سب ججز کی فائلیں تیار ہوں گی

سب ججز کی فائلیں تیار ہوں گی

سپریم کورٹ میں جسٹس قاضی فائزعیسیٰ نظر ثانی کیس براہ راست نشریات کی درخواست پرسماعت ایک دن کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ بدھ کو جسٹس عمر عطا بندیال کی سربراہی میں دس رکنی فل کورٹ نے کیس پر سماعت کی۔ دوران سماعت ڈپٹی اٹارنی جنرل عامر رحمان نے کیس ٹی وی پر براہ راست دکھانے کی مخالفت کرتے ہوئے دلائل دیئے کہ عدالتی کارروائی ٹیلی ویژن پر دکھانے سے بہت سے مسائل پیدا ہونگے، فلوریڈا کی عدالت نے بھی لائیو کوریج کی مخالفت کی، بھارتی سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے بھی کہا

کہ لائیو کوریج سے عدالت کا وقار مجروح ہوگا، امریکی جج نے کہا تھا کہ عدلیہ کو انٹرٹینمنٹ کا ذریعہ نہیں بننا چاہیے، عدالتی کارروائی ٹیکنیکل ہوتی ہے جو عام عوام کیلئے سمجھنا مشکل ہوتا ہے، سپریم کورٹ کی کارروائی عوام تک پہنچانے کیلئے میڈیا نمائندگان کمرہ عدالت میں موجود ہوتے ہیں، میڈیا نمائندگان آسان زبان میں عدالتی کارروائی عوام تک پہنچاتے ہیں، میڈیا نمائندگان کے ہوتے ہوئے براہ راست کارروائی دکھانے کا کوئی جواز نہیں،ججز کو کمرہ عدالت میں خصوصی اختیارات حاصل ہوتے ہیں، اس دوران ڈپٹی اٹارنی جنرل نے کہا کہ درخواست گزار کی جانب سے دلیل دی گئی براہ راست کوریج نشر کرنے سے عدلیہ کا احتساب ہوگا، آئین نے اعلیٰ عدلیہ کی مدت ملازمت کا تحفظ دے رکھا ہے، جج صاحبان اپنے فیصلوں کے زریعے بولتے ہیں، عدالتوں کے دروازے عام عوام کیلئے کھلے ہیں، اس پر جسٹس منصورعلی شاہ نے کہا کہ آپ کا اعتراض ویڈیو کو براہ راست کرنے پر ہے یا آڈیو پر اعتراض ہے، جس پر اٹارنی جنرل نے کہا کہ ہمارا اعتراض ویڈیو اور آڈیو دونوں صورتوں میں براہ راست کوریج پر ہے، ڈپٹی اٹارنی جنرل نے جسٹس شوکت عزیز صدیقی کیس کا حوالہ بھی دیا اورعدالت سے استدعا ہے کہ جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی کیس کی کارروائی براہ راست دکھانے کی درخواست مسترد کی جائے، دوران سماعت جسٹس عمر عطا بندیال نے ڈپٹی اٹارنی جنرل کو مخاطب کرتے ہوئے کہ آپ کے دلائل مضبوط ہیں انکا جائزہ لینے کی ضرورت ہے، دوران سماعت جسٹس فائز عیسی کی اہلیہ سرینا عیسی دلائل دینے کے لئے روسٹرم پر آگئی، سرینا عیسیٰ نے کہا کہ بلوچستان کی عدالتوں میں بہت مدد کرتی رہی ہوں، میرے شوہر ہائیکورٹ کے چیف جسٹس تھے تو انکی مدد کرتی تھی، پہلے کبھی تصویر نہیں بنی تھی،اب عدالت آتے جاتے میری ویڈیوز بنائی جاتی ہیں، ایف بی آر جاتی تھی تب بھی میری ویڈیوز بنائی جاتی تھی، وزیراعظم عمران خان اور وزیر قانون نے اختیارات کا ناجائز استعمال کیا، جسٹس فائز عیسی کو راستے سے ہٹانے کے لیے غیر قانونی اقدامات کیے گئے، میرے ساتھ حکومتی عہدیداروں کا رویہ تضحیک آمیز ہے، اپنی رقم سے خریدی جائیداد راتوں رات

