سورۃ الملک کی فضیلت، رسول اکرمﷺ نے فرمایا قرآن کریم میں ایک سورۃ ہےجواپنے پڑھنے والےکےبارے میں ج-ھ-گ-ڑا کرے گی یہاں تک کہ اسےجنت میں داخل کرادے گی

سورۃ الملک کی فضیلت، رسول اکرمﷺ نے فرمایا قرآن کریم میں ایک سورۃ ہےجواپنے پڑھنے والےکےبارے میں ج-ھ-گ-ڑا کرے گی یہاں تک کہ اسےجنت میں داخل کرادے گی

بی کیو نیوز! سورۃ الملک کی فضیلت، رسول اکرمﷺ نے فرمایا قرآن کریم میں ایک سورۃ ہےجواپنے پڑھنے والےکےبارے میں ج-ھ-گ-ڑا کرے گی یہاں تک کہ اسےجنت میں داخل کرادے گی، حضرت سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا بیشک قرآن میں تیس آیتوں پر مشتمل ایک سورۃ ہے، جو اپنے  قرات کرنیوالےکے لیے شفاعت کرتی رہے گی۔ یہاں تک کہ اس کی مغفرت کردی جاے گی

اوریہ تَبَارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ہے۔ سنن الترمذی، حضرت سیدنا انس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا : قرآن کریم میں ایک سورۃ ہے جو اپنے پڑھنے والے کے بارے میں ج-ھ-گ-ڑا کرے گی، یہاں تک کہ اسے جنت میں داخل کرادے گی اور وہ یہی سورہ ملک ہے ۔ الدر المنثور حضرت سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ جب بندہ ق-ب-ر میں جائے گا، توع-ذاب اس کے قدموں کی جانب سے آئے گا،  تو اس کے قدم کہیں گے، تیرے لیے میری طرف سے کوئی راستہ نہیں، کیونکہ یہ رات میں سورۂ ملک پڑھا کرتا تھا، پھر عذاب اس کے سینے یاپیٹ کی طرف سے آئے گا، تو وہ کہے گا کہ تمہارے لئے میری جا نب سے کوئی راستہ نہیں، کیو نکہ یہ رات میں سورۂ ملک پڑھا کرتا تھا، پھر وہ اس کے سر کی طرف سے آئے گا، تو سر کہے گاکہ تمہارے لئے میری طرف سے کوئی راستہ نہیں، کیو نکہ یہ رات میں سورۂ ملک پڑھا کرتا تھا، تو یہ سورۃ روکنے والی ہے، ع ذا ب ق-ب-ر سے روکتی ہے، اس کا نام سورۂ ملک ہے جو اسے رات میں پڑھتا ہے بہت زیادہ اوراچھا عمل کرتا ہے۔ المستدرک۔ سورہ ملک کے برابر ع-ذا-ب ق-ب-ر سے بچانے والی اور کوئی چیز نہیں، اگر اس کے پڑھنے والے کے پاس ع-ذا-ب کے فرشتےآنا چاہیں تو یہ ان کو روکتی ہے، وہ دوسری طرف سے آنا چاہیں، تو وہاں حائل ہوجاتی ہے اور فرماتی ہے کہ اس کے پاس مت آؤ، یہ میری تلاوت کرتا تھا۔ فرشتے عرض کرتے ہیں کہ ہم اللہ کے حکم سے ہی آئے ہیں، جسں کا تو کلام ہے۔ تو فرماتی ہے کہ رکو، جب تک میں واپس نہ آؤں، تب تک اس کے قریب نہ آنا، اور بارگاہ الٰہی میں حاضر ہو کر اپنے پڑھنے والے کی مغفرت کے لیے ایسا ج ھ گ ڑا کرتی ہے، کہ

مخلوق میں سےکسی کو ایسا ج ھ گ ڑاکرنےکی طاقت ہی نہیں، وہ فورا جنت میں جاتی ہے اور وہاں سے ریشمی کپڑے ،آرام دہ تکیے ، پھول اور خوشبوئیں لے کر قبر میں آتی ہے اور فرماتی ہےمجھے آنے میں دیر ہوئی تو گھبرایا تو نہیں۔ پھر بچھونے بچھاتی اور تکیہ لگاتی ہے۔ فرشتے بحکم رب العلمین واپس جاتے ہیں۔ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک صحابی رضی اللہ تعا لیٰ عنہ نے ایک ق-ب-ر پر اپنا خیمہ لگایا، مگر انہیں علم نہ تھاکہ یہاں ق-ب-ر ہے، لیکن بعد میں پتاچلا کہ وہاں کسی شخص کی ق-ب-رہے، جو سورۂ ملک پڑھ رہا ہے اور اس نے پوری سورۃ ختم کی، وہ صحابی رضی اللہ تعالیٰ عنہ بار گاہ رسالت ﷺ میں حاضر ہوئے اورعرض کیا یارسول اللہ ﷺ میں نے ایک ق-ب-ر پر خیمہ تان لیا، مگر مجھے معلوم نہ تھا کہ وہاں ق-ب-رہے، جبکہ وہاں ایک ایسے شخص کی ق ب ر ہے۔ جو روزانہ پوری سورۃ الملک پڑھتا ہے۔ تو رسول ﷺ نے فرمایا یہی روکنے والی ہے، یہی نجات دلا نے والی ہے، جس نے اسے ع-ذا-ب ق-ب-ر سے محفوظ رکھا۔ سنن ترمذی۔  حضور نبی اکرم ﷺ کا فر مان عا لی شان ہے کہ میر ی خواہش ہے کہ تَبارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ہر مومن کے دل میں ہو۔ کنزالعمال۔ چاند دیکھ کر اس سورۃ کو پڑھنے والا انشاءاللہ مہینے کے تیس دنوں تک سختیوں سے محفوظ رہے گا، اس لئے کہ یہ تیس آیتیں ہیں اور تیس دن کے لئے کافی ہیں۔ تفسیر روح المعانی۔ حضرت سیدنا ابن عباس رضی اللہ تعا لیٰ عنہما فرماتے ہیں کہ آقا ﷺ نے ارشاد فرمایا  بے شک میں قرآن میں 30 آیات کی ایک سورۃ پا تا ہوں، جو شخص سوتے وقت اس کی تلاوت کرے، اس کے لئے 30 نیکیاں لکھی جائیں گی اوراس کے 30گناہ مٹائے جائیں گے اوراس کے 30 درجات

بلند کئے جائیں گے، اللہ رب العزت اپنے فرشتوں میں سے ایک فرشتہ اس کی طرف بھیجے گا، تا کہ وہ اس پر اپنے پربچھا دے اور اس کی ہر چیزسے جاگنے تک حفاظت کرے اور یہ مجادلہ یعنی جھگڑاکرنے والی ہے، اپنے پڑھنے والے کی مغفرت کے لئے ق ب ر میں ج ھ گ ڑا کرے گی، اور یہ تَبارَکَ الَّذِیْ بِیَدِہِ الْمُلْکُ ہے۔ الدر المنثور۔ سرکارمدینہ منورہ ،سردار مکہ مکرمہ ﷺ رات کو آرام فرمانے سے پہلے سورۃ الملک او ر الم تنزیل ،السجدہ تلاوت فرماتے تھے۔ تفسیرروح البیان۔

Leave a Comment