حضرت محمدﷺ کےبچپن کا ایمان افروز واقعہ، حضرت حلیمہ کیا دیکھ کر بے ہوش ہوگئیں کہ آپﷺ کو انکی والدہ کے پاس واپس چھوڑگئیں؟

حضرت محمدﷺ کےبچپن کا ایمان افروز واقعہ، حضرت حلیمہ کیا دیکھ کر بے ہوش ہوگئیں کہ آپﷺ کو انکی والدہ کے پاس واپس چھوڑگئیں؟

بی کیونیوز! حضرت محمد ﷺ کے بچپن کے بارے میں آگاہ کریں گے۔ آپ ﷺنے اپنا بچپن ماں سے دور کیوں گزارا اور حضرت ِ حلیمہ کس چیز سے ڈر کر آپ ﷺ کو واپس۔ آپ ﷺ کو واپس آپ ﷺ کی والدہ پاس لے آئیں اور آپ ﷺ کی والدہ انتقال کب ہوا؟ اور کیا والدہ کے انتقال کے وقت آپ ﷺ وہاں مو جود تھے یا نہیں ۔ اور اس کے علاوہ کیا آپ ﷺ کا بچپن بھی سب بچوں جیسا گزرا۔ یا ان میں بچپن سے ہی نبوت کی نشانیاں مو جود تھیں؟ آپ ﷺ نے والد ِمحترم حضرت عبداللہ ابن عبدالمطلب آپ کی ولادت

چھ ماہ قبل وفات پا چکے تھے اور آپ ﷺ کی پرورش آپ کے دادا جان حضرت ِعبدالمطلب نے کی۔ اس طرح آپ ﷺ نے کچھ مدت ایک مدوی قبیلہ کے ساتھ بسر کیا۔ جیسا عرب کا رواج تھا۔ اس کا مقصد بچوں کو فصیح عربی زبان سکھانا اور کھلی آ ب وہوا صحت مند طریقے سے پرورش کرنا تھا۔ پیدائش کے بعد چار روز تک والدہ نے بیٹے کو دودھ پلایا اور پھر چھ دن ابولہب کی لونڈ ی صوبیا نے دودھ پلایا۔ طائف اور دیگر صحت افزاء مقامات سے دو دھ پلا نے والی مائیں بچے لینے آ تی تھیں۔ یتیم دیکھ کر کئی عورتوں نے محمدﷺ کو گود نہ لیا۔ حلیمہ سعدیہ ہر اعتبار سے کمزور تھیں اور انھیں کوئی بچہ بھی نہیں ملا تھا۔ لہٰذا گھر بغیر بچے جانے کے یتیم محمد ﷺ کو گود لینا پسند کیا اور قافلے کے ساتھ روانہ ہو گئیں۔ حلیمہ نے سوچا میں بچے کو غسل کرا دوں ۔ مشکیزے میں پانی بھرنے لگیں تو وہ گویا ستاروں سے بھر گیا۔ بڑی حیران ہوئیں جب غسل دیا ۔پھر مشکیزے سےستارے نکل رہے تھے۔ پھر اس کےبعد حضرت حلیمہ کے خاوندحارث نے کہا کہ حلیمہ بکریوں کے تھن دودھ سے بھر گئے ہیں۔ حلیمہ نے کہا میں بھی ایسا ہی محسوس کر رہی ہوں۔ بچے سیر ہو کر دودھ پئیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ قافلے اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گئے تھے۔ حلیمہ کے جو جانور آتے ہوئے جو چل نہیں رہے تھے۔ وہ اب دوڑ رہے تھے۔ دو سال کے بعد حلیمہ حضرت محمد ﷺ کو لے کر ان کی والدہ کے پاس آئیں ۔ ان کی والدہ نے یہ کہہ کر انہیں واپس کر دیا کہ ابھی اپنے پاس ہی رکھیں۔ اچھی آب و ہوا میں صحت اور اچھی ہو جائے گی۔ مزید دو سال بعد حلیمہ نے دیکھا کہ آپ گھر کے با ہر کھیل رہے تھے۔ ایک فرشتے نے آپ ﷺ کا سینہ مبارک چاک کر کے قلب اطہر نکالا ۔ اس کو آ ب زم زم سے دھویا اور پھر واپس سینے میں چھوڑ دیا ۔ اس واقعے سے حلیمہ خوف زدہ ہوگئیں اور حضرت محمد ﷺ کو والدہ کے پاس لے آ ئیں اور سارا واقعہ بھی سنا دیا۔

Leave a Comment