سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کے فضائل

سورۃ البقرہ کی آخری دو آیات کے فضائل

بی کیو نیوز! اس حقیقت سے کوئی انسان انکار نہیں کر سکتا کہ دنیا میں ہر امیر غریب ، نیک و بد کو قانون قدرت کے تحت دکھوں، غموں اور پریشانیوں، بیماریوں سے کسی نہ کسی شکل میں ضرور واسطہ پڑتا ہے۔ سورہ البقرہ سے لے کر سورہ الناس تک کے روحانی و ظائف و عملیات ملاحظہ فرمائیں۔ روحانی بیماری کی مثال: نیک کاموں میں دل کا نہ لگنا، برے کاموں میں مزہ آنا جسمانی بیماری کی مثال: ہر طرح کے جسمانی اعذار جس میں کھانسی نزلے سے لیکر فالج کینسر تک کی بیماریاں شامل ہیں۔ سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں

اور بندش سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں امن الرسول سے آخر تک رات میں سوتے وقت پڑھا کریں اس لیے کہ جس گھر میں تین رات تک پڑھی جائیں شیطان اس کے قریب نہیں جاتا۔ (ترمذی ‘نسائی‘ ان حبان‘ حاکم ‘حصن حصین) حدیث شریف میں ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا اللہ تعالیٰ نے سورۃ بقرہ کو ایسی دو آیتوں پر مکمل فرمایا جنہیں اپنے اس خزانے سے مجھے دی ہیں، جو اس کے عرش کے نیچے ہے۔ انہیں خود ہی سیکھو اور اپنی عورتوں اور بچوں کو بھی سکھاؤ کیونکہ یہ آیتیں رحمت ہیں، قرآن اور دعا ہیں۔ (حاکم ‘حصن حصین) حضرت ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص سورۃ بقرہ کی آخری دو آیتیں کسی رات پڑھ لے تو یہ دونوں آیتیں اس کے لیے ہو جائیں گی۔ (ترمذی ، حدیث نمبر:۱۸۸۲) یاد رہے کہ سورہ بقرہ کی آخری دو آیتوں کی فضیلت کے متعلق بے شمار احادیث ہیں ایک موقع پر آپﷺ نے ارشاد فرمایا اللہ تعالیٰ نے زمین و آسمان پیدا کرنے سے دو ہزار سال پہلے ایک تحریر لکھی تھی جس کی دو آیتوں سے سورہ بقرہ کو ختم کیا گیا۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ رات کو عشاء کے بعد اور سونے سے پہلے جو شخص ان دو آیتوں کو پڑھ لے گا اس کو تہجد کے برابر ثواب ہوگا گویا اس کوایسا ثواب ملا جیسے کہ اس نے تہجد کی نماز ادا کی۔ کتنی عظیم ہے یہ فضیلت کہ تہجد ادا کئے بغیر تہجد کا ثواب حاصل ہوجائے۔ یاد رہے کہ یہ اللہ رب العالمین کا یہ فضل عظیم ہے کہ اس نے اپنے بندوں کو اپنی رحمت و مغفرت کے لئے ایسے آسان اسباب مہیا کئے ہیں اور سورہ بقرہ کی یہ دو آخری آیات بھی انہی اسباب میں سے ہیں۔

Leave a Comment