حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ

حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ

بی کیو نیوز! حضرت یوسف علیہ السلام کا قصہ۔ حضرت یوسف علیہ السلام آپ کے والد یعقوب علیہ السلام، دادا اسحاق علیہ السلام اور پردادا ابراہیم علیہ السلام تھے. آپ کی والدہ راحیل بنت لابان آپ کے بھائی بنیامین کی پیدائش کے وقت وفات پا گئیں. قرآن کریم میں آپ کا ذکر 26 بار آیا ہے.آپ نے خواب دیکھا کہ 11 ستارے اور سورج آپ کو سجدہ کر رہے ہیں. بھائیوں نے آپ کو قتل کرنے کی کوشش کی مگر بڑے بھائی یہودا کے کہنے کنوین میں ڈال دیا. آپ کی عمر اس وقت 7 سال تھی. آپ کے والد نے بھی ایک خواب

دیکھا تھاکہ بھیڑیوں سے آپ کو خطرہ ہے۔ مگر ایک بھیڑیے نے آپ کو چھڑایا. کنویں میں وحی کے ذریعے اللہ نے آپ کو تسلی دی۔ وحیِ نبوت نہ تھی. آپ کو 40 سال کی عمر می‍ں حکمت، علم اور نبوت سے نوزا گیا. آپ 3 روز کنوین میں رہے. جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے حکم سے پانی میں ڈوبنے سے بچایا اور کنوین کے اندر ایک چٹان پر بٹھایا. آپ کا بڑا بھائی یہودا کھانا اور پانی کنوین میں پہنچاتا. ایک قافلہ شام سے مصر کے سفر میں تھا جو راستہ بھول کر جنگل آیا اور آپ کو نکالا.جس شخص نے آپ کو کنویں سے نکالا اس کا نام مالک بن دعبر تھا. مالک بن دعبر نے عزیزِ مصر کو آپ کے وزن کے برابر سونے، اسی کے برابر مشک اور اسی کے برابر ریشمی کپڑے کے بدلے آپکو بیچ دیا. عزیز مصر کا نام قطفیر یا اطفیر تھا. اس کی بیوی کا نام راعیل یا زلیخا تھا. بادشاہ مصر کا نام ریان بن اسید تھا، جو بعد میں آپ پر ایمان لایا اور حکومت آپ کو دے کر گوشہ نشین ہو گیا. اللہ نے آپ کی زلیخا سے حفاظت کی۔ چھوٹے بچے نے آپ کی پاک دامنی کی گواہی دی.عورتوں کے شر سے بچنے کے لئے آپ نے دعا کی جو قبول ہوئی اور آپ کو باوجود معصوم ہونے کے جیل جانا پڑا. والدہ کی وفات کے بعد آپ کی پرورش آپ کی پھوپھی نے کی. بچپن میں آپ کی پھوپھی نے آپ کو اپنے پاس رکھنے کے لیے آپ پر چوری کا الزام لگایا. دو قیدیوں کے جھوٹے خواب کی تعبیر سچ ہوئی. بادشاہ نے جو خواب دیکھا اس میں گائیں نہیں بلکہ بیل دیکھے تھے. آپ نے خواب کی تعبیر قحط کی صورت میں کی جس پر بادشاہ نے آپ کو ملنے اور آزاد کرنے کا حکم دیا. آپ نے جیل سے آنے سے انکار کیا اور اپنے پاک دامن ہونے اور واقع کی دوبارہ تحقیق کی شرط لگائی. بادشاہ نے آزادی کے بعد آپ کو وزیر مقرر کیا. عزیز مصر کی وفات کے بعد بادشاہ نے آپ کی شادی زلیخا سے کر دی. اس وقت زلیخا توبہ کر کے اللہ والی بن چکی تھی. آپ نےقحط کے زمانے میں بہترین انتظامات کئے اور اکثر بھوکے رہتے. مصر میں آکر آپ نے اللہ کے حکم سے والد کو اپنی خیریت کی اطلاع نہ کی. آپ اپنے والد سے 40 سال دور رہے. آپ کے والد کی بینائی آپ کے فراق میں جاتی رہی. آپ نے

بھائیوں کے ہاتھ اپنا کرتہ اپنے والد کو بھیجا. جس کو چہرے پر ڈالنے سے ان کی بینائی واپس آگئی. یہ کرتا جنت سے ابراہیم علیہ السلام کے لئے لایا گیا تھا۔ جب ابراہیم علیہ السلام کو آگ میں نمرود  ڈالا تھا۔ آپ کے بچپن میں یعقوب علیہ السلام نے ایک نلکی میں یہ کرتہ دال کر آپ کے گلے میں لٹکایا تھا جو مصر میں آپ کے پاس رہا. مصر اور کنعان میں 250 میل فاصلہ تھا. آخری بار آپ نے بھائیوں کے ہاتھ غلہ کے ساتھ دو سو اونٹ بہت سا سامان اور کپڑا بھیجا. جب یعقوب علیہ السلام کنعان سے یوسف علیہ السلام کے پاس مصر گئے تو آپ کے خاندان کی تعداد 93 تھی. یوسف علیہ السلام نے 4000 سپاہیوں کے ساتھ اور عوام کے ساتھ شہر سے باہر آ کر والد کا استقبال کیا. حضرت موسیٰ کے دور تک یعقوب علیہ السلام کے خاندان کی تعداد 670000 ہو گئی تھی. یعقوب علیہ السلام آپ کے ساتھ 17 سال زندہ رہے. یعقوب علیہ السلام کو مصر سے شام ان کے بزرگوں کے پاس لکڑی کے تابوت میں لے جاکر دفنایا گیا۔ یہودی اس لئے اپنے مردےتابوت میں ڈال کر دفناتے ہیں. آپ کے 2 بیٹے اور ایک بیٹی تھیبیٹے افرائیم اور منشابیٹی رحمت بن یوسف. افرائیم سے یوشع بن نون ہوئے، جو موسیٰ کے رفیق تھے. آپ کی عمر 120 سال تھی. آپ دریائے نیل کے کنارے دفن کئے گئے. موسیٰ علیہ السلام جب بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے نکلے تو اللہ کے حکم سے آپ کا کا تابوت ساتھ لے گئے. اور والد اور دادا کے ساتھ دفن کیا. آپ کے بعد قوم عمالیق کے فراعنہ مصر پر مسلط ہو گئے.

Leave a Comment