خبیث روح کے نکلنے کی شدت

خبیث روح کے نکلنے کی شدت

بی کیونیوز! خبیث روح کے نکلنے کی شدت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: فَيَنْتَزِعُهَا كَمَا يُنْتَزَعُ السَّفُّودُ مِنَ الصُّوفِ الْمَبْلُولِ۔ پھر فرشتہ اسے یوں کھینچتا ہے جیسے کانٹے دار سلاخ کو تر اون میں سے کھینچ کر نکالا جاتا ہے۔ جیسے آپ کسی تیز دھار چھری پر گیلی اون لپیٹ دیں پھر اس کو شدت کے ساتھ اس چھوری سے کھینچیں تو کچھ اون چھری کے ساتھ چپکی رہ جائے اور کچھ کٹ کر ٹکڑے ٹکڑے ہو جائے۔ خبیث روح کے ساتھ دیگر فرشتوں کی بے رحمی فَيَأْخُذُهَا، فَإِذَا أَخَذَهَا لَمْ يَدَعُوهَا فِي يَدِهِ طَرْفَةَ عَيْنٍ حَتَّى يَجْعَلُوهَا فِي تِلْكَ الْمُسُوحِ، وَيَخْرُجُ مِنْهَا كَأَنْتَنِ رِيحِ جِيفَةٍ وُجِدَتْ عَلَى وَجْهِ الْأَرْضِ۔ جب فرشتہ اسے

نکال لیتا ہے تو دوسرے فرشتے اس روح کو اس کے ہاتھ میں ایک لمحہ کے لیے بھی نہیں رہنے دیتے، بلکہ وہ اسے فوراً ٹاٹوں میں لپیٹ لیتے ہیں، روئے زمین پر پائے جانے والی سب سے گندی بدبو اس سے آتی ہے اس دوران اس کے گھر والے پیٹ رہے ہیں اس کا مال تقسیم ہو رہا ہے اس کے بچے اس کی چھاتی پر چڑھ کر رو رہے ہیں اور بہت سے لوگ اس کی موت پر خوش بھی ہو رہے ہیں کتنے ہی مظلوم ہیں جو اس ظالم کی موت پر خوش ہو رہے ہیں کتنے ہی ستم زدہ ہیں جو اپنے اوپر ظلم کرنے والے اس ظالم کی موت سے خوشی کا اظہار کر رہے ہیں اور کتنے ہی وہ ہیں جن کو اس ظالم کی وجہ سے کوئی تکلیف پہنچی اور وہ بدلہ لینے کی طاقت نہیں رکھتے تھے آج وہ بہت خوش ہیں کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جن کی موت کی وجہ سے رحمان کا عرش ہلتا ہے اور مسجدوں کے منبر ان کی محبت میں روتے ہیں اور کتنے لوگ ایسے ہیں کہ جب وہ مرتے ہیں تو لوگ ان کی موت پر خوشی سے جھوم اٹھتے ہیں

Leave a Comment