میرے شوہر کی بنادی گئی، وزیراعظم عمران خان سے زیادہ ٹیکس ادا کرتی ہوں، فروغ نسیم نے سیاسی ایجنڈے کی تکمیل کے لیے عہدے کا نا جائز استمعال کیا،کبھی وزیر کبھی وکیل فروغ نسیم عدالت کیساتھ کھیل رہے ہیں، عمران خان میں شکست تسلیم کرنے کا حوصلہ نہیں، جون 2020 تک کے میرے ٹیکس ریکارڈ تک رسائی حاصل کی گئی، فروغ نسیم اور انور منصور ایک دوسرے کو جھوٹا کہتے رہے، شہزاد اکبر نے نوکری شروع کی تو انکی تنخواہ 35 ہزار تھی، شہزاد اکبر سے 22 سال پہلے سے نوکری کر رہی ہوں، شہزاد اکبر آج امیر آدمی ہیں لیکن کبھی اثاثے ظاہر نہیں کیے، شہزاد اکبر کے حوالے سے ہر سچ پر پردہ ڈالا جا رہا ہے، نیب ایف آئی اے اور ایف بی آر شہزاد اکبر کے معاملے پر خاموش کیوں ہیں؟ آغا افتخار نے سپریم کورٹ جج کو قتل کرنے کی دھمکی دی،آغا افتخار کیس میں شہزاد اکبر کو شامل تفتیش نہیں کیا گیا، عدالت حکم دے تو براہ راست کوریج کا بندوبست کر سکتی ہوں۔ اس دوران جسٹس فائز عیسی روسٹرم پر آ کر اپنے دلائل کا آغاز کرتے ہوئے کہا کہ جسٹس منظور ملک نے میری رہنمائی کی ہے، جسٹس منظور ملک کی ہدایت پر کوشش ہے جذباتی نہ ہوں، عدلیہ کے خلاف ففتھ جنریشن وار شروع کی گئی، ملک دشمنوں کے خلاف ففتھ جنریشن وار نہیں ہورہی،سوشل میڈیا بریگیڈ منہ چھپا کر حملے کررہی ہے، موجودہ حکومت ملک کو گٹر میں لیکر جارہی ہے، بوتھم نے عمران خان پر بال ٹمپرنگ کا الزام لگایا تھا، عمران خان نے بوتھم پر مقدمہ کیا جیت گئے،وحید ڈوگر کی شناخت کیا ہے؟ کوئی نہیں بتاتا، پاکستان میں اس وقت ڈوگر جیسے ٹاوئٹ بھرے پڑے ہیں، آٹھ ہزار روپے پر نیب کا ملازم شہزاد اکبر عدلیہ کو لیکچر دیتا ہے،ہم احمقوں کی جنت میں نہیں رہ رہے، عدالت خود دیکھ سکتی ہے،کارروائی کتنی رپورٹ ہوتی ہے، چاہتا ہوں لوگ میری بات براہ راست سنیں،میری گفتگو کا مکمل حصہ میڈیا رپورٹ نہیں کرتا،امریکا کو عالمی لیڈر مان کر لوگ فالو کرتے ہیں،آغا افتخار الدین مرزا نے مجھے قتل کی دھمکی دی، میری اہلیہ مقدمہ درج کرانے گئی تو پولیس نے کہا وزیر داخلہ سے اجازت لیں گے، 5 دن بعد پولیس نے مقدمہ ایف آئی اے کو بھجوا دیا، مرزا افتخار الدین کو سپریم کورٹ میں پروٹوکول دیا گیا، میں قتل ہوا تو شہید کہلاؤں گا جنت میں جاؤں گا، ریاست مدینہ افتخار الدین مرزا کو آزاد کر رہی ہے، افتخار الدین مرزا کا تعلق شہزاد اکبر سے نکلا لیکن تفتیش روک دی گئی، میرے کیس میں عدالت نے فردوس عاشق اعوان کیخلاف کارروائی کا کہا، فردوس عاشق اعوان کو پنجاب میں اچھا عہدہ مل گیا،عدالت کو یہ نہیں کہہ رہا کہ فردوس عاشق اعوان کو جیل بھیجیں، کھبی خود بھی توہین عدالت کیس میں کسی کو جیل نہیں بھیجا،صدر مملکت بھول جاتے ہیں کہ وہ پی ٹی آئی کے ورکر ہیں، کیچڑ مجھ پر اچھالا گیا لیکن برداشت ان سے نہیں ہورہا تھا، صدر مملکت نے ایوان صدر میں بیٹھ کر تین انٹرویوز دیئے،صدر نے کہا ریفرنس پر خاموش رہنے اور میڈیا ٹرائل کا بھی آپشن تھا،صدر نے کہا تیسرا آپشن جوڈیشنل کونسل کا تھا جو استمعال کیا، سچ بولتا رہوں گا چاہیے کسی کو برا ہی کیوں نہ لگے، ریفرنس پر کوئی

