حضور اکرم ﷺ کا حرم شریف سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر

حضور اکرم ﷺ کا حرم شریف سے مسجد اقصیٰ تک کا سفر

بی کیونیوز! حضور اکرم ﷺ کے اس سفر مقدس کے دو حصے ہیں۔ جو سفر مکہ مکرمہ سے مسجد اقصی تک ہوا اسے اسریٰ کہتے ہیں۔ اور سفر کا وہ حصہ جو مسجد اقصی سے عرش معلی تک ہوا اسے معراج کہتے ہیں۔ قرآن کریم میں اس وقعہ کو دو حصوں میں بیان کیا گیا ہے۔ سورہ بنی اسرا ئیل آیت نمبر1 جس کا ترجمہ ہے پاک ہے وہ ذات جس نے سیر کرائی اپنے بندے کو رات کے ایک حصہ میں مسجدالحرام سے مسجد الاقصیٰ تک جس کے اردگرد ہم نے برکتیں رکھیں ہوئی ہیں۔ تاکہ ہم دکھلائیں اپنی قدرت

کی نشانیاں بیشک وہ سب کچھ سننے والا دیکھنے والا ہے۔ دوسری جگہ سورہ نجم آیت نمبر 8تا 18 جس کا ترجمہ ہے پھر وہ قریب ہوتے گئے اور بہت آگے بڑھ گئے کہ فاصلہ رہ گیا دوکمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم پھر وحی کی اپنے بندے کی طرف جو وحی کرنا تھی جو انہوں نے دیکھا اسے سچ جانا ۔ اے لوگو جو کچھ وہ دیکھ چکے ہیں کیا تم اس میں جھگڑتے ہو۔ انہوں نے جبرئیل کو ایک بار پھر اصلی شکل میں سدرۃ المنتھیٰ پہ دیکھا جس کے قریب ہی جنت الماویٰ بھی ہے اس وقت بیری کے درخت پر چھارہاتھا جو چھارہا تھا ان کی آنکھ نہ تو اور طرف مائل ہوئی اور نہ حد سے آگے بڑھی انہوں نے اپنے پروردگار کی قدرت کی بہت بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھا۔ آپ معمولات روز مرہ سے فارغ ہو کر اپنی چچا زاد بہن سیدہ حضرت ام ہانیؓ بنت جناب ابی طالب کے گھر مہمان تھے اور آرام فرما رہے تھے کہ حضرت جبرئیل تشریف لائے اور آپ کو انتہائی ادب و احترام سے بیدار کیا اور سفر معراج کی خوش خبری سنائی اور آپ کو ہمراہ لیکر مسجد حرام میں تشریف لے آئے۔ وضو کرنے کے لیے فرمایا اور لیٹنے کی گذارش کی اور شق صدر کے ذریعہ قلب مبارک کو نکال کر زریں تشت میں رکھ کر آب زمزم سے دھویا پھر اسے کھولا اور اس میں نورحکمت بھرکر بند کردیا اور اپنے اصلی مقام پر رکھ کر سینے کو سی دیا اور سفر کی تیاری کے لیے عرض کی آنجناب نے دونفل شکرانہ کے ادا فرمائے اتنے میں ایک نہایت خوبصورت سواری نمودار ہوئی جس کے متعلق جبرئیل ؑ نے کہا یہ براق ہے جو آپ کے اس سفر کی سواری ہے اس پر تشریف رکھئیے۔ حضور اکرم ﷺ اس پر سوار ہوگئے حضرت جبرائیل ؑ نے دائیں رکاب تھام لی اور حضرت میکائیل ؑ نے بائیں رکاب تھام لی۔ براق نے چشمہ زدن میں سفر شروع کردیا۔ اورآنکھ جھپکنے کی دیرسے بھی پہلے کھجوروں کے ایک جھنڈ میں جا اترا حضرت جبرائیل ؑ نے فرمایا یہ یثرب یعنی شہر مدینہ طیبہ ہے چند روز بعد آپ ہجرت کرکے یہاں تشریف لائیں گے۔وہاں دونفل کی ادائیگی کے بعدبراق فضاء میں

اڑااور وادی سینا میں اس پہاڑ پہ جااتراجہاں حضرت موسی ؑ کو اللہ تعالیٰ سے ہمکلامی کا شرف حاصل ہوا تھا۔ وہاں بھی دو نفل کی ادائیگی کی گئی بعد میں ایک اور جگہ جا اتراجس کے متعلق بتایاگیا یہ بیت اللحم جائے پیدائیش نبی اللہ حضرت عیسیٰ ؑ ہے۔ وہاں بھی دونفل اداکئے پھرمدین جائے مسکن ونبوت حضرت شعیب علیہ السلام کا نظارہ کرایا گیا۔

Leave a Comment