شبِ برأت میں صحابہ کرام کے معمولات زندگی

شبِ برأت میں صحابہ کرام کے معمولات زندگی

بی کیونیوز! شبِ برأت اور صحابہ کرام کے معمولات زندگی: شبِ برأت ایک انتہائی فضیلت و بزرگی والی رات ہے۔ اس رات کے متعلق تقریباً دس جلیل القدر صحابۂ کرام: (1) حضرت ابوبکر، (2) حضرت علی المرتضیٰ، (3) حضرت عائشہ صدیقہ، (4) حضرت معاذ بن جبل، ذیل میں شبِ برأت کے حوالے سے چند ایک صحابہ کرام کے اقوال اور ان کے معمولات کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام فرماتے ہیں: يُعْجِبُنِي أَنْ يُفَرِّغَ الرَّجُلُ نَفْسَهُ فِي أَرْبَعِ لَيَالٍ: لَيْلَةُ الْفِطْرِ، وَلَيْلَةُ الأَضْحٰی، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ. (ابن جوزی، التبصرة، 2/ 21) ’’مجھے یہ بات پسند ہے کہ

ان چار راتوں میں آدمی خود کو (تمام دنیاوی مصروفیات سے عبادت الٰہی کے لیے) فارغ رکھے۔ (وہ چار راتیں یہ ہیں:) عید الفطر کی رات، عید الاضحی کی رات، شعبان کی پندرہویں رات اور رجب کی پہلی رات۔‘‘ حضرت طاؤوس یمانی فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت امام حسن بن علی رضی اللہ عنہما سے پندرہ شعبان کی رات اور اس میں عمل کے بارے میں پوچھا تو آپ نے ارشاد فرمایا: ’’میں اس رات کو تین حصوں میں تقسیم کرتا ہوں: ایک حصے میں اپنے نانا جان ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) پر درود شریف پڑھتا ہوں دوسرے حصے میں اللہ تعالیٰ سے اِستغفار کرتا ہوں اور تیسرے حصے میں نماز پڑھتا ہوں۔ میں نے عرض کیا: جو شخص یہ عمل کرے اس کے لیے کیا ثواب ہوگا۔ آپ نے فرمایا: میں نے حضرت علی g سے سنا اور انہوں نے حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے سنا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: ’’اسے مقربین لوگوں میں لکھ دیا جاتا ہے۔‘‘ (سخاوی، القول البديع، باب الصلاة عليه فی شعبان: 207) حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: خَمْسُ لَيَالٍ لَا يُرَدُّ فِيهِنَّ الدُّعَاءُ: لَيْلَةُ الْجُمُعَةِ، وَأَوَّلُ لَيْلَةٍ مِنْ رَجَبٍ، وَلَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ، وَلَيْلَةُ الْعِيْدِ وَلَيْلَةُ النَّحْرِ. (بيهقی، شعب الايمان، 3/ 342) ’’پانچ راتیں ایسی ہیں جن میں دعا رد نہیں ہوتی: جمعہ کی رات، رجب کی پہلی رات، شعبان کی پندرہویں رات، عید الفطر کی رات اور عید الاضحی کی رات۔‘‘ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: اس رات میں ایک سال سے دوسرے سال تک دنیا کے معاملات کی تقسیم کی جاتی ہے۔‘‘ (طبری، جامع البيان، 25/ 109)

Leave a Comment