سمرقند کے فتح کا جوش

سمرقند کے فتح کا جوش

بی کیونیوز! فتح کے جوش میں قتیبہ بن مسلم ایک غلطی کر بیٹھے۔ انھوں نے جہ-اد کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا۔ اصول یہ تھا کہ حم-لہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔ جب یہ بے اصولی ہوئی، تو اس وقت زمام خلافت حضرت عمر بن عبدالعزیز کے ہاتھ میں تھی۔ سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبہ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے خلیفہ وقت کو ایک قاصد کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔ قاصد نے دمشق پہنچ کر ایک عالی شان عمارت دیکھی

جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔ یہ دیکھ کر اس نے لوگوں سے پوچھا۔ “کیا یہ بادشاہ کی رہائش ہے؟” لوگوں نے حیرت سے اسے دیکھا اور پھر کہا۔ “یہ تو مسجد ہے اور تو نماز نہیں پڑھتا کیا ؟” ” نہیں۔۔۔! میں تو اھلِ سمرقند کے دین کا پیروکار ہوں۔ “یہ سن کر لوگوں اسے خلیفہ کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔ قاصد لوگوں کے بتائے ہوئے راستہ پر چلتے خلیفہ کے گھر جا پہنچا، تو کیا دیکھتا ہے کہ ایک شخص دیوار سے لگی سیڑھی پر چڑھ کر چھت کی لپائی کر رہا ہے اور نیچے کھڑی ایک عورت گارا اُٹھا کر اُسے دے رہی ہے۔ یہ دیکھ کر وہ جس راستے سے آیا تھا، واپس اسی راستے سے ان لوگوں کے پاس جا پہنچا، جنہوں نے اسے راستہ بتایا تھا۔ اس نے لوگوں سے کہا۔ ” میں نے تم سے حاکم کے گھر کا پتا پوچھا تھا نہ کہ اس مفلوک الحال شخص کا، جس کے گھر کی چھت بھی ٹوٹی ہوئی ہے۔ ” لوگوں نے کہا۔ ” ہم نے تجھے پتا ٹھیک ہی بتایا تھا، وہی حاکم کا گھر ہے۔” قاصد نے بے دلی سے دوبارہ اسی گھرپر جا کر دستک دی۔ جو شخص کچھ دیر پہلے تک لپائی کر رہا تھا، وہی اند ر سے نمودار ہوا۔ “میں سمرقند کے پادری کی طرف سے بھیجا گیا قاصد ہوں۔” اس نے اپنا تعارف کرایا اور خط حاکم کو دے دیا۔ اس شخص نے خط پڑھ کر اُسی خط کی پشت پر ہی لکھا۔ “عمر بن عبدالعزیز کی طرف سے سمرقند میں تعینات اپنے عامل کے نام! ایک قاضی کا فوری طور پر تقرر کرو، جو پادری کی شکایت سنے۔ ” پھر مہر لگا کر خط واپس قاصد کو دے دیا۔ قاصد وہاں سے چل تو دیا، مگر وہ اپنے آپ سے باتیں کر رہا تھا۔ “کیا یہ وہ خط ہے، جو مسلمانوں کے اس عظیم لشکر کو ہمارے شہر سے نکالے گا؟” سمرقند لوٹ کر قاصد نے خط پادری کو تھمایا، جسے پڑھ کر

پادری کو بھی اپنی دنیا اندھیر ہوتی دکھائی دی۔ خط تو اسی کے نام لکھا ہوا تھا، جس سے انھیں شکایت تھی۔ انھیں یقین تھا کاغذ کا یہ ٹکڑا انھیں کوئی فائدہ نہیں پہنچا سکے گا، مگر پھر بھی خط لے کر مجبوراً اس حاکمِ سمرقند کے پاس پہنچے، جس کے فریب کا وہ پہلے ہی شکار ہو چکے تھے۔ حاکم نے خط پڑھتے ہی فوراً ایک قاضی کا تقرر کر دیا، جس کا نام جمیع تھا۔ وہ سمرقندیوں کی شکایت سننے کے لیے تیار ہوگیا۔ موقع پر ہی عدالت لگ گئی۔ ایک چوب دار نے قتیبہ کا نام کسی لقب و منصب کے بغیر پکارا۔ قتیبہ اپنی جگہ سے اُٹھ کر قاضی کے رو برو اور پادری کے ساتھ ہو کر بیٹھ گیا۔ قاضی نے سمرقندی سے پوچھا۔ ” کیا دعویٰ ہے تمھارا؟ ” پادری نے کہا۔ ” قتیبہ نے کسی پیشگی اطلاع کے بغیر پر حم-لہ کیا، نہ تو اِس نے ہمیں اسلام قبول کرنے کی دعوت دی تھی اور نہ ہی ہمیں کسی سوچ و بچار کا موقع دیا تھا۔ ” قاضی نے قتیبہ کو دیکھ کر پوچھا۔ ” کیا کہتے ہو تم اس دعویٰ کے جواب میں؟ ” قتیبہ نے کہا ۔ ” قاضی صاحب! جن-گ تو ہوتی ہی فریب اور دھوکا ہے۔ سمرقند ایک عظیم ملک تھا، اس کے قرب و جوار کے کمتر ملکوں نے نہ تو ہماری کسی دعوت کو مان کر اسلام قبول کیا تھا اور نہ ہی جزیہ دینے پر تیار ہوئے تھے، بلکہ ہمارے مقابلے میں جن-گ کو ترجیح دی تھی۔ سمرقند کی زمینیں تو اور بھی سر سبز و شاداب اور زور آور تھیں، ہمیں پورا یقین تھا کہ یہ لوگ بھی لڑنے کو ہی ترجیح دیں گے، ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا اور سمرقند پر قبضہ کر لیا۔ ” قاضی نے قتیبہ کی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے دوبارہ پوچھا۔ ” قتیبہ ! میری بات کا جواب دو، تم نے ان لوگوں کو اسلام قبول کرنے کی دعوت، جزیہ یا پھر جن-گ کی خبر دی تھی ؟ ” قتیبہ نے کہا ۔ ” نہیں

