سورۃ اخلاص میں اللہ تعالیٰ کی صفت

سورۃ اخلاص میں اللہ تعالیٰ کی صفت

بی کیو نیوز! سورۃ اخلاص میں اللہ تعالیٰ کی صفت. انصارمیں ایک صاحب مسجد قبیٰ میں نماز پڑھاتے تھے، ان کا معمول تھا کہ وہ ہر رکعت میں پہلے سورۃ اخلاص پڑھتے، پھر اور کوئی سورۃ کی تلاوت فرماتے لوگوں نے اس بات پر اعتراض کیا کہ سورۃ اخلاص پڑھانے کے بعد اسے ناقافی سمجھتے ہوئے، اس کے ساتھ دوسری سورۃ مبارکہ کی تلاوت کرتے ہیں. یہ بات درست نہیں یا تو سورۃ اخلاص کو پڑھیں یااسے چھوڑ کر

کسی اور سورۃ کی تلاوت کریں۔ انہوں نے بڑے تحمل سے الزام کو سنا اور فرمایا میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا. تم کسی اورکو امام بنانا چاہو، تو تمہیں آزادی ہے۔ لوگوں کو انکی جگہ کسی اور کو امام بنانا منظور نہیں تھا۔ آخر یہ معاملہ آپﷺ کی عدالت پہنچا، تو آپﷺ نے دریافت فرمایا، کیا معاجرہ ہے؟ کیوں ان لوگوں کی بات کو نہیں مانتے ہو؟ تمہارے ساتھی جو چاہتے ہیں قبول کرلو. انہوں نے جواب میں عرض کی، اے اللہ کے رسول اللہ ﷺ مجھے اس سورۃ سے بہت محبت ہے میں اس کو نہیں چھوڑ سکتا۔ آپﷺ نے فرمایا کہ تمہاری اس محبت نے تمہیں جنت میں داخل کردیا۔ یہ واقعہ بخاری شریف حضرت انس ؓ سے مروی ہے۔ نبی کریمﷺ نے ایک شخص سورۃ اخلاص کی تلاوت کرتے ہوئے سن کر فرمایا کہ واجب ہوگئی ۔ حضرت ابو ہریرہ ؓ نے پوچھا کیا واجب ہوگئی؟ آپﷺ نے فرمایا، جنت اسی طرح مستند احمد کی ایک اور حدیث آپﷺ نے فرمایا جو شخص اس پوری سورۃ کو دس مرتبہ پڑھ لے گا، اللہ تعالیٰ اس کیلئے جنت میں ایک محل تعمیر کردے گا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا یا رسول اللہﷺ پھر تو ہم بہت سے محل بنوا لیں گے. آپﷺ نے فرمایا رب العالمین اس سے بھی زیادہ اور اس سے بھی اچھا دینے والا ہے۔ اسی طرح حضرت عائشہ صدیقہ ؓ کی یہ روایت بخاری مسلم اور دوسری قطب احادیث میں ہے کہ رسول اللہﷺ نے ایک صاحب کو ایک مہم میں سردار بنا کر بھیجا پورے سفر کے دوران ان کا یہ معمول رہا کہ نماز میں وہ سورۃ اخلاص پر قرات کا خاتمہ کرتے تھے۔ واپسی پر ان کے ساتھیوں نے آپﷺ سے اس کا ذکر کیا آپﷺ نے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ وہ ایسا کیوں کرتے ہیں؟ جب ساتھیوں نے استبصار کیا تو جواب ملا کہ اس سورۃ مبارکہ میں رحمٰن کی صفت

بیان کی گئی ہے۔ لہذا اس کا پڑھنا مجھ کو محبوب ہے۔ جب آپ کو یہ بات بتائی تو آپﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ان کو خبر دیدو کہ اللہ بھی انکو محبوب رکھتا ہے۔ اگر سوتے وقت یہ سورۃ پڑھی جائے تو انسان ہر شے سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ حضرت انس ؓ سے روایت ہے کہ آپﷺ نے فرمایا کہ تو سونے سے پہلے اگر سورۃ فاتحہ اور سورۃ اخلاص پڑھ لے م۔وت کے سوا ہر چیز سے محفوظ ہوجاتا ہے۔ اللہ کے کلام میں بہت ہی طاقت ہو تی ہے اور یہ ایمان ہر مسلمان کا ہے۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنھا سے روایت کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ایک شخص کو ایک چھوٹے لشکر کا سردار بنا کر بھیجا۔ وہ اپنے لوگوں کے ساتھ نماز میں قرآن کریم تلاوت کرتا تھا پھر آخر میں قل ھو اللہ احد پڑھتا تھا۔ لوگوں نے یہ بات حضرت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے عرض کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا اس شخص سے دریافت کرو وہ شخص کس وجہ سے اس طریقہ سے کرتا ہے؟ لوگوں نے اس شخص سے دریافت کیا تو اس شخص نے جواب دیا کہ سورت قل ھو اللہ احد میں اللہ کی صفت ہے اس وجہ سے مجھ کو اس سورت کا پڑھنا بہت عمدہ معلوم ہوتا ہے۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا تم اس سے کہہ دو کہ اللہ اسے دوست رکھتا ہے( ترجمہ سنن نسائی سے لیا گیا ہے )

Leave a Comment