دو سو سال سے مار کھاتی چلی آنے والی ایک بیچاری اَن پڑھ قوم

بی کیونیوز! ایک جانب دو سو سال سے مار کھاتی چلی آنے والی ایک بیچاری اَن پڑھ قوم، جس کو شعور کی آخری رمق تک سے محروم کر دینے کیلئے دنیا بھر کے چور اس کے گھر میں نقب لگا کر بیٹھے ہیں. دوسری جانب، نئی نویلی ’ٹائیوں‘ کے ساتھ میڈیا سکرینوں پر نمودار ہونے والے شاطر دماغ، جن کو یہاں پر مغرب کی جن-گ لڑنے کی ذمہ داری سونپ رکھی گئی ہے. نہایت پڑھے لکھے، نہایت منصوبہ بند، ذہین فطین، کمال کی سمجھ رکھنے والے، ”ٹریننگ یافتہ“؛ دیکھ بھال کر چال چلنے اور شست باندھ کر تیر چلانے والے

دین باختہ اینکروں، سیاستدانوں اور دانشوروں کا وہ خرانٹ ٹولہ کہ جس کو آپ ایک نظر بھی دیکھیں تو گویا اس کا انگ انگ بول کر کہتا ہے کہ اِس ابلی-سی ٹولے کو امتِ محمد کے عقیدہ، اس کی تہذیب اور اس کے سب کے سب مسلمات کو فرسودہ اور بیہودہ بنا کر پیش کرنے بلکہ دین کے ان سب مسلمات کو امتِ محمد کے دلوں سے کُھ-رچ کُھ-رچ کر نکال دینے اور اس کے دماغوں سے پوری طرح دھو کر رکھ دینے بلکہ جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کی ذمہ داری سونپ رکھی گئی ہے. ان منصوبہ بند اینکروں، سیاستدانوں، دانشوروں اور ’ترقی‘ کی راہ دکھانے کا بہروپ بھر کر آئے ہوئے مردوں اور عورتوں کا پورا ٹولہ رائج معنوں میں خاصا ’ایڈوانس‘ ہے اور آخری حد تک گھاگ اور ہوشیار ہے اور باقاعدہ ایک مار پر ہے. ایک طرف یہ حالت کہ اسلام پر مر مٹنے والے محنتی اور منظم دانشوروں کی کوئی ایسی باصلاحیت کھیپ سرے سے اِس قوم کو دستیاب نہیں ہے جو اسلام کے خلاف تاریخ کی اس بدترین جن-گ کے اندر امت کے عقیدے اور شریعت کا علم تھام کر میدان میں اتریں۔ ایسے موحد اور صالح دانشور کہیں میدان میں ہی نہیں جو نظریات کے اس عظیم ترین گھمسان اور تہذیبوں کے اس بے رحم ترین تصادم کے اندر امت کو اس کا ہاتھ پکڑ کر چلائیں، اور جو اِس بحر ظلمات کے اندر سے اس کیلئے راستہ بناتے ہوئے آگے بڑھیں، اور جو ایک زیرک و مکار دشمن کے حربوں سے نبرد آزما ہونے کیلئے اِس قوم کو علم اور فکر اور تدبیر اور بصیرت سے لیس کریں. جبکہ اُدھر دوسری جانب، دیارِ اسلام کے اندر لانچ کرائے جانے والے شی-طانی ایجنڈا کو ایسے ایسے انٹیلیکچول امکانات اور ایسے ایسے تھنک ٹینکس کی مدد حاصل ہے جو اپنے مکروتدبیر کے زور سے پہاڑوں کو

