شادی کےمسائل، نوکری کے اسباب، دل کےسکون اور عزت آبرو میں ترقی کے لیے اللہ کے اس نام کا وظیفہ کریں

شادی کےمسائل، نوکری کے اسباب، دل کےسکون اور عزت آبرو میں ترقی کے لیے اللہ کے اس نام کا وظیفہ کریں

بی کیونیوز! جاب کے معاملات میں عزت آبرو سے ترقی اور دل کے سکون کے لئے تسبیح یامالک القدوس روزانہ تین سو تیرہ بار پڑھا کریں دل میں۔ اول آخر درود پاک لازمی پڑھیں۔ سر آپ کی دی ہوئی تسبیح سے میرے دن واقعی تبدیل ہونا شروع ہوگئے ہیں۔ اللہ نے مجھے یقین کی دولت عطا کردی ہے اور میری شادی کے اسباب پیدا ہونے لگے ہیں، جاب میں بھی اب سکون آگیا ہے۔ ترقی بھی ہوگئی ہے۔ زندگی میں قرارسا لوٹ آیا ہے۔ باوضو رہتی ہوں، نماز کی شروع سے پابند ہوں مگردنیاوی مسائل کی وجہ سے

یقین ڈانوا ڈول رہتا تھا تیسرا کلمہ کی تسبیح جیسے آپ نے بیان کی تھی ویسے پڑھنا شروع کی تو یقین کامل ہوگیا۔ رشتہ بھی اچھا آگیا ہے، استخارہ کرکے بتا دیں کہ کیا یہ رشتہ مناسب رہے گا۔ میں نے اب اللہ سے وعدہ کیا ہے کہ یہ تسبیح جو اب آپ بتائیں گے ہر نماز کے بعد پڑھوں گی اور ہر سال اپنی ایک تنخواہ کسی غریب کو دوں گا۔ ہر مہینے ایک روزہ بھی رکھوں گی اور اعتکاف پر بھی بیٹھا کروں گی۔ اللہ تبارک تعالیٰ نے اتنا دیا ہے کہ اس کا شکر ادا جتنا کروں کم ہوگا۔ اللہ آپ کو جزا دے ۔(منزہ بٹ ،کراچی ) میری بہن آپ کی میل تفصیل سے پڑھی اور عاجز نے اللہ تبارک تعالیٰ کا بے حد و بے حساب شکر ادا کیا ہے کہ آپ کی مشکلات کا دور ختم ہواہے۔ استخارہ کے مطابق یہ رشتہ مناسب ہے، اللہ کا نام لیں، بہر حال دنیاوی تقاضوں کے مطابق اپنی تسلی خود کیجئےیاد رکھیں، جو خلوص دل سے اللہ کا ذکر جاری ساری رکھتے ہیں، اللہ تبارک تعالیٰ ان پر راستے آسان فرماتے ہیں۔ نیت میں خالص ہونے اور یقین محکم سے انسان کامل ہوجاتا ہے۔ یہی آپ نے کیا اور منزل کی طرف راستہ کھل گیا۔ یہ بہت بڑی نعمت ملی ہے آپ کو۔ حجر اسود کا عجیب تاریخی واقعہ،، 7 ذی الحجہ 317ھ کو بحرین کے حاکم ابو طاہر سلیمان قرامطی نے مکہ معظمہ پر قبضہ کر لیا خوف وہراس کا یہ عالم تھا کہ اس سال 317ھ کو حج بیت اللہ شریف نہ ہو سکا کوئی بھی شخص عرفات نہ جا سکا۔ انا للہ و انا الیہ راجعون۔ یہ اسلام میں پہلا موقع تھا کہ حج بیت اللہ موقوف ہو گیا۔ اسی ابو طاہر قرامطی نے حجر اسودکو خانہ کعبہ سے نکالا اور اپنے ساتھ بحرین لے گیا۔ پھر بنو عباس کے خلیفہ مقتدر باللہ نے ابو طاہر قرامطی کے ساتھ فیصلہ کیا اور تیس ہزار دینار دے دیے۔ تب حجر اسود خانہ کعبہ کو

واپس کیا گیا۔ یہ واپسی 339ھ کو ہوئی، گویا کہ 22 سال تک خانہ کعبہ حجر اسود سے خالی رہا۔ جب فیصلہ ہوا کہ حجر اسود کو واپس کیا جائے گا تو اس سلسلے میں خلیفہ وقت نے ایک بڑے عالم محدث شیخ عبداللہ کو حجر اسود کی وصولی کے لیے ایک وفد کے ساتھ بحرین بھجوایا۔ یہ واقعہ علامہ سیوطی کی روایت سے اس طرح نقل کیا گیا ہے کہ جب شیخ عبداللہ بحرین پہنچ گئے تو بحرین کے حاکم نے ایک تقریب کا اہتمام کیا جس میں حجر اسود کو ان کے حوالہ کیا گیا تو ان کے لیے ایک پتھر خوشبودار۔ خوبصورت غلاف میں سے نکالا گیا کہ یہ حجراسود ہے اسے لے جائیں۔ محدث عبداللہ نے فرمایا کہ نہیں بلکہ حجر اسود میں دو نشانیاں ہیں اگر یہ پتھر اس معیار پر پورا اترا تو یہ حجر اسود ہوگا اور ہم لے جائیں گے۔ پہلی نشانی یہ کہ پانی میں ڈوبتا نہیں ہے دوسری یہ کہ آگ سے گرم بھی نہیں ہوتا

Leave a Comment