حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سورۃالسجدہ ہر شب جمعہ پڑھے، خدا اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا اور

حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سورہ سجدہ ہر شب جمعہ پڑہے، خدا اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا اور اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا

بی کیو نیوز! حضرت محمدﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جو شخص سورۃالسجدہ ہر شب جمعہ پڑھے، خدا اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا اور اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا۔ اس سورہ کا نام بعض روایات میں اور مشہور مفسرین حم سجدہ سے جدابیان کرنے کے لیے اور سجدہ لقمان کے نام سے پکارا ہے۔ کیونکہ یہ سورہ لقمان کے بعدقرارپایاہے۔ بعض روایات میں اسے ”الم تنزیل“ کے نام سے یادکیا جاتاہے۔ ایک حدیث

میں پیغمبر اسلام صلی الله وآلہ وسلّم سے یوں مذکور ہے ”من قراٴ الم تنزیل وتبارک الّذی بیدہ الملک، فکانّما احیا لیلة القدر۔“ جو شخص سورہ الم تنزیل اور ”تبارک الّذی “ کو پڑھے تو گویا اس نے شبّ قدر جاگ کر گزاری. ایک دوسری حدیث میں امام جعفربن محمد صادق علیہ السلام سے اس طرح نقل ہوا ہے: ”من قرء سورة السجدة فی کلّ لیلة جمعة اٴعطاہ الله کتابہ بیمینہ، ولم یحاسبہ بما کان منہ، وکان من رفقاء محمّد واٴہل بیتہ“ ”جو شخص سورہ سجدہ ہر شب جمعہ پڑھے خدا اس کا نامہٴ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دے گا اور اس کے گزشتہ گناہوں کو بخش دے گا اور محمدواہل ِ بیت محمدعلیہم السلام کے دوستوں میں ہوگا۔ چونکہ اس سُورہ میں مبدء ومعاداور قیامت کے دن مجرمین کے عذاب وسزا اور ہو شیارو بیدار کرنے والے دروس موٴمنین اور کافرین سے متعلق وسیع اور تفصیلی مبا حث آئی ہیں، یقینا اس کی تلاوت انسان کی حدتک اصلاح کر سکتی ہیں کہ ان تمام فضائل اوراعزازات کا مستحق قرار پاتا ہے۔ اور اس کا بیدار کرنے والا اگر شب قدر کی بیداری کے مانند ہوتا ہے، جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ وہ اصحاب یمین کی صف میں کھڑا نظر آتا ہے اور پیغمبر اوران کی آل کی دوستی اور رفاقت کے اعزاز وافتخار کا حامل ہوتا ہے۔ اس کے چند مباحث توجہ طلب ہیں : ۱۔ سب سے پہلے عظمت قرآن کے بارے میں گفتگو ہے اور اس کا پر وردگار عالمین کی طرف سے نازل ہونے اور دشمنی کے الزامات کی نفی ہے ۔ 2۔ اس کے بعدآسمان وزمین میں خدا کی نشانوں اور اس کائنات کے چلانے کے سلسلہ میں بحث ہے۔ 3۔ایک اور بحث انسان کی ”مٹی“ اور ”نطفہ کے پانی“ اور ”خدا کی رُوح“ سے خلقت اور علم ودانش کو حاصل کرنے کے ذرائع یعنی آنکھ، کان اور عقل کا خدا کی طرف سے عطیہ ہو نا ہے۔ 4۔اس کے بعدقیامت اور اس کے پہلے کے حوادث یعنی موت اور اس کے بعد یعنی سوال وجواب حساب کے بارے میں گفتگو ہے۔ 5اور موٴثراور ہلادینے والی بشارت دانداز کی مباحث ہیں۔ جن میں مومنین کو جنّة المادیٰ کی نو یددیتا ہے اور فاسقین کو جہنّم کی آگ سے ڈراتاہے۔ 6۔ اسی منا سبت سے بنی اسرائیل کی تاریخ اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی سرگزشت اور اسی امّت کی کامیابیوں کی طرف مختصرسا اشارہ بھی ہے۔ 7۔ دوبارہ بشارت وانداز کی بحث کے پیش نظر گزشتہ اُمتوں میں سے ایک گروہ کے حالات اور اس کے درد ناک انجام کی طرف اشارہ ہے۔ 8اور 9۔ دوبارہ مسئلہ توحید اور عظمت خدا کی نشانیوں کی طرف لوٹتا ہے اور ”ضدی وہٹ دھرم دشمنوں“ کو متنبہ کرنے کے بعد سُورۃ اپنے اختتام کو پہنچتی ہے۔ تو اس طرح سے اس سورہ کا اصل مقصد ایمان کی بنیادوں کو مضبوط کرنا اور اس کے ذریعے تقویٰ کی طرف متحرک کرنا ہے، جس سے لوگ طغیان اور سرکشی سے بازآجائیں اور اپنے بلند انسانی مرتبہ کی قیمت کو پہچانیں۔ جس کی اسلام کی ابتدائی تحریک کے ایاّم میں سرزمین مکہّ کے ماحول کے لیے از حد ضرورت تھی۔ ۱۔ مجمع البیان، ج۸، ض۳۲۵. 2۔ مجمع البیان، ج۸، ض۳۲۵.

Leave a Comment