زمین سےآسمان کی طرف جاتے ہوئےراستے میں ملنے والے دیگر فرشتوں کو پاکیزہ روح کا تعارف کیسے کروایا جاتا ہے؟

زمین سےآسمان کی طرف جاتے ہوئےراستے میں ملنے والے دیگر فرشتوں کو پاکیزہ روح کا تعارف کیسے کروایا جاتا ہے؟

بی کیو نیوز! راستے میں ملنے والے دیگر فرشتے پاکیزہ روح کا تعارف کرتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا فَلَا يَمُرُّونَ – يَعْنِي بِهَا – عَلَى مَلَأٍ مِنَ الْمَلَائِكَةِ إِلَّا قَالُوا : مَا هَذَا الرَّوْحُ الطَّيِّبُ ؟ فَيَقُولُونَ : فُلَانُ بْنُ فُلَانٍ. بِأَحْسَنِ أَسْمَائِهِ الَّتِي كَانُوا يُسَمُّونَهُ بِهَا فِي الدُّنْيَا اور وہ فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں، وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ

فلاں بن فلاں ہے مثال کے طور پر، پوچھا جاتا ہے کہ یہ کون ہے تو وہ یہ نہیں کہتے کہ یہ عبدالمنان ہے بلکہ کہتے ہیں یہ شیخ الحدیث، استاذ العلماء، حافظ عبدالمنان نور پوری رحمہ اللہ تعالیٰ ہیں آسمان کے فرشتے استقبال کرتے ہیں اور اس کے لیے آسمان کے دروازے کھول دیتے ہیں پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا حَتَّى يَنْتَهُوا بِهَا إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا، فَيَسْتَفْتِحُونَ لَهُ فَيُفْتَحُ لَهُمْ یہاں تک وہ اسے پہلے آسمان تک لے جاتے ہیں اور اس کے لیے دروازہ کھلواتے ہیں، ان کے کہنے پر دروازہ کھول دیا جاتا ہے۔ فَيُشَيِّعُهُ مِنْ كُلِّ سَمَاءٍ مُقَرَّبُوهَا إِلَى السَّمَاءِ الَّتِي تَلِيهَا، حَتَّى يُنْتَهَى بِهِ إِلَى السَّمَاءِ السَّابِعَةِ پھر ہر آسمان کے مقرَّب فرشتے اس روح کو اوپر والے آسمان تک چھوڑ کر آتے ہیں، اس طرح اسے ساتویں آسمان تک لے جایاجاتا ہے۔ اور وہ اس دوران فرشتوں کی جس جماعت اور گروہ کے پاس سے گزرتے ہیں،وہ پوچھتے ہیں: یہ پاکیزہ روح کس کی ہے؟ اسے دنیا میں جن بہترین ناموں سے پکارا جاتا تھا، وہ فرشتے ان میں سے سب سے عمدہ نام لے کر بتاتے ہیں کہ یہ فلاں بن فلاں ہے سبحان اللہ یہ نیک آدمی ہے اسے آسمان کے فرشتے بھی پہچانتے ہیں اور اس کے ساتھ ملاقات کرنے کو پسند کرتے ہیں کیسا پاکیزہ انسان اور خوش قسمت ہے کہ آسمان کے فرشتوں کے درمیان بھی اس کا تذکرہ بہت اچھے الفاظ میں کیا جاتا ہے اور دنیا میں بھی اور آسمان میں بھی اس کے لیے قبول لکھ دیا جاتا ہے۔

Leave a Comment