بیان جاری نہیں کیا۔ خبر حکومت نے لیک کی،مزید تین سال بینچ میں رہنے یا پینشن لینے میں کوئی دلچسپی نہیں، میری دلچسپی صرف عدلیہ کی عزت اور احترام میں ہے، میرے خلاف یوٹیوب پر پراپگنڈہ کیا جا رہا ہے، یوٹیوب چینل نہیں بنا سکتا اس لیے عدالت میں کھڑا ہوں،بول ٹی وی کا مالک کون ہے یہ کوئی نہیں بتائے گا،سمیع ابراہیم نے سابق چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ کو آصف سعید کھوتا کہا، دوبئی میں بول ٹی وی کے شیئرز کس کے پاس ہیں۔میڈیا بھی زکر نہیں کرے گا، میرے نام سے تین جعلی ٹوئٹر اکاونٹس بنے ہوئے ہیں، 3 بار خط لکھ چکا میرا کوئی ٹوئٹر اکاؤنٹ نہیں۔جسٹس فائز عیسی نے کہا کہ ریفرنس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا خبر حکومت نے لیک کی،مزید تین سال بینچ میں رہنے یا پینشن لینے میں کوئی دلچسپی نہیں، میری دلچسپی صرف عدلیہ کی عزت اور احترام میں ہے،میرے خلاف یوٹیوب پر پراپگنڈہ کیا جا رہا ہے۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ تاثر ہمیشہ حقیقت سے مختلف ہوتا ہے، آپکے تحریری دلائل کا جائزہ لیا ہے،آپکے تمام دلائل اوپن کورٹ میں سماعت کے تھے،آپ نے ہمارا فیصلہ چیلنج کر رکھا ہے،ہر کوئی یہی کہے گا فیصلہ چیلنج ہونے کے باوجود ان پر عمل کریں،صدر مملکت کبھی میڈیا ٹرائل نہیں کرواتے یہ خود ہو جاتا ہے، بہتر ہو گا ان باتوں پر نہ جائیں، عدالت جس سماعت کے لیے بیٹھی ہے اس سے بات دوسری طرف جاچکی ہے، ہمیں کمنٹری سننے پر مجبور نہ کریں، آپ بات اسطرح لے گئے ہیں کہ حکومت نے آپ کی تضحیک کی۔ فائز عیسیٰ نے جسٹس بندیال سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ آج میرا ٹرائل ہو رہا ہے، کل آپ بھی میری جگہ ہوسکتے ہیں، صرف میری ہی نہیں، باقی تمام ججز کی بھی فائلیں تیار ہیں۔میرے خلاف شکایت کنندہ عبدالوحید ڈوگر نے یوٹیوب پر اعتراف کیا وہ ایک ٹاوٹ ہے، عبدالوحید ڈوگر نے کہا کہ وہ حساس ادارے کا ٹاؤٹ ہے۔جسٹس عمرعطا بندیال نے اس پر کہا کہ قاضی صاحب ہر انسان کی اپنی رائے ہوتی ہے، ایک بندے سے سن کر اگلا بندہ بتاتے ہوئے آدھی بات بھول جاتا ہے، امریکا میں عدالتی کاروائی براہ راست نہیں بلکہ ریکارڈ رکھا جاتا ہے۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے کہا کہ ہم امریکا کے غلام نہیں، نہ ہی ان کے پیچھے چلنے کے پابند ہیں، ہمارے پاس ایمان کی طاقت ہے، ہمارا رہنما قائد اعظم محمد علی جناح ہے، امریکا میں عوام کے حقوق جس انداز میں دیے جاتے ہیں وہ سب جانتے ہیں۔جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے عدالت کو بتایا کہ ریفرنس پر کوئی بیان جاری نہیں کیا، خبرحکومت نے لیک کی، مزید 3 سال بینچ میں رہنے یا پینشن لینے میں کوئی دلچسپی نہیں، میری دلچسپی صرف عدلیہ کی عزت اور احترام میں ہے، اسے بطور فائز عیسیٰ کیس نہ دیکھیں، یہ عدلیہ کے وقار کا معاملہ ہے۔جسٹس عمرعطا بندیال نے ریمارکس میں کہا کہ تاثر ہمیشہ حقیقت سے مختلف ہوتا ہے جس کے بعد عدالت نے جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نظرثانی درخواست کی سماعت ایک دن کیلئے ملتوی کر دی

Leave a Comment