ہلا کر رکھ دیں (وَإِن كَانَ مَكْرُهُمْ لِتَزُولَ مِنْهُ الْجِبَالُ). ”گلوبل ولیج“ کے ماسٹر پلان کی رو سے یہاں پر ’ڈویلپمنٹ“ کا پہلا کام ہی یہ ہونا تھا کہ یہاں کے ’مذہبی تجاوزات‘ ہٹا دیے جائیں اور ’تہذیبی‘ سطح پر زمین بالکل ’ہموار‘ کر کے رکھ دی جائے. باقی ’تعمیرات‘ جتنی ہوں اس کے بعد ہوں! (اور ویسے ان ’تعمیرات‘ کا تو جو اس سے ”اگلے مرحلے“ کیلئے یہاں پر زیر غور ہیں آپ ذرا تصور ہی کر لیں تو آپ کو ہول آنے لگے)۔ چنانچہ اب ہر طرف یہاں آپ کو ”بلڈوزر“ مستعدی کے ساتھ کام کرتے ہوئے دکھائی دیں گے! آپ سر پکڑ کر رہ جاتے ہیں؛ یہاں کا ہر شعبہ اور ہر ڈیپارٹمنٹ سویا پڑا ہے سوائے ایک شعبے کے؛ یعنی: یہاں کا ابلاغیاتی شعبہ! اِس ملک کا واحد چاک چوبند شعبہ جس نے ”پروفیشنلزم“ کی انتہا کر دی ہے! یہاں کا واحد شعبہ جس کی پھرتیاں یہاں ہر باشعور دردمند کے کان کھڑے کر دینے کو کافی ہیں کہ خدایا کیا یہ یہیں کا ایک فنامنا ہے. وہ دیگر سب شعبے بھی تو اِسی ملک کے ہیں جن کے خراٹے یہاں کے ہر حساس شخص کو جگا رہے ہیں، ان سب شعبوں کو چھوڑ کر اسی ایک شعبے میں یہ حیرت انگیر مستعدی اور یہ ’فرض شناسی‘، آخر ماجرا کیا ہے اور یہ کن ‘steroids’ کا کمال ہے؟ ’ضمیر‘ کی یہ سب بیداری یہاں کے سارے شعبوں کو چھوڑ کر صرف ایک شعبے کے حصے میں کیوں آ گئی ہے؟ اِس ’شہد‘ میں کیا کوئی ”زہر“ تو نہیں گھول دیا گیا (اور ویسے ذرا اسلامی نظر حاصل ہو تو ”ز-ہر“ کے پھن بھرے ہوئے یہ ناگ آخر کس کو نظر نہیں آتے؟)۔ چنانچہ اِسی ایک مقصد کیلئے یہاں ہر طرف ہم پر ’دانش وروں‘ کے غول چھوڑ دیے گئے ہیں جو ہمارے اِس بچے کھچے نظریاتی وجود کو بڑی بے رحمی کے ساتھ بھنبھوڑ رہے ہیں۔ دینی طور پر کمزور طبقوں کی تو بات ہی چھوڑ دیں، ’نماز روزہ‘ کرنے والا ایک اچھا خاصا طبقہ بھی

یہاں پر ”توحید“ کے بنیادی مسلمات سے اِس قدر ناواقف ہے، کہ ہمارا دش-من جانتا ہے کہ یہ سارا طبقہ اِس سیلاب کے آگے زیادہ دیر نہیں ٹک سکے گا اور تھوڑی دیر میں یہ اُس کے دوش پر بہنے لگے گا اور اُسی رفتار سے بہے گا جس رفتار سے وہ اِس کو بہا لے جانا چاہتا ہے. میڈیا کے وہ چینل جو ایک ان پڑھ سے ان پڑھ شخص بھی دیکھ سکتا ہے کہ مسلم معاشروں کیلئے بطورِ خاص ترتیب دیے گئے یہ-ودی اور فری می-سن ایجنڈوں کو رو بہ عمل لانے کیلئے یہاں نہایت مستعد اڈوں کا کام دے رہے ہیں. ان چینلوں کا کسی کسی وقت خوش الحانی کے ساتھ قرآن سنانا یہاں کسی کیلئے نہ صرف باعثِ حیرت نہیں بلکہ ایک باقاعدہ ’نیک عمل‘ ہے اور شاید اُن ’گن-اہوں‘ کا کف-ارہ بھی جو تھوڑی بہت ’بے پردگی‘ اور ’ناچ گانے‘ کی صورت میں دن بھر اِن سے سرزد ہوتے رہتے ہیں اور وہ بھی شاید اِس لئے کہ ’عوام‘ یہ سب کچھ ’دیکھنا‘ چاہتے ہیں! کون ہے جو یہ ادراک رکھے بلکہ مخلوق پر واضح کرے کہ یہ ’توازن‘ جو ایک کا-فر و خدا نا آشنا اور حیاء سے برہ-نہ تہذیب کے شانے پر ’اسلامی شعائر‘ کی ہلکی باریک جھالر سجا کر سامنے لایا جا رہا ہے یہ باقاعدہ ایک ’پیکیج‘ ہے جو اساطینِ ک-فر کی جانب سے ’اکیسویں صدی‘ کے عالم اسلام کیلئے جاری ہوا ہے اور حیرت انگیز کامیابی اور پورے ایک تسلسل کے ساتھ عام کیا جارہا ہے۔ یعنی یہ کوئی ’بے جوڑ‘ اور ’بے ربط‘ اشیاء کا مجموعہ نہیں بلکہ ’اسلام‘ کا باقاعدہ ایک ’ورژن‘ ہے جو ہمیں دیا گیا ہے اور ہم ہیں جو اس کے بعض کاموں کو ’گن-اہ‘ ٹھہرائیں گے اور بعض کاموں کو ’تقربِ خداوندی کا ذریعہ‘! جبکہ اس کا ’پیکیج‘ چلانے والے پوری تن دہی کے ساتھ اپنے کام میں مگن ہیں اور اس کو مقبولیت دلوانے اور وقت کا فیشن بنا دینے میں ہمارے تخیل سے بھی بڑھ کر کامیاب ہیں.

Leave a Comment