سابق صدر مملکت ممنون حسین طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

سابق صدر مملکت ممنون حسین طویل علالت کے بعد انتقال کر گئے

بی کیونیوز! سابق صدر پاکستان ممنون حسین طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے، ممنون حسین گزشتہ دو ہفتوں سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے، ممنون حسین پاکستان مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں میں سے ایک تھے، وہ 2013 سے 2018 تک صدر مملکت رہے، صدر وزیراعظم گورنر سندھ عمران اسمعیٰل وزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے سابق صدر پاکستان ممنون حسین کے انتقال پر ایک تعزیتی پیغام میں مرحوم کی مغفرت کی دعا کی ہے اور کہاہے کہ اللہ تبارک و تعالی

مرحوم کے درجات کو بلند فرمائے اور پسماندگان کو صبر جمیل عطا فرمائے۔ تفصیلات کے مطابق سابق صدر پاکستان ممنون حسین طویل علالت کے بعد 80 سال کی عمر میں کراچی کے نجی ہسپتال میں انتقال کر گئے۔ سابق صدر کے بیٹے ارسلان ممون حسین کے مطابق ممنون حسین گزشتہ دو ہفتوں سے کراچی کے نجی ہسپتال میں زیر علاج تھے۔ سابق صدر ممنون حسین مسلم لیگ ن سندھ کے صدر اور دیگر عہدوں پر فائز رہے ممنون حسین سال 2013 سے 2018 تک پاکستان کے صدر رہے۔ ان کا شمار مسلم لیگ ن کے سینئر رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ صدر منتخب ہونے پر سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری نے ان سے حلف لیا تھا۔ انتخابات میں ان کے مدمقابل پاکستان تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین تھے،ممنون حسین نے 432 الیکٹورل ووٹ حاصل کیے تھے۔ سابق صدر ممنون 23 دسمبر 1940 کو بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے۔ وہ پاکستان کے 12 ویں صدر تھے، جبکہ وہ گورنر سندھ کے عہدے پر بھی فائز رہے۔ ممنون حسین غیر سرگرم سیاسی شخصیت رہے ہیں۔ وہ پیشے کے لحاظ سے تاجر تھے۔ وہ نوے کی دہائی کے آخر میں پہلی بار پاکستانی سیاست کے افق پر نظر آئے اور 1997 میں وزیراعلیٰ سندھ کے مشیر بنائے جانے والے ممنون حسین 1999 میں نواز حکومت کے آخری ایام میں چند ماہ کیلئے گورنر سندھ بھی رہے۔ نواز شریف کی اسیری اور پھر جلاوطنی کے دوران وہ منظرِ عام پر تو نہیں تھے تاہم نواز شریف سے ان کا رابطہ ٹوٹا نہیں اور پھر ان کی وطن واپسی کے بعد ممنون حسین ایک بار پھر سندھ میں مسلم لیگ کی سیاست میں سرگرم ہوگئے تھے۔ سابق صدر نے اگست 2018 میں وزیر اعظم عمران خان سے بھی حلف لیا۔ سابق صدر مسلم لیگ نواز

کے دیرینہ کارکن اور نواز شریف کے قریبی ساتھیوں میں شمار ہوتے تھے۔ مسلم لیگ نواز کی کراچی میں کمزور پوزیشن کے باوجود وہ ہر دور میں نواز شریف کے ساتھ کھڑے رہے۔ اب سے کچھ عرصہ قبل مسلم لیگ ن کے کراچی ہی سے ایک اور سینئر رہنما اور نواز شریف کے قریبی ساتھی مشاہد اللہ خان بھی انتقال کر گئے تھے۔ ممنون حسین کی وفات پر زندگی کے ہر شعبہ سے شخصیات دکھ کا اظہار کر رہی ہیں۔ ممنون حسین پاکستان کے بارہویں صدر رہے۔ ممنون حسین نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کی جانب سے صدارتی منصب کے انتخاب میں حصہ لیا۔ وہ متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ایک تاجر تھے۔ ممنون حسین کی مادری زبان اردو تھی۔ وہ کراچی میں قائم ایک ٹیکسٹائل کمپنی کے مالک تھے۔ممنون حسین 1940 میں بھارت کے شہر آگرہ میں پیدا ہوئے۔ قیام پاکستان کے بعد ان کا خاندان نقل مکانی کرکے پاکستان آگیا۔ انہوں نے انسٹی ٹیوٹ آف بزنس ایڈمنسٹریشن کراچی سے گریجویٹ کیا۔ 1993 میں جب پاکستان کے اس وقت کے صدر غلام اسحاق خان نے میاں نواز شریف کی حکومت برطرف کی تو ان دنوں ہی ممنون حسین شریف برادران کے قریب پہنچے اور بعد میں وہ مسلم لیگ سندھ کے قائم مقام صدر سمیت دیگر عہدوں پر فائز رہے۔ ممنون حسین 1997 میں سندھ کے وزیر اعلیٰ لیاقت جتوئی کے مشیر رہے، 1999 میں انہیں گورنر مقرر کیا گیا، مگر صرف چار ماہ بعد ہی میاں نواز شریف کی حکومت کا تخہ الٹ گیا اور وہ معزول ہو گئے۔ صدر ممنون حسین نے سیاست میں دلچسپی 1968 میں لینا شروع کی جب یہ نورالامین کی قیادت میں مسلم لیگ کا حصہ بنے۔ جلد ہی وہ مسلم لیگ کراچی کے جوائنٹ سیکرٹری بن گئے۔ 1993 میں انہوں نے مسلم لیگ ن

میں شمولیت اختیار کرلی اور مسلم لیگ ن کراچی کے سیکرٹری خزانہ رہے۔ جنرل مشرف کے دورِ آمریت میں انہوں نے جمہوریت کے لئے آواز اٹھانے پر سیاسی قید بھی کاٹی۔پاکستان کے صدر بننے کے وقت یہ ملکی تاریخ کے دوسرے معمر ترین صدرِ پاکستان تھے۔ صدر ممنون جنرل ایوب خان کے بعد واحد صدر ہیں جنہیں اپنے دورِ صدارت میں پانچ مختلف چیف جسٹس آف پاکستان سے حلف لینے کا اعزاز حاصل ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ ممنون حسین منگل 30 جولائی 2013 کو ہونے والے صدارتی انتخاب میں بھاری اکثریت سے ملک کے بارہویں صدر منتخب ہوئے۔ انھوں نے 432 ووٹ لیے۔ تحریکِ انصاف کے جسٹس (ر) وجیہہ الدین ان کے مدِ مقابل تھے جنہوں نے 77 ووٹ حاصل کیے۔ 8 ستمبر 2018 کو ممنون حسین کی مدت ختم ہو گئی۔ رختصی کے وقت انہیں الوداعی گارڈ آف آنر بھی پیش کیا گیا۔

Leave a Comment