رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو

رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو

بی کیونیوز! رسول اللہ ﷺ نےفرمایا: نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو۔ یہ فرمان بھی درست ہے۔ آسمان میں ایک وسعت ہے۔ یہ وسعت ہمیشہ ہماری توجہ کھینچ لیتی ہے۔ ہم جب بھی آسمان کی طرف دیکھتے ہیں ہماری توجہ بٹ جاتی ہے۔ ہمیں توجہ واپس لانے میں ٹھیک ٹھاک وقت لگتا ہے۔  نماز کیلئے یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ ہم جب نماز کے دوران آسمان کی طرف دیکھتے ہیں تو ہم سجدے اور رکوع بھول جاتے ہیں چنانچہ حکم دیا گیا نماز کے دوران آسمان کی طرف نہ دیکھو۔ یہ فارمولہ

تخلیقی کاموں کیلئے بھی اہم ہے۔ اگر لکھاری لکھتے۔ مصور تصویر بناتے اور موسیقار دھن بناتے ہوئے آسمان کی طرف دیکھ لے تو اس کا تسلسل ٹوٹ جاتا ہے‘ یہ اپنا کام مکمل نہیں کر پاتا شاید یہی وجہ ہے دنیا کا زیادہ تر تخلیقی کام بند کمروں میں مکمل ہوا۔ یہ کھلی فضا میں پروان نہیں چڑھا۔  آپ تخلیق کا آئیڈیا لینا چاہتے ہیں تو آپ کھلے آسمان کے نیچے کھلی فضا میں واک کریں۔  آپ آئیڈیاز سے مالا ہول ہو جائیں گے لیکن آپ اگر ان آئیڈیاز پر کام کرنا چاہتے ہیں تو پھر آپ کمرے میں بند ہو جائیں‘ آپ کمال کر دیں گے‘ آپ کو انبیاء‘ اولیاء اور بزرگان دین بھی بند غاروں میں مراقبے کرتے ملیں گے۔ یہاں تک کہ مہاتما بودھ کو نروان بھی ایک ایسے درخت کے نیچے ملا تھا جس سے آسمان دکھائی نہیں دیتا تھا۔ وہ درخت اتنا گھنا تھا کہ وہ بارش تک روک لیتا تھا۔ آپؐ نے فرمایا رفع حاجت کی جگہ (ٹوائلٹ) مت تھوکو۔ یہ حکم اپنے اندر دو حکمتیں رکھتا ہے‘ ٹوائلٹ میں تھوکنے سے بعد میں آنے والوں کو بھی تکلیف ہوتی ہے اور دوسرا ٹوائلٹس میں لاکھوں قسم کے جراثیم بھی ہوتے ہیں۔ ہم جب تھوکنے کیلئے منہ کھولتے ہیں تو یہ جراثیم ہمارے منہ میں پہنچ جاتے ہیں۔ یہ ہمارے لعاب دہن میں پرورش پاتے ہیں۔ یہ معدے اور پھیپھڑوں میں پہنچتے ہیں اورپھر یہ ہمیں بیمار کر دیتے ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرانی ہو گی ہماری ناک جراثیم کو پھیپھڑوں تک نہیں جانے دیتی۔ ہماری ناک سے صرف کیمیکلز جسم میں داخل ہوتے ہیں۔ جراثیم زیادہ تر منہ سے بدن میں اترتے ہیں اور ان کا بڑا سورس ٹوائلٹس ہوتے ہیں چنانچہ آپ ٹوائلٹ میں لمبی لمبی سانس لینے‘ تھوکنے‘ گانا گانے‘ آوازیں دینے اورموبائل فون پر بات کرنے سے پرہیز کریں۔ آپ کی صحت اچھی رہے گی۔ آپؐ نے فرمایا لکڑی کے کوئلے سے دانت صاف نہ کرو۔ ہم میں سے بے شمار لوگ کوئلے سے دانت صاف کرتے ہیں۔ کوئلے سے ہمارے دانت وقتی طور پر چمک جاتے ہیں لیکن یہ بعد ازاں مسوڑے بھی زخمی کر دیتاہے۔ دانتوں کی جڑیں بھی ہلا دیتا ہے اور یہ منہ میں بو بھی پیدا کرتا ہے۔ لکڑی کا کوئلہ سیدھا سیدھا کاربن ڈائی آکسائیڈ ہوتا ہے‘ یہ ”ہائی جینک“ بھی نہیں ہوتا چنانچہ رسول اللہ ﷺ نے اس سے پرہیز کا حکم دیا۔ آپؐ نے فرمایا

ہمیشہ بیٹھ کر کپڑے تبدیل کیا کرو۔ ہم میں سے اکثر لوگ شلوار‘ پتلون یا پائجامہ پہنتے وقت اپنی ٹانگ پھنسا بیٹھتے ہیں اور گر پڑتے ہیں‘ ہم میں سے ہر شخص زندگی میں کبھی نہ کبھی اس صورتحال کا شکار ضرور ہوتا ہے۔ بالخصوص ہم بڑھاپے میں شلوار یا پتلون بدلتے وقت ضرور گرتے ہیں‘ آپؐ نے شاید اس قسم کے حادثوں سے بچنے کیلئے یہ حکم جاری فرمایا تھا اور آپؐ نے فرمایا اپنے دانتوں سے سخت چیز مت توڑا کرو۔ ہم لوگ اکثر بادام‘ اخروٹ یا نیم پکا گوشت توڑنے کی کوشش میں اپنے دانت تڑوا بیٹھتے ہیں۔ دانت ایکٹو زندگی کا قیمتی ترین اثاثہ ہوتے ہیں‘ آپؐ نے شاید اسی لئے دانتوں کو سخت چیزوں سے بچانے کا حکم دیا۔

Leave a Comment