمان ہے: دوست کا امتحان مصیبت میں ہوتا ہے، بیوی کا امتحان غربت میں، مومن کا امتحان غصے میں، آنکھ کا امتحان بازار میں، زبان کا امتحان محفل میں، دل کا امتحان عشق میں، دل کا امتحان عشق میں، ہاتھ کا امتحان کھانا کھانے کسی کو چاہنا ہوتو د ل سے چاہو، زبان سے نہیں اور کسی پر غصہ کرو تو صرف زبان سے دل سے نہیں۔ بچے کو جب کوئی تکلیف یا بیماری آتی ہے تو اللہ اس بچے کی بیماری کے بدلے بچے کی ماں کے گ ن اہ معاف فرماتا ہے۔ اگر کوئی شخص اپنی بھوک مٹانے کے لیے روٹی چوری کرے تو چور کے ہاتھ کاٹنے کے بجائے بادشاہ کے ہاتھ کاٹے جائیں۔ جو بات کوئی کہے تو اس کے لیے برا خیال اس وقت تک نہ کرو، جب تک اس کا کوئی اچھا مطلب نکل سکے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: جس نے اپنی پریشا نیوں کو لوگوں پر ظاہر کیا تو وہ اپنی ذلت پر راضی ہو گیا۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا:جس آدمی کی زبان خراب ہوجاتی ہے اس کا نصیب بھی خراب ہوجاتاہے۔ پریشانی خاموش رہنے سے کم، صبر کرنے سے ختم اور شکر کرنے سے خوشی میں بدل جاتی ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: لوگ دو طرح کے ہیں ایک سخی لیکن ان کے پاس پیسہ نہیں ہوتا، دوسرے مالدار مگر وہ کسی کی حاجت روائی نہیں کرتے.

Leave a Comment