قاضی صاحب ! میں نے جس طرح پہلے ہی عرض کر دیا ہے کہ ہم نے موقع سے فائدہ اُٹھایا تھا۔ ” قاضی نے کہا. ” میں دیکھ رہا ہوں کہ تم اپنی غلطی کا اقرار کر رہے ہو، اس کے بعد تو عدالت کا کوئی اور کام رہ ہی نہیں جاتا۔ قتیبہ ! اللہ تعالیٰ نے اس دین کو فتح اور عظمت تو دی ہی عدل و انصاف کی وجہ سے ہے نہ کہ دھوکا دہی اور موقع پرستی سے۔ میری عدالت یہ فیصلہ سناتی ہے کہ تمام مسلمان فوجی اور ان کے عہدہ داران مع اپنے بیوی بچوں کے، اپنی ہر قسم کی املاک، گھر اور دکانیں چھوڑ کر سمرقند کی حدوں سے باہر نکل جائیں اور سمر قند میں کوئی مسلمان باقی نہ رہنے پائے۔ اگر ادھر دوبارہ آنا بھی ہو، تو کسی پیشگی اطلاع و دعوت کے بغیر تین دن کی اورسوچ و بچار کی مہلت دیے بغیر نہ آیا جائے۔ ” پادری جو کچھ دیکھ اور سن رہا تھا ، وہ ناقابل یقین بلکہ ایک مذاق اور تمثیل نظر آ رہا تھا۔ چند لمحوں کی یہ عدالت، نہ کوئی گواہ اور نہ ہی دلیلوں کی ضرورت اور تو اور قاضی بھی اپنی عدالت کو برخاست کرکے قتیبہ کے ساتھ ہی اُٹھ کر جا رہا تھا۔ اور چند گھنٹوں کے بعد ہی سمرقندیوں نے اپنے پیچھے گرد و غبار کے بادل چھوڑتے لوگوں کے قافلے دیکھے، جو شہر کو ویران کر کے جا رہے تھے۔ لوگ حیرت سے ایک دوسرے سے سبب پوچھ رہے تھے اور جاننے والے بتا رہے تھے کہ عدالت کے فیصلے کی تعمیل ہو رہی تھی۔ اور اُس دن جب سورج ڈوبا ، تو سمرقند کی ویران اور خالی گلیوں میں صرف آوارہ کتے گھوم رہے تھے اور سمرقندیوں کے گھروں سے آہ و پکار اور رونے دھونے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں، انھیں ایسے لوگ چھوڑ کر جا رہے تھے جن کے اخلاق ، معاشرت، برتاؤ، معاملات اور پیار و محبت نے انھیں اور ان کے رہن سہن کو مہذب بنا دیا تھا۔ تاریخ گواہ ہے کہ سمرقندی یہ فراق چند گھنٹے بھی برداشت نہ کر پائے، اپنے پادری کی قیادت میں لا الٰہ الاّ اللہ محمّد الرّسول اللہ کا اقرار کرتے مسلمانوں کے لش-کر کے پیچھے روانہ ہوگئے اور انھیں واپس لے آئے۔ اور یہ سب کیوں نہ ہوتا، کہیں بھی تو ایسا نہیں ہوا تھا کہ فاتح لشکر اپنے ہی قاضی کی کہی دو باتوں پر عمل کرے اور شہر کو خالی کردے۔ دینِ رحمت نے وہاں ایسے نقوش چھوڑے کہ سمرقند ایک عرصہ تک مسلمانوں کا دارالخلافہ بنا رہا۔

Leave a Comment